ماں کے لاڈلے - گلناز فیروز خان

میں اپنے چچا کے ہمراہ کل رات نارتھ ویسٹ ہسپتال جا رہی تھی۔ شہر خاموش پڑا تھا۔ وہ شہر جو صبح کے وقت ہزاروں مزدوروں کو اپنے دل میں جگہ دیتا ہے، ابھی خود سو چکا تھا۔ کپکپاتی سردی دلوں کو چیر رہی تھی تو دوسری طرف رات بھی اب و تاب پر تھی۔ خاموشی نے پورے شہر کو اپنے لپیٹ میں لے لیا تھا۔ تاریکی آسمان کے وسعتوں کو چوم رہی تھی۔ ہر طرف خاموشی بانہیں پھیلا چکی تھی۔ خیر ہم جیسے تیسے ہسپتال پہنچے۔

ڈاکٹر نیاز علی اپنے دوسرے مریضوں کے ساتھ تھے۔ انکل کی سرجری ہوئے دوسرا مہینہ ہے، اس لیے ہم محض چیک اپ کے لیے گئے تھے۔ تقریبا گھنٹہ انتظار کے بعد ہماری باری آئی۔ چند منٹ باتیں ہوئیں، پھر دو تین ٹیسٹ کروائے اور ڈاکٹر صاحب نے کچھ ضروری ہدایات دیں۔ اب ہم فارغ ہو چکے تھے۔

ہسپتال سے پارکنگ کی طرف آرہے تھے تو ایک خوبصورت جوان جو چہرے سے لگ بھگ بائیس سے پچیس سال کا لگ رہا تھا، میری گاڑی کے ساتھ زمین پر بیٹھا تھا۔ اتنی سردی تھی کہ میں سویٹر میں سردی کی شدت محسوس کر رہی تھی مگر وہ دنیا و مافیا سے بے خبر ہاتھ میں سگریٹ لیے بیٹھا تھا۔ انکل نے میری طرف دیکھ کر کہا کہ یہ پوڈری ہے۔ ہیروئن وغیرہ لے رہا ہے۔ میں بہت افسردہ ہوئی اور گاڑی کی طرف بڑھی۔ خیر ہم محو سفر ہوئے۔ ابھی پارکنگ سے نکلی ہی تھی کہ ایک نوجوان گاڑی کے سامنے آیا اور بہت عاجزی سے مجھ سے کچھ پیسے مانگنے لگا۔ میرے پاس پچاس روپے تھے، دے دیے۔ جوں جوں میں نے نظر دوڑائی، تو صرف کتوں کو اور فٹ پاتھ پر ایسے بہت سے نوجوانوں کو پایا جو اپنی ہی دنیا میں مست تھے۔

میں نے انکل سے پوچھا، چچا یہ لوگ کیوں ڈرگ لے رہے ہیں؟ کیا یہ لوگ بھی ساغر صدیقی کی طرح شاعر ہیں؟ محبوب کی بیوفائی کی وجہ سے یہ لوگ خود کو اذیت دے رہے ہیں؟ یا کسی اور صدمے کی وجہ سے یہ لوگ اپنی زندگی کو خود پر مختصر کر رہے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   والدین اور بیوی میں اختلاف کی صورت کس کی مانے؟ - حافظ محمد زبیر

وہ کہنے لگے، بیٹا! یہ ماں کے لاڈلے بچے ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جن کو ماں سردی کی وجہ سے سکول نہیں بھیجتی تھیں۔ بارش کی وجہ سے یہ لوگ مکتب سے غیر حاضر ہوتے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پانچ چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی ماؤں نے منت سماجت کر کر کے ان کو اللہ سے مانگا۔ میں ان کی بات سمجھ چکی تھی۔

حیات آباد رات کو بہت پر خوف اور خاموش منظر پیش کر رہا تھا۔ سڑک بالکل سنسان تھی مگر جگہ جگہ پر چادر اوڑھے نوجوان کسی ضروری مقصد کے لیے دنیا کو چھوڑ کر ایک کونے میں بیٹھے تھے۔ نشے میں ایسے غرق کہ نہ رات کا خوف تو نہ ہی سردی کاکوئی احساس۔ میں خود اس سوچ میں گم تھی کہ پتہ نہیں یہ لوگ کیوں اپنی زندگی کو برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ بھی کسی کے بیٹے ہوں گے تو کسی کے بھائی۔ ان کو تو چھوڑیں، ان کی ماؤں پر کیا بیت رہی ہوگی؟ ان کی بہنیں کیا سوچیں گی کہ ان کے بھائی کدھر ہیں؟ کیا ان کے گھر کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوتے ہیں؟ کیا ان کے لیے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے جیسے ہم اپنے بھائیوں کے لیے کرتی ہیں؟ کیا ان کے لیے گرم بستر بچھائے جاتے ہیں؟ کیا ان کے والدین ان کو مس نہیں کرتے کیا کبھی یہ لوگ گھر بھی آتے ہیں؟ اگر آتے ہیں تو کیا کوئی مضبوط حوصلے والی بہن ان کو بھائی کہہ کر پکارتی ہے؟ ان کی ماں کیا جی بھر کر اپنے لخت جگر کو دیکھ لیتی ہے؟ کیا ان کے تذکرے کیے جاتے ہیں؟