سیکولر ازم نے ’جمہوریت‘ کو مات دے دی - ابو انصار علی

جو لوگ بھی سیکولر ازم، لبرل ازم اورکیپٹل ازم کے گٹھ جوڑ سے واقف ہیں، وہ ہماری تحریر کی ’سرخی‘ سے یقیناً لطف انداز ہوں گے، لیکن ہم کیا کریں، سچ کو ایسا لباس پہنانا، جس سے وہ پورا پورا نظر آئےاور پہچانا بھی جائےضروری عمل ہے۔ عوامی جمہوریہ بنگلادیش کےگزشتہ 2 انتخابات (5جنوری 2014ء اور 30 دسمبر 2018ء) نے سیکولرازم اور جمہوریت کے چہرے سے نقاب نوچ لیے، بلکہ یوں کہاجائے تو زیادہ درست لگتا ہے، ’خیرہ ہوئی ہے آنکھ حقیقت کو دیکھ کر ‘۔۔

الیکشن جمہوریت کی پہلی سیڑھی ہیں، انتخابی میدان میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے گروہ اترتے ہیں، اس کی شفافیت کو یقینی بنانا الیکشن کمیشن اور حزب اقتدار کے لوگوں کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے جبکہ ثانوی مگر یکساں ذمہ داری اپوزیشن گروہ پر آتی ہے، اسے انتخابات پر سوالیہ نشان لگنا یقینی ہے، جس میں اپوزیشن کو مکمل طور سے دیوار سے لگادیا جائے، جیسا بنگلادیش کے سابقہ 3 انتخابات میں اچھے سے اور پچھلے 2 میں بہت ہی اچھے سے دیکھنےمیں آئے۔

2014ء کے انتخابات میں اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتوں نے بائیکاٹ کیا، عوامی لیگ نے 300 میں سے 153 نشستیں بغیر لڑے ہی جیت لیں، اپوزیشن کو پورا موقع دیے بغیر، انتخابی شفافیت کو یقینی بنائے بغیر ہونے والے انتخابات پر ( ملکی و غیر ملکی) سیکولر قیادت و اہل دانش نے کوئی سوال نہ اٹھایا بلکہ ہر جانب خوشیاں منائی گئیں، بھارت، امریکا سمیت سیکولر ممالک نے حسینہ واجد کی حکومت کو گزشتہ 10 سال خوب معاونت فراہم کی ،دنیا بھر کے لگ بھگ تمام ہی سیکولر دانشوروں نے اس کےہر اقدام کو سراہا،بلکہ اس حکومت کی غیر قانونی اقدامات ،اپوزیشن جماعتوں کےسیاسی رہنماوں کو سزاؤں کےحق میں خوب لکھتے بھی رہے۔

71 سالہ حسینہ واجد نے اس دوران سیکولر ازم کا بول بالا کرنے کےلیے اپنے ہر اس مخالف کو کچل ڈالا، جس سے انہیں خطرے کی بوآئی۔ اس معاملے میں انہوں نے انسانی حقوق بھی کچل ڈالے، جن کا ہمارے سیکولر اہل دانش بڑا چرچا کرتے ہیں، لیکن انہوں نے اس پر ’اف‘ تک نہ کی۔ ہم یقینی طور پر سیکولر اہل سیاست اور اہل دانش سے درست رپورٹنگ اور سچ پر مبنی مؤقف کی امید نہیں رکھتے، کیونکہ انہیں جب بھی لگتا ہے کسی بھی عمل سے سیکولر ازم کے سوا کسی کا بھی بھلا ہور ہا ہے، وہ فوراً گرگٹ کی طرح رنگ بدل لیتے ہیں، الجزائر کے انتخابی نتائج، مصر میں مرسی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹے جانے اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی حکومت کے خلاف ناکام بغاوت اس کی بڑی مثال ہیں، چھوٹی مثالوں کی تعداد ہی بےشمار ہے۔

ا ب یہی دیکھیں لیں۔ 2018ء کے انتخابات سے کچھ ماہ پہلے ہی بنگلادیش کی سابق حکمران جماعت بنگلادیش نیشنل پارٹی کی سربراہ 73 سالہ خالدہ ضیا کو 17 سال قید کی سزا سنا دی، اس سے قبل وہاں کی تیسری بڑی جماعت جماعت اسلامی کی صف اول کی قیادت کو ایسے ٹرائل سے گزارا، جس کی شفافیت پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی انگلی اٹھائی تھی، اور انہیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا ،بلکہ اسے الیکشن لڑنے کے جمہوری حق تک سے محروم کردیا گیا، لیکن ہمارے سیکولر اہل دانش تب بھی’مدہوشی کی دوا‘ پی کر سونے کی اداکاری کرتے رہے۔ 2018ء کے الیکشن سے قبل عوامی لیگ کے سابق وزیر اور حلیف 81 سالہ وکیل کمال حسین جو بنگلہ دیشی آئین کے خالق شمار کیے جاتے ہیں، وہ خالدہ ضیا کی عدم موجودگی میں حزب اختلاف جاتیہ اوکیا فرنٹ کی رہنمائی کر رہے ہیں، انہیں بھی انتخابات سے باہر رکھا گیا، جس کے بعد یہ سوال اٹھا کہ اگر 11ویں قومی انتخابات میں اپوزیشن جیت گئی تو اس کا سربراہ کون ہوگا؟ جو یقینی طور پر ووٹر کے پاس ’نو چوائس‘ کا آپشن چھوڑنے جیسا ہے۔ اس کےبعد تو یقینی فتح حسینہ واجد اور ان کے اتحادیوں کی تھی، انہیں تو انتخابات کو پرامن اور شفاف بنانا چاہیے تھا مگر انہوں نے اسے بھی پرتشدد بنا دیا اور بعض سیٹوں پر جن پر اپوزیشن جماعتوں کی کامیابی امکانات زیادہ تھے، وہاں لاشیں بچھا دیں۔

بنگلادیشی اخبار ڈیلی اسٹار کی ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 26 پرتشدد جھگڑوں میں19 افراد جان سے گئے، 200 سے زائد زخمی ہوئے، جس کے بعد صرف 9 گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ برطانوی نشریاتی ادارےکے نمائندے نے انتخابات سے متعلق اپنی رپورٹ میں پولنگ شروع ہونے سے قبل بھرے ہوئے ڈبے لائے جانے کا ذکر کیا، بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے سے سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ انتخابات کی نام نہاد شفافیت کو کیمرے کی آنکھ قید کرنے والے رپورٹرز پر پولیس افسران نے پستول تان رکھی ہے۔ پریس پر بندش کی خبریں آئیں، ملک کے بڑے چینلز میں سے ایک ’جمونا‘ کی نشریات بند کردی گئیں، ملک بھر انٹرنیٹ بند تھا یا پھر اسے انتہائی آہستہ (سلو) رکھا گیا، جو یقینا ’جاننے کے انسانی حق‘ کی واضح خلاف ورزی ہے۔ اس سے قبل اپوزیشن جماعتوں کے دفاتر سیل ہوئے، ان کے ہزاروں کارکنوں کئی ماہ سے جیلوں میں ہیں، ایسے میں حالیہ انتخابات کو کیسے شفاف قرار دیا جاسکتا ہے؟ اپوزیشن کا دوبارہ انتخابات کا مطالبہ درست کیوں نہ قرار پائے؟ یقینا سیکولر قیادت کے ہاتھوں جمہوریت کی اس عبرت ناک مات پر سیکولر دانشور روشنی ڈالیں گے۔

اب سیکولر اہل دانش سے یہ سوال تو بنتا ہی ہے کہ آپ کے تصور جمہوریت کو کیا ہوا؟ جناب آپ کی فکر خون آلودہ انتخابات، جس میں انسانی جان کی کوئی وقعت نہیں، کرانے میں یقیناً پہلے نمبر پر ہے۔ آپ کی فکر تو امریکا سے بنگلا دیش تک کہیں بھی شفاف اور پرامن انتخابات کرانے کی اہل نہیں، آپ کی فکر کیوں آج تک ایسے افراد کار فراہم کرنے میں ناکام ہے جو جمہوریت پر غیر متززل یقین رکھتے ہوں؟ پاکستان میں جمہوری اصولوں پر کار بند سیاسی پارٹی سامنے آتی بھی ہے تو وہ ’جماعت اسلامی‘ ورنہ سیکولر سوچ کی حامل تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، ن لیگ، ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی اپنے اندر بھی جمہوریت کو جگہ دینے کو تیار نہیں کیوں؟ صاحب کیوں؟ ہم آپ سے آپ کی فکر کے تیار کردہ کرپٹ سیاستدان، ڈاکٹر، وکیل، انجینئر اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے عناصر پر بات نہیں کر رہے، کیونکہ اس سوال کا بوجھ تو آپ سےا ٹھایا بھی نہ جائے گا۔