ٹھوکر۔ نعمت یا عذاب؟ ڈاکٹر صفدر محمود

سچ تو یہ ہے کہ دھوپ چھائوں، غم خوشی، عروج و زوال، بیماری و شفا زندگی کا ناگزیر حصہ ہیں۔ ہر لمحہ بدلتی زندگی نت نئے پیغام لاتی ہے۔ انسان ترقی کرتے کرتے ستاروں پر کمند ڈالنے لگا ہے لیکن نہ اگلے دن کا علم رکھتا ہے اور نہ ہی اسے آنے والے لمحے میں پوشیدہ حقیقتوں کا ادراک ہوتا ہے۔ میں جب زندگی کی راہداریوں میں کل کے حکمرانوں، فرعونوں، صاحبانِ اقتدار اور قارونوں کو ٹھوکریں کھاتے، دھکے کھاتے اور زیر زبر ہوتے دیکھتا ہوں تو مجھے ذرا بھی حیرت نہیں ہوتی ،کیونکہ تاریخ ایسی کہانیوں اور حادثات سے بھری پڑی ہے۔ ابھی کل کی بات ہے کہ ہم نے قذافی اور صدام حسین جیسے طاقتور آمروں کو تخت سے تختے پر جاتے دیکھا، ان کی فرعونیت اور غرور بھی دیکھا اور ان کی جانوروں کی سی موت بھی دیکھی، پرویز مشرف کو مکے لہراتے، طاقت کا گھمنڈ اور غرور کرتے بھی دیکھا اور جان بچانے کے لئے کمر درد کا ناٹک رچا کر ملک سے فرار ہوتے بھی دیکھا۔ یہ سب مناظر کل کے ہیں ورنہ تاریخ تو بہادر شاہ ظفر جیسے بادشاہوں کے عبرت ناک انجام، بے بسی، جلاوطنی، دیار غیر میں سسک سسک کر موت کی کہانیاں سناتی ہے لیکن کیا کبھی کسی حاکم وقت نے یہ کہانیاں سنیں؟ دراصل اقتدار انسان کو اندھا اور بہرا کر دیتا ہے۔ وہ ایسی کہانیاں نہ سنتا اور نہ ایسے مناظر دیکھتا ہے۔

اقتدار کی فطرت میں غرور، مطلق العنانی اور تمکنت ہوتی ہے۔ ہر اقتدار اپنی عظمت اور تعریف کے قصیدے سن سن کر یقین کر لیتا ہے کہ اس کا اقتدار ابدی ہے۔ یہیں سے زوال کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کو صاحب اقتدار سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ قدرت کا راز فقط اتنا سا ہے کہ زندگی میں ہر شے عارضی ہے۔ یہاں قیام بھی عارضی ہے اور دوام فقط تغیر کو حاصل ہے۔ قول صادق ہے کہ آپ کا اچھا وقت دنیا کو بتاتا ہے کہ آپ کون ہیں اور برا وقت آپ کو بتاتا ہے کہ دنیا کیا ہے۔ عجیب بات ہے کہ جب انسان کی آنکھیں کھلتی ہیں اور اسے پتہ چلتا ہے کہ دنیا کیا ہے تو اس وقت دنیا اس کے ہاتھوں سے ریت کی مانند پھسل رہی ہوتی ہے اور کبھی کبھی یہ منزل بھی آتی ہے کہ خود سایہ بھی انسان سے جدا ہونے لگتا ہے۔ میرے بزرگ عالم و فاضل دوست مرزا محمد منور فرمایا کرتے تھے؎

یاس کی ایک نرم سی ٹھوکر، نشے کتنے اتار دیتی ہے

کون مرتا ہے کہ موت کے ہاتھوںٗ زندگی آپ مار دیتی ہے

کل تک بامِ ثریا پہ بیٹھے لوگوں کو اقتدار و اختیار کا نشہ ہرن ہونے کے بعد آنکھیں ملتے دیکھتا ہوں اور زوال کی راہداریوں میں چلتے ہوئے ان کے چہروں پر بے بسی کی بولتی تصویر دیکھتا ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ اقتدار، دولت، شہرت اور عروج اپنے باطن میں ہمیشہ آزمائش لے کر آتے ہیں۔ دراصل یہ ہوتی ہی آزمائش ہے جسے ہم اپنی ملکیت اور اپنی لونڈی سمجھنے لگتے ہیں۔ سبحان اللہ! بابا بلھے شاہ نے خوب انداز سے راز فاش کیا ہے ’’نہ کر بندیا میری میری، توں مٹی دی ٹیری (ڈھیری)۔ انسان بامِ عروج کے تخت پہ بیٹھا اور جوانی کے نشے میں بدمست ہو کر زمین پر زور زور سے پائوں ’’مارتے‘‘ ہوئے بھول جاتا ہے کہ وہ محض ایک مٹی کی ’’ڈھیری‘‘ ہے۔ جب ٹھوکر لگتی ہے تو یاس اور نااُمیدی کی تصویر بنا فضائوں میں گھورتا رہتا ہے اور اپنے اُن حواریوں کو ڈھونڈتا ہے جو ہر لمحے خوشامد سے اس کی اَنا کی مالش کرتے تھے اور اسے مافوق الفطرت ہونے کا یقین دلاتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اُن درباریوں کا آنا بھی آزمائش تھی اور ان کا منہ موڑ لینا بھی آزمائش ہے۔ اللہ سبحانہ ٗ انسان کو ہر حال میں آزماتے ہیں اور ضرور آزماتے ہیں۔

عروج، اختیار، اقتدار اور دولت دے کر بھی آزماتے ہیں اور ان تمام نعمتوں سے محروم کر کے غربت دے کر بھی آزماتے ہیں۔ غربت صرف دولت سے محرومی ہی کا نام نہیں، اقتدار، عروج، بالادستی اور دوستوں سے محرومی بھی غربت ہی کہلاتی ہے۔ زندگی کی دولت اور کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے بابِ علم حضرت علیؓ کے یہ الفاظ زندگی کی سچائیوں پر روشنی ڈالتے اور منزل کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ’’سب سے بڑی بہادری صبر ہے، سب سے بڑی بلا ناامیدی ہے، سب سے بڑی تفریح مصروفیت ہے، سب سے بڑا استاد تجربہ ہے، سب سے بڑا فائدہ نیک اولاد ہے، سب سے بڑا تحفہ درگزر ہے، سب سے بڑا سرمایہ خوداعتمادی ہے، سب سے بڑا راز موت ہے، سب سے بڑی دولت مخلص دوست ہے۔‘‘ اکثر صاحبانِ اقتدار اور صاحبانِ جاہ و دولت ان نعمتوں سے محروم رہتے ہیں۔ اسی لئے اللہ پاک کی عطا کردہ یہ نعمتیں آزمائش ہوتی ہیں مگر بہت بڑی اکثریت اس آزمائش میں ناکام رہتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب اقتدار، دولت، بھرپور صحت اور شہرت وغیرہ انسان کے صحن میں اُترتی ہیں تو وہ اُنہیں ابدی اور ذاتی سرمایہ سمجھنے لگتا ہے اور ان کی قدر و قیمت بھی فراموش کر بیٹھتا ہے۔ اگر اسے ان انعامات کی قدر و منزلت کا احساس ہو تو وہ سر سے پائوں تک ’’شکر‘‘ کی تصویر بن جائے لیکن ہم نے اکثر انعام یافتہ صاحبان کو ناشکرا ہی دیکھا ہے کیونکہ وہ رفتہ رفتہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ نعمتیں اللہ پاک کی طرف سے عطا ہوئی ہیں اور اس عطا کے کچھ تقاضے بھی ہیں۔ دینے والا چھین بھی سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کو اقتدار کی اہمیت کا اندازہ اقتدار سے محرومی کے بعد، دولت کی اہمیت کا اندازہ غربت کا شکار ہونے کے بعد اور صحت کی نعمت کا اندازہ طویل بیماری کا شکار ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ چھوٹا یا بڑا اقتدار عطا ہوتا ہے خدمت کے لئے۔ خدمت کا جذبہ سچا ہو تو جذبہ ذاتی عیش و عشرت، دولت سازی، اقربا پروری اور قومی خزانے کے ضیاع کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔

جذبہ سچا ہو تو ذاتی خواہشات اور حسین خوابوں کا ایثار کرنا پڑتا ہے۔ ذات کو پس پشت ڈال کر خدمت کو منزل بنایا جائے تو انسان آزمائش کی کٹھن وادی سے گزر کر سرخرو ہو جاتا ہے اور یہ سرخروئی انسان کی سب سے بڑی دولت اور سب سے بڑا سرمایہ ہوتی ہے اور قلبی تسکین و راحت کا باعث بنتی ہے۔ ٹھوکر اُس وقت لگتی ہے جب انسان ان تقاضوں کو فراموش کر کے مغرور ہو جاتا ہے۔ اگر انسان کی فطرت نیک ہو تو اس ٹھوکر کا مقصد اُسے راہِ راست پر لانا اور اُس کا رخ خالقِ حقیقی کی جانب موڑنا ہوتا ہے۔ اس صورت میں یہ ٹھوکر انعام بن جاتی ہے اور انسان دنیا کی بے ثباتی دیکھ کر رضائے الٰہی کو زندگی کا مقصد اور منزل بنا لیتا ہے۔ اگر انسانی فطرت ہوس و حرص کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہو تو ٹھوکر بھی اس کا رخ نہیں موڑتی اور دنیا میں ذلت و خواری مقدر بن جاتی ہے۔ گویا ٹھوکر کسی کے لئے نعمت اور کسی کے لئے عذاب ثابت ہوتی ہے۔ ٹھوکر خواب ِغفلت سے بیدار کر دے تو نعمت ورنہ عذاب ہوتی ہے۔