ملکی حالات کیسے بدلے جاتے ہیں ؟ ابو محمد مصعب

اگر نیت سچی ہو تو صرف ایک شخص بھی قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ اس ایک انسان کے وژن، خلوص، سوچ، محنت، لگن، طرزِ حکمرانی اور اپنے عوام کے ساتھ پرخلوص محبت نے آج دبئی کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے۔ان کی شخصیت میں بڑی نشانیاں ہیں ہمارے وطن کے گزرے اور موجودہ حکمرانوں کے لیے۔
میں نے دبئی کے دیہات میں بھی گھوم پھر کر دیکھا ہے، یہاں کے مقامی لوگ بھی واقعی میں ان سے سچی محبت کرتے ہیں۔ کیوں کہ انہوں نے اپنے عوام کو یورپ اور امریکہ کے ٹکر کا معیارِ زندگی دیا ہے میں نے گزشتہ سترہ سالوں سے لے کر آج تک ایک بھی اماراتی ایسا نہیں دیکھا جو بھیک مانگتا ہو۔

میں نے آج تک ایک بھی اماراتی ایسا نہیں دیکھا جو محنت مزدوری کرتا ہو۔ مزدوری اور ڈرائیونگ کرنے والے باہر کے لوگ ہیں۔یہاں سرکاری مدرسوں میں ہر بچے کی تعلیم مکمل طور پر مفت ہے . یہاں ہر بے روزگار نوجوان کو وظیفہ ملتا ہے۔ یہاں ہر بوڑھے کو اتنا جیب خرچ ملتا ہے کہ وہ کسی کی محتاجی کے بغیر معاشرے میں باعزت زندگی گزار سکتا ہے۔رواں سال دو دسمبر کو یہاں کے پاسپورٹ کو ’’ورلڈ رینکنگ‘‘ میں دنیا کا سب سے طاقتورترین پاسپورٹ قرار دے دیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ پاسپورٹ رکھنے والے لوگ، دنیا کے ۱۶۷ ملکوں میں بغیر پیشگی ویزے کے داخل ہو سکتے ہیں۔

یہاں ادارے مضبوط اور آپس میں مربوط ہیں جہاں رشوت کا نام و نشان نہیں جس کی وجہ سے ہر شخص کا کام، بلاتاخیر، بنا کسی سفارش اور ’’چائے پانی‘‘ کے ہو جاتا ہے۔ یہاں کی کرنسی کا ڈالر کے مقابلے میں وہی ریٹ ہے جو آج سے سترہ سال قبل دیکھا گیا۔عام استعمال اور بنیادی ضرورت کی چیزوں کی قمیتوں پر مکمل کنٹرول ہے
دنیا جہاں کا فروٹ اور میوہ سارا سال موجود رہتا ہے .گائے کا خالص ابلا ہوا دودھ آپ کو قدم قدم پر ملے گا۔میں نے آج تک آوارہ کتا یا گدھا نہیں دیکھا۔
یہاں کا امن مثالی ہے۔ بلکہ یورپی و امریکی ملکوں سے بھی کئی گنا بہتر۔سڑکوں کا جال بچھا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ ہر جگہ موجود ہے۔ روڈوں، سڑکوں اور شاہراہوں پر اسٹریٹ لائٹس موجود ہیں، کسی کھنبے کا بلب آپ کو فیوز نہیں ملے گا۔ کسی دور دراز علاقے میں چلے جائیں جہاں ٹریفک بالکل نہ ہو تو بھی آپ کو روڈ مارکنگ، ٹریفک سائن اور ہدایات کے بورڈنظر آئیں گے۔ کوڑا کرکٹ پھینکنے، اسے جمع کرنے اور پھر ٹھکانے لگانے کا ایک وسیع تر نظام موجود ہے۔ گلیوں اور روڈوں کی صفائی کا عمل چوبیس گھنٹے جاری رہتا ہے۔ بجلی کا جانا یا لوڈشیڈنگ یاد نہیں۔

آج بھی آپ کو ہر طرف سڑکوں، پلوں اور انٹرچینجز پر کام ہوتا نظر آئے گا۔ جس کی وجہ سے ٹریفک جام والا مسئلہ بہت حد تک ختم ہوتا جا رہا ہے۔پولیس، عوام دوست ہے، جسے دیکھ کر کسی شریف آدمی کو ڈر نہیں لگتا۔ کوئی ایک فرد آپ کو بلاوجہ گرفتار یا جیل کے اندر نہیں ملے گا۔
عورتیں خود کو بہت محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ کسی مقامی یا غیر مقامی شخص کے اندر ہمت نہیں کہ رات کو دو بجے بھی کسی تنہا جاتی عورت کے ساتھ چھیڑچھاڑ کرے یا آوازے کسے۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک حکمران، اپنی رعایا کے لیے جتنا کچھ کر سکتا ہے، یہاں کے حکمرانوں نے اس سے بڑھ کر کر دیا ہے۔ ان باتوں میں سبق ہے ہمارے ان حکمرانوں کے لیے جو جب اقتدار سے فارغ ہوتے ہیں تو یہاں دوڑے چلے آتے ہیں۔

ٹیگز