ہوس کے پجاری اور بچیوں کا ریپ - عالم خان

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ مرد نما درندے نے اپنے انتقام کی آگ بجھانے کے لیے ہمیشہ عورت کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنایا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جنگوں کے دوران جنگجو اپنے مخالفین کی عورتوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بناتے تھے،اس عمل نے باقاعدہ طور پر ایک جنگی روایت کی شکل اختیار کر لی تھی جس کی خوف کے وجہ سے مغلوب اقوام کے اکثر خواتین دشمن کے ہوس کا نشانہ بننے سے پہلے اپنی زندگی کا چراغ گل کر لیا کرتی تھیں۔

اس گھناؤنے کھیل کی خوفناک شکل دنیا نے تب دیکھی جب (١٩٤٥) میں سوویت یونین کے بزدل سپاہیوں نے جرمنی کے گلی کوچوں میں ۱۳ سے ١٦ سال کی بچیوں کو سر عام اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانا شروع کردیا جن میں ۹۰ فیصد بچیاں برقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی گئی تھیں، اس وقت پوری دنیا میں سویت یونین کے سپاہیوں کی اس بزدلانہ اور وحشیانہ فعل کی مذمت کی گئی، لیکن بعد میں یہ گھناؤنا فعل انسانی شکل کے جنگلی درندوں کا ایک محبوب جنگی ہتھیار ٹھہرا ، جس کا مظاہرہ دنیا نے متحدہ ہندوستان سے ہجرت کے وقت، میانمار ، عراق ، شام اور افغانستان کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں دیکھا جو تاحال جاری ہے۔

جنگوں میں خواتین کے ساتھ ساتھ بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات زبان زد عام تھے لیکن چند سالوں سے ان جنگلی بھیڑیوں نے ان علاقوں کا رخ کیا ہے جہاں جنگ ہے نہ دشمن بلکہ اپنے گلی محلے کے چھوٹی چھوٹی کلیاں نوچتے اور مسلتے ہیں، ان کو اپنے ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد کبھی کھیتوں میں پھینک دیتے ہیں تو کبھی ندی اور نالیوں میں بہاتے دیتے ہیں۔

یہ ہوس کے پجاری اتنے بے رحم اور سنگدل ہیں کہ زینب، منال اور فریال جیسے ہزاروں معصوم گڑیاں جو کھلونوں سے کھیلتی ہیں معمولی چیزوں سے خوش ہوکر اچھلتی کھودتی ہیں جب وہ اپنے گھروں سے نکلتی ہیں تو گلی محلے میں موجود ہر مرد میں اپنا باپ تلاش کرتی ہیں، اور یہی درندے اس کا فائدہ اٹھا کر ان کو معمولی لالچ دے کر غائب کرتے ہیں، چیخ وپکار اور چھوٹی چھوٹی سسکیوں میں ان کو اپنی درندگی کا نشانہ بناتے ہیں، اور یہ معصوم کلیاں سسکیاں لیتی ہوئی جان آفرین کے سپرد کر دیتی ہیں، لیکن ان وحشی درندوں کے دلوں میں ترس نہیں آتا۔

یہ بھی پڑھیں:   زیادتی اور ہمارا بےحس معاشرہ - شیبا خان

حیوانیت کے اعلی درجہ پر فائز یہ انسان نما درندے جب زینب، منال اور فریال کے معصوم بدن اپنے گندے ارادوں سے چھوتے ہیں تو اس وقت گھر میں موجود اپنی زینب، منال اور فریال بھول جاتے ہیں جب یہ معصوم کلیاں چیخ وپکار اور سسکیاں لیتی ہیں تو ان کے معصوم چہروں اور انسوں میں ان کو اپنی گھر کی بچیاں نظر نہیں آتیں... اسی لیے تو ہوس کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے اواز کو بھی ہمیشہ کے لیے دبا دیتے ہیں، اور نہ اس کے بعد کبھی وہی چیخ وپکار اور سسکیاں ان کو پریشان اور بے چین کرتی ہیں۔

ان درندوں کا حوصلہ حکومت وقت کی غفلت اور عوام کی خاموشی ہے کیونکہ خان صاحب کی مثالی پولیس ان درندوں کے پکڑنے میں تاحال ناکام ہے جنھوں نے فریال کو نوچنے کے بعد ایبٹ آباد کی سردی میں چھوڑ دیا تھا جس کو فریال کی چھوٹا اور نازک بدن برداشت نہ کرسکا اور موت کو گلے لگا لیا. اس غفلت کی وجہ سے آج منال کی لاش بھی وزیر دفاع پرویز خٹک کے شہر نوشہرہ میں کھیتوں سے ملی۔

خدا راہ ! اپنے بچیوں اور بچوں کی فکر اگر کرنی ہے تو فریال اور منال کے لیے اواز اٹھائیں ان کا ساتھ دیں کیونکہ جب تک ان کو انصاف نہیں ملے گا ان کے قاتلوں اور ہوس کے پجاریوں کو سرعام پھانسی نہیں دی جائے گی، تو آپ لوگوں کی فریال اور منال محفوظ نہیں ہو گی۔

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.