لو یو ٹیچر - نصرت یوسف

کمرے میں ہیل کی ٹک ٹک کی آواز نمایاں تھی، ایک سرے سے دوسرے سرے تک یہ آواز جاتی اور چند لمحوں کے وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوجاتی۔ کمرے کی کھڑکی کے چھجے پر کسی چڑیا کا گھونسلہ تھا جس کے انڈوں سے آج کل ہی میں بچے نکلے تھے، ان لاچار وجودوں کی نگہبانی کرتے ماں باپ کی سعی بڑی دل آویز تھی۔ کھڑکی سے آنے والی چوں چوں کی نھنھی منی سی آوازیں اس کو بےاختیار لکھتے لکھتے روک دیتیں، اور وہ ہیل کی آواز دور ہوتے ہی اس چوں چوں کو دیکھنے کی کوشش کرتا۔ انگریزی کا ٹیسٹ تھا، اس کو کوئی مضمون مشکل نہ لگتا تھا، پنسل اور کاغذ، کتابیں اور بستہ، سب اس کے اچھے دوست تھے، اتنے اچھے دوست جو اس کا ہر وقت ساتھ دیتے۔ کوئی غلطی ہوجاتی تو ایریزر خاموشی سے اس کو مٹا دیتا اور رنگین پنسلیں بےرنگ تصاویر میں رنگ بھر دیتیں۔ وہ امیر حمزہ تھا، چمکدار آنکھوں، پھولے پھولے گالوں والا تمیزدار، نرم خو۔

گھنٹی بج گئی تھی، ٹیسٹ کا وقت ختم ہوا، ہیل کی آواز مخصوص ردھم سے بدل کر گمبھیر سی ہوگئی اور کچھ ہی دیر میں کمرہ خالی ہوگیا۔ سب کے جاتے ہی وہ اندر آیا، لنچ باکس سے ویفرز نکال کر چورا کرتے کھڑکی کے چھجے کی جانب بڑھا۔ اس کے چہرے پر بڑی خوشی تھی جیسے دنیا فتح کرنے جا رہا ہو۔

یکدم ہیل کی آواز ابھری" امیر حمزہ!!" وہ سٹپٹا گیا، وہ! وہ! وہ ٹیچر!! لیکن پھر سر جھکائے خاموشی سے باہر چلا گیا۔ لنچ باکس بھی کھڑکی پر رکھا رہ گیا۔ مشفق چہرے نے محبت سے اسے جاتے دیکھا اور لنچ باکس اٹھا کر اپنی میز پر رکھ دیا۔ آج کے دن انگریزی کے یہ سارے پرچے چیک کر کے فائل تیار کرنی تھی۔ ایک کے بعد ایک پرچہ چیک کرتی آنکھیں اور دماغ کبھی توانائی پاتا تو کبھی افسوس کی لہر۔ ایک پرچہ بہت دیر تک کھلا رہا، مگر اس کا قلم ساکت رہا۔ اس کا قلم بھی سرخ نہ تھا، نیلا تھا لیکن وہ اس پرچہ پر کوئی نشان نہ ڈال سکا۔انگریزی میں لکھی کہانی بےحد عمدہ تھی، بلکل ایک بچے کے ذاتی خیالات، لیکن وہ پھر بھی بےنشان رہا۔ تین دن بعد سہ ماہی ٹیسٹس کے نمبرز ملنے تھے۔

اس دن کمرے میں ہیل کی آواز نہ تھی، موکیشنز کی نرم چاپ ابھرتی اور معدوم ہوتی۔ سب کو اپنی اپنی فائل مل چکی تھی، ہر ایک اس میں محو تھا۔ بس ایک وہ تھا جو بند فائل کے ساتھ کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا، اسے پتہ تھا فائل نے اسے کوئی خوشی نہیں دینی۔ اسے ان لمحات سے ہمیشہ ڈر لگتا تھا۔ مما کا بتایا سارا سبق ایسے میں ایریز ہو جاتا تھا۔

اچانک قدموں کی چاپ ابھری اور اس کے پیٹ میں گرہیں سی پڑنے لگیں۔
"حمزہ فائل کھولیں!" اسی لمحے "چڑیا کی چوں چوں" آوازیں شدید ہوگئیں، وہ اضطرابی کیفیت میں کھڑا ہوگیا، لیکن کسی حرکت کی مجال نہ تھی۔ نرم چاپ کھڑکی جانب بڑھی، سر اونچا کر کے گھونسلہ دیکھا اور پھر بڑھ کر خود فائل کھول دی۔ اس نے بے اختیار آنکھیں میچ لیں۔

حمزہ! یہ دیکھو۔
اس کی آنکھوں کی چمک مفقود تھی، اسے پتہ تھا ہر پرچے پر نیلے نیلے نشانات بہت سارے ہوں گے، چاہے وہ سائنس ہو یا اسلامیات، انگریزی ہو یا جنرل نالج، سب پر ویسے ہی نیل ہوں گے جیسے گرنے پر اس کی کھال پر ابھر آتا ہے۔ وہ یہ سب نہ دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ چڑیا اور اس کے بچے دیکھنا چاہتاتھا اس وقت۔

حمزہ! امیر حمزہ!! یہ دیکھو!
اس نے ڈوبتے دل سے دیکھا، سامنے فائل کھلی تھی، اور سب سے اوپر ایک پیپر لگا تھا جس پر Bravo Ameer Hamza لکھ کر فتح کا انگوٹھا بنایا گیا تھا۔ وہ ٹکٹی باندھ کر دیکھتا رہا گویا یقین کرنا چاہ رہا ہو کہ یہ سب سچ ہے.۔ یہ سب سچ ہے کہ اس بار اس کے لکھے" b" اور" d" نے اسے ناکام نہیں کیا۔ اس بار اس کی پہچان کی الجھن نے اس کو شکست نہیں دی، اس بار وہ جیت چکا ہے۔ کیا ہوا جو اس کے دماغی میکنزم میں کسی وجہ سے حروف کی پہچان لکھتے وقت نہیں ہو پاتی، وہ بدستور جیت سکتا ہے، اس نے بےاختیار فائل تھامی اور بیگ میں رکھ لی۔

فائل گھر لے جانے کی اجازت تو نہ تھی لیکن وہ پرواز کرتے پروں کو کیسے کاٹ ڈالتی، وہ شاہین تھا اور شاہین کی اڑان نے کمرے کی روشنی یکدم بڑھادی۔ وہ آگے بڑھا اور سرگوشی کی۔ لو یو ٹیچر!

ٹیگز

Comments

نصرت یوسف

نصرت یوسف

نصرت یوسف جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل ہیں. تنقیدی اور تجزیاتی ذہن پایا ہے. سماج کو آئینہ دکھانے کے لیے فکشن لکھتی ہیں مگر حقیقت سے قریب تر. ادب اور صحافت کی تربیت کے لیے قائم ادارے پرورش لوح قلم کی جنرل سیکریٹری ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.