یہ شرمناک ستم آخر کب تک برداشت کریں گے؟ عابد محمود عزام

حویلیاں میں تین سالہ فریال کے ساتھ شیطانیت و ابلیسیت، سفاکیت و درندگی کا جو سانحہ رونما ہوا ہے، اس کو لکھتے ہوئے آنکھیں نم اور دل رنجیدہ ہے۔ ہاتھ کانپ رہے اور الفاظ ساتھ نہیں دے رہے۔ کسی درندے نے اپنے سفلی جذبات کی آگ بجھا کر اس ننھی پری کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس کلی کو کھلنے سے پہلے ہی مسل دیا۔ تین سالہ فریال گھر سے غائب ہوئی جس کی رپورٹ تھانہ حویلیاں میں درج کرائی گئی۔ پولیس نے سرچ شروع کیا تو دوسرے دن صبح 9 بجے تین سالہ فریال گاؤں سے دور ویرانے سے مردہ حالت میں پائی گئی۔ ڈاکٹرز کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق معصوم فریال کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی تھی اور نیم مردہ حالت میں کھلے آسمان تلے شدید سردی میں پھینک دیا گیا جس سے بچی کی موت واقع ہوگئی۔

ہوس کے پچاری انسان نما جانور اتنے آزاد ہوگئے کہ اب ان کی حیوانیت سے معصوم بچے بھی محفوظ نہیں ہیں۔ پوری قوم کے لیے یہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ ذرا تصور کیجیے! ان والدین پر کیا گزرتی ہوگی جن کے بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہو اور پھر قتل کردیا گیا ہو۔ یہ تصور ہی اتنا خوفناک ہے کہ ذہن میں آتے یقینا ہر والدین کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہوں گے، خدا جانے کتنے والدین کی کتنے دن تک رات کی نیندیں حرام ہوجاتی ہوں گی، لیکن میرے ملک میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے واقعات مسلسل پیش آرہے ہیں اور برسوں سے پیش آرہے ہیں، مگر ہر بار مجرم آزاد رہتے ہیں۔

حیوانیت و شیطانیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس سے پہلے ملک میں بچوں کے ساتھ سیکڑوں جنسی اسکینڈل سامنے آچکے ہیں۔ چند سالوں میں بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنا کر بیرون ملک فروخت کرنے کے بھی متعدد اسکینڈل سامنے آئے ، جن میں کئی مجرم پکڑے گئے، جنہوں نے تمام جرائم کا اعتراف کیا۔ قصور واقعہ سب کے سامنے ہے۔ سرگودھا ، سوات اور دیگر کئی علاقوں سے ایسے بہت سے مجرم گرفتار بھی ہوئے، مگر اثر و رسوخ کی بنا پر یا رشوت لے کر چھوڑ دیے گئے، حالانکہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر بچوں کو قتل کرنے والے ان پاگل کتوں کی سزا چند دن جیل میں بھیج دینا نہیں ہے، بلکہ انہیں فوراً چوک چراہوں پر عوام کے سامنے سولی پر لٹکادینا چاہیے، تاکہ آئندہ کوئی پاگل کتا ایسی گھناﺅنی حرکت نہ کرے۔ ایسے دلخراش سانحات کی روک تھام نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ حکومت اور متعلقہ اداروں کا اس حوالے سے سنجیدہ نہ ہونا بھی ہے۔

گزشتہ سال زینب کا سانحہ پیش آنے کے بعد حکومت اس حوالے سے سخت ترین اقدامات کرتی، انسان نما جنسی درندوں کو سرعام دردناک موت دیتی کہ ان کی لاشیں گدھ نوچتے تو اس کے بعد فریال اور جنسی درندگی کا نشانہ بننے والی دیگر بچیوں کے محفوظ رہنے کی قوی امید تھی۔ اس حوالے سے پارلیمنٹ میں بچوں کے حقوق کے قوانین اور بل منظور ہوئے، لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئی خاطر خواہ کردار ادا نہیں کیا۔ ایسے واقعات میں حکومت اور متعلقہ سرکاری ادارے قصور وار ہیں، جو قوم کے بچوں کو تحفظ دینا اپنی ذمہ داری ہی نہیں سمجھتے، ان کے نزدیک شاید صرف اپنے بچوں کا تحفظ ضروری ہے۔ یہی لوگ مجرموں کو گرفتار ہونے کے بعد کسی بااثر شخص کی ایک فون کال پر یا رشوت لے کر چھوڑ دیتے ہیں۔ برسوں سے ایسے واقعات پیش آرہے ہیں، لیکن اب تک شاید ہی کسی کو سزا دی گئی ہو اور چند دن کے بعد ایسے واقعات میڈیا سے بھی بالکل غائب ہوجاتے ہیں اور میڈیا کی آنکھ دوبارہ اس وقت کھلتی ہے جب دوبارہ اس قسم کا کوئی سانحہ پیش آتا ہے اور ہم عوام سیاست دانوں کے لیے تو پاگلوں کی طرح ایک دوسرے سے لڑنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں، مگر جب ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا موقع آتا ہے تو سب کو سانپ سونگھ جاتا ہے، آواز اٹھاتے بھی ہیں تو دو چار دن بعد خاموش ہوجاتے ہیں۔

اگر ہم سب ان جنسی درندوں کو سزا دلوانے کے لیے پرعزم ہوجائیں تو میرا نہیں خیال کہ متعلقہ ادارے اتنی آسانی سے انہیں چھوڑ سکیں گے۔اب تک تو یہ مجرم ہر درندگی کے بعد آزاد گھومتے رہے ہیں، مگر اب ایسا نہیں ہونا چاہیے۔اب ہم سب کو اس شرمناک ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی اور اس وقت تک ان درندوں اور ان جرائم کو تحفظ دینے والے ان کے پشتی بان سرکاری اور غیر سرکاری ظالموں کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی جب تک یہ درندے اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتے۔

Comments

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام

عابد محمود عزام 2011ء سے شعبہ صحافت میں میگزین رپورٹر، فیچر رائٹر اور کالم نویس کی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں۔ روزنامہ ایکسپریس اور اسلام میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ معاشرے میں تعمیری اور مثبت سوچ کا فروغ ان کا مشن ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.