ہم کیا چاہتے ہیں؟ محمد وقاص الیاس

ایک مقررہ مدت تک جینا امتحانوں میں سب سے بڑا امتحان ہے۔ سب سے پہلے ہم نے survive کرنا ہے اس کے بعد زندگی کے مختلف challenges کا سامنا کرتے ہوئے مختلف مراحل سے گزرتے سیکھتے لڑتے گرتے اٹھتے پڑتے زندگی کے اختتام تک سب تجربات لیتے مرنا ہوتا ہے۔ اور اسی سب کے دوران ایک عظیم ہستی ہے جو اس سب میں ہماری ہر وقت مدد کر رہی ہوتی ہے اور وہ ہمارا رب ہے‌، جو ہر لمحے ہماری خیر خواہی چاہتا ہے، ہمیں امید بھی دلاتا ہے اور ڈراتا بھی ہے، ہمارے اوپر مشکلات کا پہاڑ بھی گراتا ہے پھر ہمیں اس میں سبق بھی دیتا ہے، پھر ہمیں کھلاتا پلاتا اور بھوکا بھی رکھتا ہے تاکہ ہم شکر ادا کریں اور صبر کرنا سیکھیں۔ پھر ہمیں پیغمبروں کے ذریعے سے راہنمائی بھی دیتا اور شیطان کو بھی بناتا ہے جو انسان کو رحمن کے راستے سے ہٹاتا ہے، پھر انسان کو ارادے کی اور کوشش کی صلاحیت بھی دیتا ہے جس سے وہ شیطان کامقابلہ کر سکے یا اس کا ساتھی بن جائے۔

وہ روشنی اور اندھیرے کو پیدا کرتا ہے، اچھائی اور برائی کو بناتا ہے، تاکہ انسان اچھائی کو برائی سے ممتاز کر سکے، برائی سے اوپر اٹھ سکے کیونکہ انسان کو اپنی افضلیت کو ثابت کرنا ہے، اور اگر امتحان اتنا آسان ہوتا تو انسان اپنے افضل ہونے کا جواز برقرار نہ رکھ سکتا۔ اسی لیے انسان کا ایک بڑا امتحان خود اپنی پہچان میں مضمر ہے، جب تک وہ خود اپنی عظمت کو نہیں پا لیتا، وہ اس عظیم خالق کی عظمت کو بھی نہیں پہچان سکے گا۔

اس کے بعد سب سے بڑا امتحان اپنے اندر موجود ایک خالی پن اور اداسی کو چینلائز کرنا ہے، اس خالی پن کو صرف ایک چیز ہی بھر سکتی ہے اور وہ ہے ایمان اپنے بنانے والے پر۔ اور اس کی قربت حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔

دنیا کے کسی کونے میں کوئی ایسی تہذیب نہیں گزری، کوئی ایسا شخص نہیں گزرا جس کے دل میں ایک بار بھی خدا کی یا کسی تخلیق کار کے حوالے سے جستجو نہ رہی ہو۔
وہ ہمیں سورج، چاند، پہاڑ، آسمان، موسم اور سمندر بنا کر اپنی قدرت کاملہ سے آگاہ بھی کرتا ہے، اور عظیم جنتوں کا نقشہ کھینچ کر ہمارے اندر تحریک پیدا کرتا ہے، پھر آگ، پتھر، خونخوار جانور، زہر اور دھواں بنا کر ہمیں جہنم کا تعارف بھی کرواتا ہے۔ وہ زندگی اور موت کا ایک سائیکل بنا کر اس درس گاہ میں ہمیں بھیجتا ہے جس میں بیک وقت امتحان اور سیکھنا، اور سب کچھ ہی ملتا ہے۔

ہمارا رب ہمارا بھلا چاہتا ہے سوال تو یہ ہے کہ ہم کیا چاہتے ہیں۔۔۔ !