باران رحمت اور سیر و سیاحت کے آداب - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر عبد اللہ بن عبد الرحمن بعیجان حفظہ اللہ نے 21 ربیع الثانی 1440 کا خطبہ جمعہ مسجد نبوی میں "باران رحمت اور سیر و سیاحت کے آداب" کے عنوان پر ارشاد فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ دنیا عارضی اور فانی ہے، اس کائنات کو اللہ تعالی نے کھلی کتاب بنایا ہے کہ اس پر غور و فکر کریں، کائنات پر غور و فکر کو عبادت بھی قرار دیا، یہاں جتنی بھی آفتیں، صعوبتیں اور آزمائشیں آتی ہیں ان سے اللہ تعالی ہی نجات دیتا ہے، چنانچہ انتہا درجے گرمی اور تمازت کے بعد اللہ تعالی نے بارشیں نازل کیں تو دھرتی کا رنگ ہی بدل گیا، بارشوں کی وجہ سے لوگوں کی امیدیں بار آور ہونے لگیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اللہ تعالی کی نعمتیں اللہ کی اطاعت سے ہی حاصل کی جا سکتی ہیں، اور یہ قانون الہی ہے کہ نعمتوں کے شکر سے ان میں اضافہ ہوتا ہے، اس کے لئے اللہ تعالی نے قوم سبا کی مثال قرآن مجید میں ذکر فرمائی اور دوسری جانب یہ بھی فرمایا کہ استغفار کرنے والوں کو مال و دولت کی فراوانی نصیب ہوتی ہے۔ دوسرے خطبے میں انہوں نے بارشوں کے بعد سیر و سیاحت کے آداب ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سفر پر نکلتے ہوئے گھر والوں کو الوداع کہیں، گھر سے نکلنے اور سواری پر بیٹھنے کی دعا پڑھیں، سفر کے لئے مناسب دن اور وقت کا انتخاب کریں، تنہا سفر کی بجائے کسی کو ساتھ لیکر چلیں، دوران سفر نماز اور دیگر واجبات کا بھر پور خیال کریں، سفر میں نماز کو قصر اور جمع کرنا جائز ہے، اسی طرح مسح کی مدت مسافر کے لئے تین دن اور رات ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیر و سیاحت کے دوران گندگی مت پھیلائیں، اپنی نظروں کی خصوصی حفاظت کریں، کسی کو تکلیف مت پہنچائیں، عوام الناس کے لئے بنائی گئی تفریحی جگہوں کو خراب مت کریں، پھر آخر میں انہوں نے جامع دعا کروائی۔

خطبہ کی عربی ویڈیو حاصل کرنے کیلیے یہاں کلک کریں۔

آڈیو ترجمہ سننے کیلیے کلک کریں۔

پہلا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کیلیے ہیں، وہ فریادیوں کی فریاد سنتا ہے، لا چاروں کی دعائیں قبول کرتا ہے، مصیبت زدہ افراد کی تکالیف دور فرماتا ہے، وہ اپنے تمام بندوں پر نعمتیں بہاتا ہے، اسی لیے {وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَمُسْتَوْدَعَهَا كُلٌّ فِي كِتَابٍ مُبِينٍ} روئے زمین پر ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمے ہے اللہ تعالی کو ان کے ٹھکانے اور مرنے کی جگہ کا بھی علم ہے، ہر چیز واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ [هود: 6] اللہ تعالی جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جیسے چاہتا ہے فیصلے فرماتا ہے، {وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ} وہی ہے جو مایوسی کے بعد بھی بارش نازل کر کے اپنی رحمت عام کر دیتا ہے، وہی کام بنانے والا اور قابل تعریف ہے ۔ [الشورى: 28]

ہم اپنے نفسوں اور برے اعمال کے شر سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالی ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کا کوئی رہنما نہیں بن سکتا۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں اس کا کوئی شریک نہیں، میں اس گواہی کے بدلے یومِ وعید میں نجات کا طلب گار ہوں، اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں ، آپ نے رسالت کی تبلیغ کر دی، امانت پہنچا دی، اور امت کی خیر خواہی فرمائی، آپ نے اپنی وفات تک راہِ الہی میں کما حقہ جد و جہد بھی کی۔ اللہ تعالی آپ پر ،آپ کی آل اور صحابہ کرام پر ڈھیروں درود و سلام نازل فرمائے۔

حمد و صلاۃ کے بعد:

میں اپنے آپ اور تمام سامعین کو تقوی الہی اپنانے کی نصیحت کرتا ہوں، یہ اللہ تعالی کی گزشتہ و پیوستہ سب لوگوں کو تاکیدی نصیحت ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ} ہم نے یقینی طور پر ان لوگوں کو بھی تاکیدی نصیحت کی جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اور تمہیں بھی کہ تقوی الہی اختیار کرو۔[النساء: 131]

اللہ کے بندو!

{اِعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ} خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل تماشا، زینت و آرائش، تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے بارش ہوئی تو اس کی نباتات نے کاشتکاروں کو خوش کر دیا پھر وہ جوبن پر آتی ہے پھر تو اسے زرد پڑی ہوئی دیکھتا ہے۔ پھر (آخر کار) وہ بھس بن جاتی ہے۔ حالانکہ آخرت میں (ایسی غفلت کی زندگی کا بدلہ) سخت عذاب ہے۔ اور (ایمان والوں کے لئے) اللہ کی بخشش اور اس کی رضا ہے۔ اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے ۔ [الحديد: 20]

دنیا عارضی آسائشوں، چلتے سائے اور معمولی سے دنوں کا نام ہے، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّمَا مَثَلُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنْزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ حَتَّى إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَيْهَا أَتَاهَا أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَاهَا حَصِيدًا كَأَنْ لَمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ كَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ} دنیا کی زندگی کی مثال تو ایسے ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا جن سے زمین کی نباتات خوب گھنی ہو گئیں جس سے انسان بھی کھاتے ہیں اور چوپائے بھی۔ حتی کہ زمین اپنی بہار پر آ گئی اور خوشنما معلوم ہونے لگی اور کھیتی کے مالکوں کو یقین ہو گیا کہ وہ اس پیداوار سے فائدے اٹھانے پر قادر ہیں تو یکایک رات کو یا دن کو ہمارا حکم آ پہنچا تو ہم نے اس کو کٹی ہوئی کھیتی کی طرح بنا دیا۔ جیسے کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ اسی طرح ہم اپنی آیات ان لوگوں کے لئے تفصیل سے بیان کرتے ہیں جو کچھ غور و فکر کرتے ہیں [يونس: 24]

مسلم اقوام!

پوری کائنات ایک کھلی کتاب ہے، اللہ تعالی نے اس کتاب کے مطالعہ اور اس پر غور و فکر کی دعوت دی ہے، بلکہ اس غور و فکر کو ہمارے لیے عبادت بھی قرار دیا، فرمانِ باری تعالی ہے: {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ} بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں، رات اور دن کے ایک دوسرے کے بعد آنے میں، ان کشتیوں میں جو لوگوں کو نفع دینے والی چیزیں لیے سمندروں میں چلتی ہیں، اللہ تعالی کے آسمان سے بارش نازل کرنے میں، جس سے وہ مردہ زمین کو زندہ کر دیتا ہے، اور اس میں ہر طرح کی جاندار مخلوق کو پھیلا دیتا ہے، نیز ہواؤں کی گردش میں اور ان بادلوں میں جو زمین و آسمان کے درمیان تابع فرمان ہیں عقل رکھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں [البقرة: 164]

اللہ کے بندو!

لوگوں پر کتنی ہی مشکلات آئیں تو صرف اللہ تعالی نے ہی ان کی مشکل کشائی فرمائی۔

یہ بھی پڑھیں:   ادب کی ضرورت اور اہمیت - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

لوگوں پر کتنی ہی تکلیفیں آن پڑیں تو صرف اللہ تعالی نے ہی ان کا خاتمہ فرمایا۔

لوگوں پر کتنی ہی مصیبتیں آئیں تو صرف اللہ تعالی نے ہی انہیں وا فرمایا۔ {أَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ} بھلا کون ہے جو لاچار کے پکارنے پر اس کی فریاد رسی کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے اور (کون ہے جو) تمہیں زمین کے جانشین بناتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ ۔ [النمل: 62]

جس وقت موسم جھلسا دینے والی گرمی کا تھا، گرمی کی وجہ تمازت اور حدت بڑھ چکی تھی، زمین قحط زدہ ہو گئی، مویشی لاغر ہو گئے، کنویں خشک ہو گئے، درخت سوکھ گئے، پھول جھڑ گئے، زرعی پیداوار قلت کا شکار ہو گئی، کھلیان خشکی سے جل گئے اور جانوروں کا دودھ تک خشک ہو گیا؛ تو اللہ تعالی نے موسم کو بدل دیا اور خوشخبری دینے والی ہوائیں بھیج دیں، اللہ تعالی نے مایوسی کے بعد بارش نازل فرما دی، اور اپنی رحمت عام کر دی وہی کام بنانے والا اور قابل تعریف ہے۔

اللہ کے حکم سے زمین آباد ہو گئی، سر سبزے کے ساتھ خوبصورت ہو گئی اور لہلہا اٹھی، زندگی میں بھی مسکراہٹ آ گئی، اور طبعی مناظر میں رنگ بھر گئے! بادلوں کو بھیجنے والی ذات پاکیزہ ہے، بیج اگانے والی ذات پاک ہے! زمین کو بنجر ہونے کے بعد پھر سے زندہ کرنے والی ذات سبحان ہے! {أَمَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ لَكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَنْبَتْنَا بِهِ حَدَائِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ مَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُنْبِتُوا شَجَرَهَا أَإِلَهٌ مَعَ اللَّهِ} بھلا آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا اور آسمان سے تمہارے لئے پانی برسایا جس سے ہم نے پر بہار باغات اگائے وہاں درختوں کو اگانا تمہارے بس میں نہ تھا۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بھی ہے؟ [النمل: 60] شریکوں سے اللہ بہت بلند ہے، شریکوں سے اللہ بہت بلند ہے۔

بارش کی صورت میں نزول رحمت کے بعد زندگی یکسر بدل جاتی ہے، اس سے امیدیں اور توقعات زندہ ہو جاتی ہیں۔ فرحت، مسرت اور خوش حالی انتہا کو پہنچ جاتی ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {فَانْظُرْ إِلَى آثَارِ رَحْمَتِ اللَّهِ كَيْفَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ ذَلِكَ لَمُحْيِ الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} تو اللہ کی اس رحمت کے نتائج پر غور کیجئے کہ وہ کیسے زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ یقیناً وہی مردوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور وہی ہر ایک چیز پر قادر ہے [الروم: 50]

اللہ کے بندو!

اللہ کی نعمتیں لا تعداد ہیں، اس کی عطائیں لا متناہی ہیں، اللہ تعالی سے؛ اطاعت ، رضائے الہی کے موجب عمل، اور اللہ کی نعمتوں اور انعامات پر شکر کے ذریعے ہی ہر نعمت حاصل کی جا سکتی ہے۔ {وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَى آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ} اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیز گاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے۔ [الأعراف: 96]

مخلوق کے بارے میں اللہ تعالی کا قانون ہے: {وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ} تمہارے پروردگار نے تمہیں آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکر گزاری کرو گے تو بیشک میں تمہیں زیادہ دونگا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے ۔[إبراهيم: 7]

مسلم اقوام!

نعمتوں کی ناشکری تباہی اور بربادی کا سبب بنتی ہے، اللہ تعالی نے ہمیں ناشکری سے خبردار کیا ہے، بلکہ اس کی مثال بھی ذکر کی اور فرمایا: {وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ آمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ} اللہ تعالی نے ایک بستی کی مثال بیان کی۔ جو امن و چین سے رہتی تھی اور ہر طرف سے اس کا رزق اسے بفراغت پہنچ رہا تھا۔ پھر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی تو اللہ نے ان کے کرتوتوں کا مزا یہ چکھایا کہ ان پر بھوک اور خوف (کا عذاب) مسلط کر دیا۔ [النحل: 112]

اور قوم سبا کا واقعہ ہمارے لیے عبرت ناک ہے، اللہ تعالی نے فرمایا: {لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ جَنَّتَانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمَالٍ كُلُوا مِنْ رِزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ (15) فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنَاهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَيْ أُكُلٍ خَمْطٍ وَأَثْلٍ وَشَيْءٍ مِنْ سِدْرٍ قَلِيلٍ (16) ذَلِكَ جَزَيْنَاهُمْ بِمَا كَفَرُوا وَهَلْ نُجَازِي إِلَّا الْكَفُورَ} قوم سبا کے لئے ان کے مسکن میں ہی ایک نشانی موجود تھی۔ اس مسکن کے دائیں، بائیں دو باغ تھے۔ (ہم نے انہیں کہا تھا کہ) اپنے پروردگار کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو۔ پاکیزہ اور ستھرا شہر ہے اور معاف فرمانے والا پروردگار [15] مگر ان لوگوں نے سرتابی کی تو ہم نے ان پر زور کا سیلاب چھوڑ دیا۔ اور ان کے دونوں باغوں کو دو ایسے باغوں میں بدل دیا جن کے میوے بد مزہ تھے اور ان میں کچھ پیلو کے درخت تھے کچھ جھاؤ کے اور تھوڑی سی بیریاں تھیں۔ [16] ہم نے یہ سزا انہیں ان کی ناشکری کی وجہ سے دی تھی اور ہم ناشکروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں [سبأ: 15 - 17] پھر اس کے بعد فرمایا: {وَظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ وَمَزَّقْنَاهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ} اور (یہ کہہ کر) انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا۔ چنانچہ ہم نے انہیں افسانے بنا دیا اور تتربتر کر ڈالا۔ اس میں یقیناً ہر صابر و شاکر کے لئے کئی نشانیاں ہیں۔ [سبأ: 19]

اس لیے اللہ کے بندو! اللہ کی نعمتوں اور انعامات پر اللہ کا شکر ادا کرو گے تو اللہ تعالی تمہیں اور زیادہ عنایت کرے گا، اللہ کے فضل ، کرم، اور سخاوت پر اللہ کی حمد بیان کرو گے وہ تم پر مزید رحم فرمائے گا: {اِسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا وَيَزِدْكُمْ قُوَّةً إِلَى قُوَّتِكُمْ} تم اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو اور اسی کی جانب رجوع کرو، وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسائے گا، اور تمہاری موجودہ قوت میں مزید اضافہ کر دے گا۔[هود: 52]

{اِسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا (10)يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا (11) وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا} تم اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو بیشک وہی بخشنے والا ہے [10] وہ تم پر آسمان سے موسلا دھار بارش برسائے گا۔ [12] وہ تمہاری دولت اور نرینہ اولاد کے ذریعے مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغات اور نہریں جاری کر دے گا۔[نوح: 10- 12]

یا اللہ! ہم تجھ سے اپنے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں بیشک تو ہی بخشنے والا ہے، یا اللہ! ہم تجھ سے اپنے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں بیشک تو ہی بخشنے والا ہے، یا اللہ! ہم تجھ سے اپنے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں بیشک تو ہی بخشنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ

تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اسی نے پیدا کیا اور کامل بنایا، اسی نے درست تخمینے لگائے اور متعلقہ افراد کو ان کی رہنمائی دے دی، اسی نے ہریالی اگائی اور پھر اسے سیاہ کوڑا کرکٹ بنا دیا، اللہ تعالی نے ہمارے دین کو وسعت اور عنایت والا بنایا، اسے شفقت اور رحمت والا بنایا۔

اللہ کے بندو!

 چھٹیاں راحت، تفریح اور تر و تازہ ہونے کے ایام ہوتے ہیں، بہت سے لوگ چھٹیوں میں مختلف جگہوں کی سیر و سیاحت کو ترجیح دیتے ہیں، تو اگر ان میں اسراف ،اوقات کا ضیاع، اور مباح امور میں حد سے تجاوز کرنے کا عنصر نہ ہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ادب کی ضرورت اور اہمیت - خطبہ جمعہ مسجد نبوی

مسلم اقوام!

دین اسلام میں انسانیت کے تمام حالات سے متعلق رہنمائی موجود ہے، چنانچہ اسلامی احکامات میں اقامت اور سفر کے بھی احکام ہیں، اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ سفر کے آداب اور احکام سیکھے، اسی طرح اقامت پذیر ہونے کے بھی احکام سیکھے۔

تو سفر کے آداب میں یہ بھی شامل ہے کہ اہل خانہ کو الوداع کہیں، گھر سے نکلنے اور سواری پر بیٹھنے کی دعا پڑھیں، جیسے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: (جس وقت رسول اللہ ﷺ سفر کے لئے اپنے اونٹ پر سوار ہوتے تو تین بار اللہ اکبر کہہ کر فرماتے:  (سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ، وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ، اللَّهُمَّ إِنّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا البِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَليفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ  [ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے لیے مسخر کر دیا ہے ، ہم میں اس کی طاقت نہ تھی، اور ہم اپنے پروردگار کی جانب ہی لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور پرہیز گاری مانگتے ہیں اور ایسے کام کا سوال کرتے ہیں جسے تو پسند کرے۔ اے اللہ! ہم پر اس سفر کو آسان کر دے اور اس کی مسافت کو ہمارے لیے سمیٹ دے۔ اے اللہ تو ہی سفر میں رفیق سفر اور گھر میں نگران ہے۔ اے اللہ! میں تجھ سے سفر کی تکلیفوں اور رنج و غم سے اور اپنے گھر بار کی زبوں حالی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔] اور جس وقت آپ واپس ہوتے تو یہ بھی فرماتے اور مزید کہتے:  آيِبُونَ، تائِبُونَ، عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ  [ترجمہ: ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے، خاص اپنے رب کی عبادت کرنے والے اور اسی کی تعریف کرنے والے ہیں]) بخاری

سفر کے آداب میں یہ بھی شامل ہے کہ سفر کے لئے مناسب دن اختیار کرے، اور اگر جمعرات کا دن ہو تو یہ اچھا ہے، ایسے ہی وقت بھی مناسب اختیار کرے، چنانچہ اگر صبح سویرے نکلے تو اچھا ہے، اس کی دلیل میں کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : (رسول اللہ ﷺ جب بھی سفر کرتے تو اکثر جمعرات کو ہی سفر کرتے تھے اور آپ کہا کرتے تھے: یا اللہ! میری امت کے لئے صبح سویرے کے وقت میں برکت فرما دے۔ اسی طرح جب آپ کوئی لشکر یا سرّیہ بھیجتے تو دن کے آغاز میں ہی بھیجتے تھے)"صخر تاجر تھے تو وہ اپنی تجارت کے قافلے کو صبح سویرے بھیجتے تھے، تو وہ صاحب ثروت ہو گئے اور مالدار بن گئے۔" ترمذی اور ابو داود نے اسے روایت کیا ہے اور البانی نے اس کی سند کو جید قرار دیا ہے۔

سفر کے آداب میں یہ بھی شامل ہے کہ اچھے ساتھیوں اور رفقا کے ہمراہ سفر کریں تنہا سفر مت کریں، چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: (نبی ﷺ نے فرمایا: اگر لوگوں کو تنہائی کی خرابیوں کا علم ہو جائے تو کوئی ایک رات بھی تنہا سفر نہ کرے)

سفر کے آداب میں یہ بھی ہے کہ واجبات کی ادائیگی کا بھر پور خیال رکھیں، نمازیں قائم کریں، اللہ تعالی نے ہمیں نمازوں کو تاخیر سے پڑھ کر ضائع کرنے سے خبردار فرمایا ہے: { فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ (4) الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ} تباہی ہے ایسے نمازیوں کے لئے جو اپنی نمازوں میں غفلت کرتے ہیں۔[الماعون: 4، 5]

سفر میں چار رکعت نماز کو قصر ادا کرنا سنت ہے، اللہ تعالی کا فرمان ہے: {وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ} جب تم سفر پر جا رہے ہو تو تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں ۔[النساء: 101] نیز ظہر اور عصر ، اسی طرح مغرب اور عشا کی نمازیں جمع کرنے کی بھی رخصت ہے۔

صاحب شریعت نے مقیم کو ایک دن اور رات موزوں پر مسح کرنے کی اجازت دی ہے، جبکہ مسافر کے لئے تین دن اور راتوں کی اجازت ہے۔

یہ بھی آداب میں شامل ہے کہ ماحول کو گندا مت کریں، کوڑا کرکٹ، گند، اور کچرا صرف مخصوص جگہوں میں ڈالیں۔ سیر و سیاحت کرنے والوں کو تکلیف مت پہنچائیں، نظریں جھکا کر رکھیں، دوسروں کی پردے والی چیزوں کو اپنی نظروں سے بچائیں، لوگوں کے راستوں اور گزر گاہوں میں گاڑیاں مت کھڑی کریں، عوام الناس کے لئے فراہم کی گئی سہولیات ، آلات، اور خدمات کو خراب مت کریں۔

مسلم اقوام!

اگر کوئی شخص صحرا میں سفر کرنا چاہتا ہے اور اتنی دور جاتا ہے کہ قصر کی مسافت طے ہو جاتی ہے تو وہ سفر کی رخصتوں پر عمل کر سکتا ہے، اسلام وسعت اور فراخی کا دین ہے، دینی معاملات میں بے جا تنگی نہیں رکھی گئی۔

یا اللہ! ہمیں دین کی سمجھ عطا فرما، یا اللہ! ہمیں دین کی سمجھ عطا فرما، یا اللہ! ہمیں دین کے احکامات سکھا دے۔

یا اللہ! اسلام اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرما، یا اللہ! شرک اور مشرکوں کو ذلیل و رسوا فرما، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات سنوار دے، یا اللہ! پوری دنیا میں مسلمانوں کے حالات سنوار دے۔

یا اللہ! اس ملک کو اور دیگر تمام اسلامی ممالک کو پر امن اور مستحکم بنا دے، یا رب العالمین!

یا اللہ! ہمیں ہمارے وطنوں میں امن و امان عطا فرما، اور ہمارے حکمرانوں کی اصلاح فرما۔

یا اللہ! ہمارے حکمران خادم حرمین شریفین کو خصوصی توفیق سے نواز، ان کی خصوصی مدد فرما، یا اللہ! انہیں اور ان کے ولی عہد کو تیری رضا کے حامل کام کرنے کی توفیق عطا فرما، یا اللہ! ان دونوں کی پیشانی سے پکڑ کر نیکی اور تقوی کے کاموں کے لئے رہنمائی فرما، یا اللہ! دونوں کو ملک و قوم کی ترقی اور بہتری کے اقدامات کرنے کی توفیق عطا فرما، یا رب العالمین!

یا اللہ! دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنے دین پر ثابت قدم بنا، یا اللہ! دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو تیری اطاعت پر ثابت قدم بنا دے۔

یا اللہ! تیری حلال کردہ روزی کے ذریعے تیری حرام کردہ چیزوں سے محفوظ بنا دے۔ یا اللہ! اپنا خصوصی فضل کرتے ہوئے ہمیں تیرے علاوہ ہر کسی سے مستغنی کر دے۔

اللہ کے بندو!

اللہ تعالی نے تمہیں نبی ﷺ پر درود و سلام پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: {إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا} اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجا کرو۔ [الأحزاب: 56]

 اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اَللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.

یا اللہ! ہدایت یافتہ خلفائے راشدین : ابو بکر ، عمر، عثمان، علی اور دیگر تمام صحابہ سے راضی ہو جا؛ یا اللہ! اپنے رحم و کرم کے صدقے ہم سے بھی راضی ہو جا، یا ارحم الراحمین!

Comments

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن مغل

شفقت الرحمن جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ایم ایس تفسیر کے طالب علم ہیں اور مسجد نبوی ﷺ کے خطبات کا ترجمہ اردو دان طبقے تک پہنچانا ان کا مشن ہے. ان کے توسط سے دلیل کے قارئین ہر خطبہ جمعہ کا ترجمہ دلیل پر پڑھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.