شادی کو آسان بنائیں - بشارت حمید

ہمارے ہاں ایک بات اکثر کہی جاتی ہے کہ شادی زندگی میں ایک ہی بار ہونی ہے لہذا اس کو ایک یادگار ایونٹ ہونا چاہیے۔ اب اس سوچ کے تحت ہر کسی کے ذہن میں یادگار بنانے کے اپنے ہی من گھڑت طور طریقے ہیں۔ ذرا جائزہ لیجیے کہ اسلام کے شادی کے تصور جس میں صرف نکاح اور ولیمہ کی تقریب کے سوا کچھ نہیں۔ لیکن ہم انڈین فلموں اور ڈراموں کے زیر اثر اور مارننگ شوز میں بتائی گئی شادی کی رسموں کو اپنا کر اپنے آپ کو جدید خیال اور ماڈریٹ ثابت کرنے کے لیے اس سادہ سے معاملے کو کتنا گھمبیر بنا چکے ہیں۔۔

مرد اور عورت ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔ جہاں اللہ نے انسان کے اندر جسمانی طاقت کے لیے خوراک کی ضرورت کو بھوک کی شکل میں رکھا ہے، وہیں نسل انسانی کا سلسلہ آگے بڑھانے کے لیے جنسی جذبہ ایک منہ زور داعیہ بنا کر جبلت میں شامل کر دیا ہے۔ پھر اس جذبے کی تسکین کے لیے جائز راستہ بھی مقرر فرما دیا ہے کہ چند لوگوں کی مجلس میں اعلان کرکے کسی عورت کو اپنی زوجیت میں لے کر اس کی ضروریات زندگی کی ذمہ داری بھی اٹھاؤ اور اپنی خواہش نفس کی تسکین بھی حاصل کرو اور اس کے ذریعے سے اپنی نسل اور خاندان کا سلسلہ آگے بڑھاؤ۔

اسلام نے شادی کو سادہ اور سہل رکھا ہے اور نکاح مسجد میں کرنے کی ترغیب دی ہے، جبکہ لڑکی والوں پر کسی قسم کا بوجھ نہیں ڈالا اور صرف لڑکے پر دعوت ولیمہ لاگو کی ہے کہ جس قدر استطاعت ہو اتنا انتظام کر لو۔ لیکن ہم برصغیر کے لوگ جب تک مالی طور پر اجڑ نہ جائیں، ہمیں لگتا ہی نہیں کہ یہ شادی ہوئی ہے۔ ہمارے ہاں شادی میں ایک عنصر ہر طرف غالب نظر آتا ہے اور وہ ہے نمود و نمائش۔ دلہا دلہن اور ان کے والدین سے لے کر شادی کی تقریب میں شرکت کرنے والا ہر مرد اور عورت اپنی دولت اپنے حسن و جمال اور سٹیٹس کی نمائش کرتا نظر آئے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   وہی محرومیاں، وہی مسائل - ایم سرورصدیقی

کرنسی نوٹوں کے ہار بنانا اور پھر دلہا کی گاڑی پر نوٹوں کی گڈیاں کھول کھول کر پھینکنا۔ بینڈ باجے اور ان پر ویلیں دینے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانا۔ آتش بازی پر ہزاروں روپے اپنے ہاتھوں سے جلا کر خاکستر کر دینا۔ زیادہ پیسہ ہے تو محفل موسیقی کا انتظام کرنا اور اس میں پھر شراب نوشی اور ہر قسم کی لغویات میں مشغول ہونا۔ یہ ہم کس دین کی پیروی کر رہے ہیں؟ ان سب فضول کاموں کا حاصل کیا ہے؟ جتنے پیسے ان رسموں میں برباد کر دیے جاتے ہیں ان سے کتنی غریب بچیوں کی رخصتی کروائی جا سکتی ہے لیکن کیوں جی، پھر ہمارے نفس کی تسکین تو نہیں ہو پائے گی جو اس نمود و نمائش سے ملتی ہے۔ اگر کوئی غریب ہم سے مدد مانگنے آ جائے تو سو بہانے لگا کر جان چھڑوا لیتے ہیں لیکن ان رسموں میں بنا کسی مقصد کے لاکھوں روپے ادھار لے کر بھی برباد کر دیتے ہیں جن کا حاصل کچھ بھی نہیں۔

شادی صرف فنکشن کو یادگار بنا لینے کا نام نہیں۔ اگر بعد میں میاں بیوی کا آپس میں سلوک ہی نہ بن پایا تو یادگار فنکشن کی کیا حیثیت باقی رہ جائے گی پھر۔ شادی ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ جس طرح خوراک کے حصول کے لیے انسان تکلفات میں پڑے بغیر کوئی کام دھندا کرتا ہے اور اپنی خوراک کا بندوبست کرتا ہے، اسی طرح شادی بھی تکلفات کے بغیر اور سادہ انداز سے ہونی چاہیے۔ یہ بات ذہن سے کھرچ کر نکال دینی چاہیے کہ جو کام زندگی میں ایک بار ہونا ہے تو اس کو بھرپور سیلی بریٹ کرنا ہے، چاہے وہ ہمارے لیے مشکل ترین بن کر رہ جائے۔ زندگی میں انسان کو ہر چیز ایک بار ہی ملتی ہے۔ جو روز ایک نیا دن طلوع ہوتا ہے وہ بھی ایک ہی بار ہوتا ہے اور پھر دوبارہ پلٹ کر واپس نہیں آتا۔

یہ بھی پڑھیں:   نکاح کی اہمیت ، ضرورت اور مقصد - مولانا عبدالمتین

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان فضولیات سے کنارہ کش ہوتے ہوئے سادگی کے ساتھ شادی کو اپنائیں۔ زندگی میں سکون کبھی بھی شادی کے مہنگے فنکشن یا رسموں کو پورا کرنے سے نہیں ملتا۔ اگر اللہ نے ہمیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اس میں معاشرے کے غریب طبقات کا بھی حق ہے۔۔ اپنا پیسہ رسموں میں اجاڑنے کے بجائے کسی ضرورت مند کی مدد میں صرف کریں۔ اس کے لیے کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ یہ ضرورت مند ہمارے اپنے خاندان میں ہی نظر آ جائیں گے۔ کسی مستحق کی مدد کریں اور دعائیں لیں کہ ان کی وجہ سے زندگی میں سکون آئے گا۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.