قائداعظم کے افسوسناک آخری لمحات - ''میرا بھائی'' سے اقتباس

اگست کے اواخر میں قائد اعظم پر اچانک مایوسی کا غلبہ ہو گیا۔ ایک دن میری آنکھوں میں غور سے دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا "فاطی! اب مجھے زندہ رہنے سے کوئی دلچسپی نہیں۔ جتنی جلد چلا جاؤں اتنا ہی بہتر ہے۔" یہ نہایت مایوس کن اور منحوس الفاظ تھے، میں دھک سے رہ گئی، یوں جیسے میں نے بجلی کا ننگا تار پکڑ لیا ہو، پھر بھی میں نے صبر و ضبط سے کام لیا، اور کہا "جن ، تم بہت جلد ٹھیک ہو جاؤ گے۔ ڈاکٹروں کو پوری امید ہے۔" میری بات سن کر وہ مسکرائے اس مسکراہٹ میں مردنی چھپی تھی، انہوں نے کہا "نہیں ۔۔۔ اب میں زندہ رہنا نہیں چاہتا۔"

یکم ستمبر کو ڈاکٹر الہی بخش نے گھمبیر لہجے میں مجھے بتایا "قائد اعظم کو ہیمریج ہو گیا ہے۔ میں بہت پریشان ہوں، ہمیں انھیں کراچی لے جانا چاہیے، کوئٹہ کی بلندی ان کے لیے اچھی نہیں ہے۔ " غرض قائد کی صحت بگڑتی چلی گئی۔ 5 ستمبر کو ان کے بلغم کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹروں نے بتایا کہ بلغم میں نمونیہ کے جراثیم موجود ہیں، ان کے خون میں انفیکشن کی علامات بھی پائی گئیں۔ ان کو سانس لینے میں تکلیف محسوس ہو رہی تھی۔

7 ستمبر کو میں نے مسٹر اصفہانی کو واشنگٹن فون کیا کہ وہ امریکن ماہرین کو بذریعہ طیارہ بھیج دیں، ان ماہرین کے نام ڈاکٹر ریاض نے تجویز کیے تھے۔ اگلے روز میں نے کراچی کے ڈاکٹر مستری کو فون کیا کہ وہ فورا ً کوئٹہ پہنچیں۔ ادھر ڈاکٹروں کے درمیاں ایک اور کانفرنس ہوئی، انہوں نے صورتحال کے تمام پہلووں کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا کہ اب قائد کو فورا کراچی منتقل کرنا بہت ضرورری ہے، کیونکہ کوئٹہ کی بلندی ان کے کمزور دل کے لیے مناسب نہ تھی۔

ڈاکٹروں نے بڑے بھاری دل کے ساتھ مجھے اطلاع دی کہ اب کوئی امید باقی نہیں، اور صرف کوئی معجزہ ہی انہیں بچا سکتا ہے۔ جب میں نے اپنے بھائی کو ڈاکٹروں کے اس مشورے سے آگاہ کیا کہ انہیں کراچی لے جایا جائے تاکہ وہ کوئٹہ کی بلندی سے دور رہ سکیں تو انہوں نے کہا "ہاں! مجھے کراچی لے چلو، میں وہیں پیدا ہوا، وہیں دفن ہونا چاہتا ہوں۔"
ان کی آنکھیں بند ہوگئیں اور میں ان کے قریب پٹی سے لگی بیٹھی رہی، وہ بے ہوش تھے اور اس بے ہوشی کے عالم میں بھی ان کے خوابوں کی باز گشت سنتی رہی۔ وہ بڑ بڑارہے تھے "کشمیر ۔۔۔ ۔۔ انہیں ۔۔۔ فیصلہ کرنے کا ۔ ۔ ۔ حق ۔ ۔ ۔دو ۔ ۔ ۔ آئین ۔ ۔ ۔ میں اسے مکمل کروں گا ۔ ۔ ۔ ۔ بہت جلد ۔ ۔ ۔ مہاجرین ۔ ۔ ۔ ان کی ہر طرح ۔ ۔ ۔ مدد کرو ۔ ۔ پاکستان ۔ ۔ ۔ "

گورنر جنرل کے وائی کنگ طیارے کو فوری طور پر کوئٹہ پرواز کرنے کا حکم دے دیا گیا تھا اور ڈاکٹروں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ 11 ستمبر کو بعد دوپہر دو بجے کراچی واپس جانے کے لیے ہم ائر پورٹ پر ہوں گے۔ جب انہیں سٹریچر پر ڈال کر وائی کنگ کے کیبن میں لے جایا جارہا تھا تو طیارے کا کیبن اور عملہ انھیں سلامی دینے کے لیے ایک قطار میں کھڑے تھے۔ قائد نے بمشکل تمام اپنا کمزور ہاتھ اٹھا کر ان کے سلام کا جواب دیا۔ {پاک فضائیہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ قائد کو پاکستان کی سرزمین پر پہلا سیلوٹ 14 اگست کو ماڑی پور ائیرپورٹ پر اور زندگی کا آخری سیلوٹ کوئٹہ کے ہوائی اڈہ پر پاک فضائیہ ہی نے کیا تھا} ہم نے ان کو احترام کے ساتھ ان کی نشستوں پر لٹا دیا جنھیں اگلے کیبن میں عارضی بستر کی شکل میں تبدیل کردیا گیا تھا، ان کے ساتھ میں، ڈاکٹر مستری اور سسٹر ڈنہم بیٹھے تھے۔ پائلٹ نے ہمیں خبردار کیا کہ کچھ وقفے کے بعد اسے طیارے کو سات ہزار فٹ کی بلندی پر اڑنا ہوگا، اور جوں ہی طیارہ بلوچستان کا پہاڑی علاوہ پار کرلے گا تو طیارہ کو پھر پانچ ہزار فٹ کی بلندی لے آئے گا۔ آکسیجن سلنڈر اور گیس ماسک تیار تھے، زیادہ بلندی پر مجھے ہی انہیں آکسیجن دینی تھی۔ ہم جلد ہی فضا میں بلند ہو گئے، طیارہ بلند سے بلند تر ہوتا چلا گیا۔ قائد کو سانس لینے میں دقت محسوس ہوئی تو میں نے گیس ماسک ان کے منہ سے لگا دیا۔ کچھ دیر تک وہ آکسیجن لیتے رہے، اور پھر کمزور ہاتھ سے ماسک کو ہٹا دیا اور مجھے یوں دیکھا گویا وہ کہہ رہے ہوں، "سب کچھ بےکار ہے، سب کچھ ختم ہو چکا ہے"۔

یہ بھی پڑھیں:   ”یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے“ - راحیلہ چوہدری

میں نے ڈاکٹر مستری سے کہا کہ وہ ڈاکٹر الہی بخش کو بلا لائیں، اور پھر مجھے یوں دیکھ کر اطمینان ہوا کہ ڈاکٹر الٰہی بخش انھیں آکسیجن لینے پر رضامند کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اپنی تمام زندگی میں اس سے زیادہ پریشان کن سفر میں نے کبھی نہیں کیا۔ دو گھنٹے کی پرواز کے بعد ہم سہ پہر سوا چار بجے ماڑی پور ائیرپورٹ پر اترے، یہ وہی ائیرپورٹ تھا جہاں ایک سال قبل وہ نہایت پر اعتماد انداز میں اور اس امید کے ساتھ اترے تھے کہ وہ پاکستان کو عظیم قوم بنائیں گے، اس وقت ائیرپورٹ پر ہزاروں افراد جن میں کابینہ کے وزراِ اور سفارتی مشنوں کے ارکان بھی شامل تھے، ان کے لیے استقبال کے لیے موجود تھے، لیکن اس دن جیسا کہ پہلے ہدایت کردی گئی تھی، ہوائی اڈے پر کوئی نہ تھا۔
جونہی ہم طیارے سے باہر آئے، گورنر جنرل کے ملٹری سیکرٹری کرنل جیفری ناولز نے ہمارا استقبال کیا، قائد کو ایک سٹریچر پر لٹا کر ایک فوجی ایمبولینس میں لے جایا گیا، یہ انھیں گورنر جنرل ہاؤس لے جانے کے لیے پہلے سے وہاں موجود تھی۔ میں اور سسٹر ڈنہم ان کے ساتھ ایمبولینس میں بیٹھے تھے۔

ایمبولینس بہت سست روی سے چل رہی تھی، ہماری پارٹی کے دوسرے لوگ گاڑیوں سے روانہ ہو چکے تھے، صرف ڈاکٹر مستری اور ملٹری سیکرٹری گورنر جنرل کی کیڈلک کار میں ہماری ایمبولینس کے پیچھے تھے۔ ابھی ہم نے چار میل کا سفر ہی طے کیا تھا کہ ایمبولینس نے اس طرح ہچکیاں لیں، جیسے اسے سانس لینے میں مشکل درپیش ہو رہی ہو اور پھر وہ اچانک رک گئی۔ کوئی پانچ منٹ بعد میں ایمبولینس سے باہر آئی تو مجھے بتایا گیا کہ ایمبولینس کا پٹرول ختم ہو گیا۔ اگرچہ ڈرائیور نے انجن سے الجھنا شروع کردیا تھا لیکن انجن نے نہ سٹارٹ ہونا تھا نہ ہوئی۔ میں پھر ایمبولینس میں داخل ہوئی تو قائد نے آہستہ سے ہاتھ کو حرکت دی اور سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا، میں نے جھک کر آہستگی سے کہا، "ایمبولینس کا انجن خراب ہو گیا ہے"۔ انہوں نے آنکھیں بند کر لیں۔ عموما کراچی میں تیز سمندری ہوائیں چلتی رہتی ہیں، جس سے درجہ حرارت قابل برداشت رہتا ہے، اور گرم دن کی حدت سے نجات مل جاتی ہے، لیکن اْس دن ہوا بالکل بند تھی اور گرمی نا قابل برداشت۔ قائد کی بےآرامی میں اضافہ کا سبب یہ تھا کہ بےشمار مکھیاں ان کےچہرے پر بھنبنا رہی تھیں، اور ان کے ہاتھ میں اتنی طاقت نہ رہی کہ مکھیوں کے حملے سے بچنے کے لیے انہیں اٹھا بھی سکتے۔ سسٹر ڈنہم اور میں باری باری انہیں پنکھا جھل رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   ”یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے“ - راحیلہ چوہدری

ہم منتظر رہے کہ شاید کوئی اور ایمبولینس آجائے، ہر لمحہ کرب و اذیت کا ایک لامتناہی لمحہ تھا، قائد کو ہم کیڈلک میں بھی منتقل نہیں کرسکتے تھے کہ وہ اتنی بڑی نہیں تھی کہ اس میں اسٹریچر سما سکے، چنانچہ امید و بیم کی کیفیت میں ہم انتظار کرتے رہے۔ قریب ہی مہاجرین کی سینکڑوں جگھیاں موجود تھیں، مہاجرین اپنے روزمرہ کے کاموں مصروف تھے، انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ ان کا وہ قائد جس نے ان کو ایک وطن دیا ہے، ان کے درمیان موجود ہے اور ایک ایسی ایمبولینس میں بےیار و مددگار پڑا ہے، جس کا پٹرول بھی ختم ہو گیا ہے۔ کاریں ہارن بجاتی قریب سے گزر رہی تھیں، بسیں اور ٹرک اپنی منزلوں کی طرف رواں تھے اور ہم وہاں ایک ایسی ایمبولینس میں بےحس و حرکت پڑے تھے جو ایک انچ بھی آگے بڑھنے کو تیار نہ تھی، اور اس بےحس و حرکت ایمبولینس میں ایک نہایت قیمتی زندگی آتی جاتی سانس کے ساتھ قطرہ قطرہ ختم ہو رہی تھی۔

ہم وہاں کوئی ایک گھنٹے منتظر رہے۔ میری زندگی میں کوئی اور گھنٹہ اتنا طویل اور دردناک نہیں آیا، تب خدا خدا کر کے ایک اور ایمبولینس آئی، انھیں سٹریچر کے ذریعے نئی ایمبولینس میں منتقل کیا گیا اور یوں آخر کار ہم پھر گورنر جنرل ہاؤس کی طرف روانہ ہوئے۔ گورنر جنرل ہاؤس میں انہیں آہستگی سے بستر پر لٹا دیا گیا تو میں نے گھڑی دیکھی، ماڑی پور ائیرپورٹ پر اترے ہوئے ہمیں دو گھنٹے ہو گئے تھے۔ کتنی عجیب بات تھی دو گھنٹے میں ہم کوئٹہ سے کراچی پہنچے اور دو گھنٹے ہمیں ماڑی پور سے گورنر جنرل ہاؤس پہنچنے میں لگے۔

ڈاکٹروں نے ان کا معائنہ کیا اور دبے الفاظ میں کہا " فضائی سفر کے لیے ہی ان کی حالت کیا کم خراب تھی کہ ایمبولینس کا یہ تکلیف دہ واقعہ بھی پیش آگیا۔ جلد ہی وہ گہری نیند سو گئے اور ڈاکٹر یہ کہتے ہوئے گورنر جنرل ہاؤس سے یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ وہ جلد ہی واپس آجائیں گے۔ اب میں اپنے بھائی کے ساتھ بالکل تنہا تھی۔

میرا بھائی بہت گہری نیند سو رہا تھا۔ میرے ذہن میں گویا ایک وجدانی تصور ابھرا اور میں نے یہ محسوس کیا کہ یہ پر سکون نیند بجھنے والی شمع کی لو کی آخری تیز چمک ہے۔ میں خاموش تھی اور خاموشی میں اپنے بھائی سے مخاطب تھی: "اوہ جن؛ کاش ڈاکٹر میرا تمام خون نچوڑ کر تمھیں دے دیں تا کہ تم زندہ رہو۔ کاش خدا میری زندگی کے تمام برس لے کر تمہیں دے دے تا کہ تم ہماری قوم کی رہنمائی کرتے رہو تو میں خدا کی کتنی شکر گزارہوں گی"۔ تقریباً دو گھنٹے کی پر سکون اور بےدخل نیند کے بعد انہوں نے آنکھیں کھولیں، مجھے دیکھا سر اور آنکھوں کے اشارے سے مجھے قریب آنے کو کہا، آخری مرتبہ کوشش کر کے زیر لب مجھ سے مخاطب ہوئے: "فاطی! خدا حافظ ۔ ۔ ۔ لا اِلٰہ ۔ ۔ ۔ ۔ الا اللہ محمد ۔ ۔ ۔ الرسول ۔ ۔ ۔ اللہ " پھر ان کا سر دائیں جانب کو آہستگی سے ڈھلک گیا اور آنکھیں بند ہو گئیں۔