اسلام کے بارے میں جدت پسندوں کی غلط فہمیاں - حافظ یوسف سراج

اسلام کے بارے میں جدت پسند اور قدامت پسند لوگوں میں دو طرح کی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔

ایک گروہ یا طبقہ سمجھتا ہے کہ دین بس مولوی کے فرمان کا نام ہے، اور وہ بھی اس کے اپنے مولوی کے فرمان کا۔ یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی عقل کو یا دوسرے مولوی کی بات کو ذرا سا بھی دخل دے دیا تو یہ صاف بے دینی کا کام ہوگا، سو یہ ڈٹے ہیں، اور ماشاللہ اچھے بھی ہیں، اچھے خاصے بھی ہیں۔

دوسرا گروہ سمجھتا ہے، مولوی نے بس دکانداری سجا رکھی ہے، یہ خواہ مخواہ کا مڈل مین بن بیٹھا ہے، وگرنہ دین تو خالص ہر آدمی کے اپنے اپنے فہم کا نام ہے، یہ سمجھتے ہیں، مولوی سے ذرا سا بھی پوچھ لیا تو گئے جدت کے کام اور نام سے۔

ایک تیسرا طبقہ بھی ہے، جو اس چکر میں رہتا ہے کہ ان کے من کو بھاتی دین کی تعبیر کہاں سے مل سکتی ہے؟

میری رائے میں یہ سب غلطی پر ہیں، اور ان میں سے سب سے صریح غلطی پر وہ ہیں، جو مولوی کو کلی طور پر دین سے بے دخل کر دینا چاہتے ہیں، اس لیے نہیں کہ اس سے مولوی کی اہانت ہوتی ہے، بلکہ اس لیے کہ ان لوگوں نے دراصل جنس اہلِ جنس سے لینے سے ہی انکار کر دیا، ٹھیک وہی شخص جو جنس کے بارے میں اصلی اور بنیادی معلومات رکھتا ہے۔ مثلا ایک شخص سمجھے کہ چونکہ ڈاکٹرز نے لوٹ کا بازار گرم کر رکھا ہے، ڈاکٹرز کے نام پر اتائیوں اور بہروپیوں نے بھی 'انی' 'مچا' یا 'پا' رکھی ہے، تو اس اندھیر نگری اور لوٹ مار سے بچنے کا واحد حل یہ ہے کہ وہ آئندہ مرتے مر جائے گا، کسی ڈاکٹر سے علاج نہیں کروائے گا۔ اب ایسے شخص کا انجام آپ خود سوچ لیجیے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ لوگ کسی بھی شعبے میں ایسا پسند نہیں کرتے، سوائے دینیات کے۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلام نے عورت کو عزت دی - حاجی محمد لطیف کھوکھر

میرے نزدیک ہر وہ شخص درست راہ پر ہے، جو کسی بھی مسلک کی جید اہلِ علم شخصیات سے دین کی تعبیر سیکھ رہا ہے اور دوسرے ایسا کرنے والوں کو بھی کم از کم دین سیکھنے کی درست راہ پر سمجھ رہا ہے۔ باقی تو سب خواہشِ نفس کی پیروی ہے، اپنی عقل ہی کامل ہوتی تو رسول کی کیا ضرورت تھی اور ہر پیشے کے ماہرین کی کیا ضرورت تھی؟ ایسانہ کبھی پہلے ہو سکا، نہ اب ممکن ہے۔ مثلا دین عربی زبان میں تھا،اور قرآن بھی عربی میں ہے، اس کے باوجود صحابہ کو دین رسول اللہ سے سیکھنا پڑا۔ آج کوئی شخص اہلِ علم کو درمیان سے ہٹا کے اگر خود دین سمجھنا بہتر خیال کرے تو ماننا پڑے گا یہ شخص صحابہ سے زیادہ ہوشیار اور ذہین ہے، جو ظاہر ہے ممکن نہیں۔

دلچسپ بات یہ کہ یہ معاملہ اور یہی فکر مولویوں کے ایک طبقے میں بھی بعینہ جاری و ساری ہے۔ یہ نیم خواندہ مولوی بھی دین سے بالکل وہی سلوک کرتے ہیں، جو جدت پسند اور فیشن کے دلدادہ لوگ کرتے ہیں، یعنی جو ان کی سمجھ میں آ گیا، وہی دین اور باقی سب عین بے دینی۔ حیرت کی بات یہ کہ یہ محض اپنے حلیے یا پیشے کی آڑ لے کر ہر جگہ بے دریغ قرآن یا حدیث کے اقتباسات نقل کرتے چلے جائیں گے۔ حالانکہ ہر جگہ معنی میں ایک گہرائی اور شعور ہوتا ہے۔ مثلا، روزے کے سیاق میں آیت اتری کہ تب تک کھاؤ پیو، جب تک سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے جدا نہیں ہو جاتا۔ جس صحابی نے اس بات کو سمجھا نہیں تھا، وہ دو دھاگے سرہانے رکھ کے لیٹ گیا، حالانکہ اس سے صبح کاذب اور صبحِ صادق کا بیان مقصود تھا۔ تو ہر شعبے میں سپیشلسٹ علما کو بات کرنے دینا چاہیے۔

معاملہ تب اور بھی زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے، جب ایسے مولوی ایسے جدید معاملات پر بھی بے دھڑک رائے دینے لگتے ہیں، جن پر ان کو دسترس حاصل نہیں۔ ان کو اندازہ ہی نہیں ہو پاتا کہ اپنے بیانات سے اور اپنے تئیں کس قدر عجلت میں یہ لوگ اس سرزمین کو اہلِ اسلام سے پاک کرتے جا رہے ہیں۔ دینی تڑپ اپنی جگہ قابلِ تعریف ہے، لیکن اگر یہ مرہم کے بجائے زخم میں پیپ بھرنے کا کام کرے تو مریض کو کسی دوسرے ڈاکٹر تک جانے دینا چاہیے، بجائے اس کے کہ اس کے دینی کفن دفن اور قبر کشائی پر جت جایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت کا گھر سے باہر نکلنا - تزئین حسین

آخری بات یہ کہ دین وہی ہے ، جو روایت سے جڑا ہوا ہو، جس کی جڑیں اسلاف کے ہاں پائی جائیں۔ کوئی بھی نیا پودا اگر خدا نے لگانا ہوتا تو وہ سلسلہ نبوت بند نہ کرتا۔ سو جدت ہو کہ قدامت ایک تو سلسلہ سلف سے جڑا ہونا چاہیے، دوسرا تحمل اور اپنے مبلغ علم کے مطابق بات کی جانی چاہیے۔ آدمی کو یہ یقین نہیں کر لینا چاہیے کہ دھرتی پر دین کا رکھوالا وہی آخری آدمی ہے۔ ممکن ہے اور بھی ہوں، اور ہم آپ سے کچھ زیادہ ہی اصحابِ تقوی بھی ہوں اور دین کے جانکار بھی۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.