‎خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے - جویریہ سعید

زمانہ بدل گیا ہے۔ ہم سب میچور ہوگئے ہیں۔ ہم تعلیم یافتہ اور روشن خیال ہیں، دقیانوسی آئیڈیلزم، احمقانہ افکار اور غلامانہ ذہنیت کا شکار نہیں۔ ہم تعلیم یافتہ، روشن خیال اور بااعتماد خواتین گزرے وقتوں کی ان آئیڈیل پرست لڑکیوں کا مذاق اڑاتی ہیں جو کسی پرنس چارمنگ/شہزادہ گلفام کے انتظار میں آہیں بھرا کرتی تھیں۔ خواتین کے رسالوں اور ان میں بیان کردہ جذبات اور مناظر کا مضحکہ اڑا کر خود کو بہت میچور سمجھتی ہیں۔

‎ان کا کیا کام تھا اس کے سوا کہ گھنی مونچھوں تلے عنابی ہونٹوں کی دبی مسکراہٹ پر حیا سے بل کھا کر رہ جانے کے خواب دیکھا کریں۔ ان کی زندگی کی معراج یہ تھی کہ اچھی جگہ شادی ہوجائے اور چھوٹے سے پرسکون گھر پر راج کریں۔ ہم ان سب سے بلند ہوچکے۔ ہم اپنی دنیا آپ پیدا کریں گے۔ اعلی تعلیم، جاب اور خود مختاری ہمارا خواب ہے۔ مگر عمل کی دنیا میں یہ ہوتا ہے کہ انسانی جذبات اور خواب صرف جدید صورتوں میں ہی ڈھل پاتے ہیں۔ اور ظاہری شکل میں فرق دیکھ کر ہم سمجھتے ہیں کہ بنیادی سوچ میں بھی تبدیلی آگئی ہے۔

‎آج ہم دیکھتے ہیں کہ نئی سنڈریلا کا خواب پرنس چارمنگ سے گرا تو فواد خان میں اٹک گیا۔ آج مشرق ہو یا مغرب مرد اداکاروں اور دوسرے سلیبریٹیز کے لیے مرنے والی خواتین کا جنون کم نہیں ہوا بلکہ بڑھا ہے۔ عاطف اسلم اور فواد خان کے لیے اچھی خاصی پڑھی لکھی لڑکیاں جس طرح کے جذبات رکھتی ہیں، وہ یہ جتانے کے لیے کافی ہیں کہ عورت ہیرو ورشپ کے رومانس سے باہر آئی ہے یا نہیں۔ مغرب کا حال کون سا بہتر ہے۔ One direction, Justin Beiber, Jamie Dornan کے پیچھے لڑکیوں کا جنوں دیکھ لیجیے۔

‎شادی سے بیزاری کااظہار کر کے ہم یہُ جتانا چاہتے ہیں کہ ہم اس جنسی غلامی اور جنسی انحصاری کے بوسیدہ نظام سے آزاد ہوچکے مگر دوسری طرف کورٹ شپ، بوائے فرینڈ گرل فرینڈ کلچر، لڑکوں لڑکیوں کی باہم دوستیوں اورُ یہاں تک کہ جنسی رویوں میں انتہاؤں سے گزر جانے کی شرح دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ آج کا انسان جنس میں ہی Preoccupied رہتا ہے۔ ویا صنفی تعلق کی ایک شکل ”شادی“ کا قلاوہ گردن سے نکال کر کچھ پرکشش زنجیروں کو مالا کی طرح گردن میں ڈال لینے کو ہم نارمل اور جائز سمجھتے ہیں۔ چونکہ فطرت سے فرار ممکن نہیں ۔ اس لیے Ego , Id کی تسکین کے لیے نئے طریقے سوچتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   آسان نکاح - ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

‎پرانے وقت کی عورت کے سنگھار اورُ عورت پن کامضحکہ اڑانے والی دنیا میں کاسمیتکس انڈسٹری کا حال دیکھ لیجے۔ آج ہم جس قدر Looks and body figure کے غلام ہیں ایسا جنوں پہلے امیر طبقات میں ہی نظر آتا تھا۔ جو لڑکیاں لڑکے والوں کے مطالبات پر غم و غصے کااظہار کر کے بھیڑ بکریوں کی طرح برتے جانے پر خفا ہوتی تھیں ، آج خود ان کےمطالبات کی ایک لمبی فہرست ہوتی ہے۔ اعلی تعلیم، ، جاب، انڈی پینڈنٹ رہائش، اگر ملک سے باہر شفٹ ہوا جاسکے تو بہترین، ذاتی اوصاف کے لیے ایک زبردست بلینکٹ اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ ”پریزینٹ ایبل ہونا چاہیے“۔ یہ سب مل جائے تو الجھن رہتی ہے کہ ”ذہنی ہم آہنگی اور Compatibility کا یقین ہوئے بغیر میں کیسے راضی ہوجاؤں؟ گدھے جیسے لڑکوں سے ہنس بول لینا اور بات ہے، ان کے ساتھ زندگی نہیں گزاری جاسکتی۔“

شادی تو اتنی اہم نہیں مگرشادی کی تقریبات پر لاکھوں ضرور خرچ ہونے چاہییں۔ آج جس خدمت پر چیں بہ چیں ہوا جاتاہے، وہ درحقیقت اہم مواقع پر Nicely behave کر لینا ہے۔ میں نے گفٹسُ دیے، دعوت میں بلایا، مسکرا کر مل لی۔ ان میں سے کچھ بھی غلط نہیں مگر پھر گزرے وقتوں کے طریقوں میں کیا برائی تھی؟ یہ سچ ہے کہ آج بھی مڈل کلاس لڑکیوں کے ایسے حالات نہیں۔ وہ واقعی اب بھی بہت کچھ سہہ رہی ہیں، مگر یہ حالات ان کے بیان کیے ہیں جو مختلف ، روشن خیال اور باغی ہونے کاُ دعوی کرتی ہیں۔ معذرت مگر میں ان کو مینگو باز کیٹیگری کہا کرتی ہوں۔ ہم جیسے بھی اس مینگو بازی سے مرعوب اور قائل ہوجاتے ہیں۔

‎عرض یہ ہے کہ تبدیلی لائیے مگر ذرا غور کر لیجیے کہ پرانی دیوار پر نیا روغن پھیر دینے کو تبدیلی تو نہیں سمجھ رہے؟

ٹیگز

Comments

جویریہ سعید

جویریہ سعید

جویریہ سعید کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں. طب اور نفسیات کی تعلیم حاصل کی ہے. ادب، مذہب اور سماجیات دلچسپی کے موضوعات ہیں. لکھنا پڑھنا سیکھنا اور معاشرے کے لیے رضاکارانہ خدمات انجام دیتے رہنا ان کے خصوصی مشاغل ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.