اتنی غیرمعمولی حیرت کیوں؟ محمد حسین ھنرمل

یہ واقعہ چونکہ بلوچستان کے ضلع ژوب میں پیش آیا، اس لیے قومی میڈیا میں خبروں کی زینت نہ بن سکا۔ اسلام آباد، لاہور یا کراچی جیسے شہروں میں وقوع پذیر ہوتا تو معلوم نہیں ہماری قوم کی حیرت کی انتہا کیا ہوتی؟ واقعہ کچھ یوں تھا کہ چند دن پہلے ضلع ژوب میں ڈسٹرکٹ جیل کے عقب میں گزرنے والی سڑک پر رحمت اللہ مسعود نامی پولیس اے ایس آئی کو چھ لاکھ چالیس ہزار روپوں کا ایک بھنچا ملا۔ پولیس آفیسرچونکہ ایک حساس انسان اور دیانت دار مسلمان تھا، یوں اس پرائی رقم سے اپناجیب گرم کرنے کے بجائے انھوں نے اسے قریبی مسجد کے پیش امام کے ذریعے اپنے حقیقی مالک تک پہنچا دی۔ پھر اس کے بعد لوکل اورسوشل میڈیا پر اس پولیس موصوف آفیسر کو خراج تحسین کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوا۔

''سلام ہو ایسی ماؤں پہ جو رحمت اللہ مسعود جیسے ایماندار اور دیانت دار لوگوں کو جنتی ہیں، واہ کیا کمال کردیا اس پولیس آفیسر نے جنہوں نے بغیرکسی تردد کے اس رقم کو اپنے مالک تک پہنچادیا'' وغیرہ وغیرہ۔

گو کہ پَل بھر میں اس پولیس آفیسر کے نام سے بھی لوگ واقف ہوئے اور غالب گمان یہی ہے کہ بہت سے لوگوں نےان کی ذات پات اور آبائی علاقے کے بارے میں جانکاری حاصل کی ہوگی۔ یہ واقعہ سننے کے بعد یقیناً مجھے بھی اس پولیس آفیسر کی دیانت پر رشک آیا لیکن ساتھ ساتھ میرے ذہن میں کئی سوالات بھی پیدا ہوئے۔ میں سوچنے لگا کہ دیانت کے اس واقعے نے ہم لوگوں کو آخر حیرت کے سمندر میں غوطے لگانے پر مجبور کیوں کیا؟ ایک انسانی اور پھر ایک مسلم معاشرے کا حصہ ہونے کے باوجود ہمیں اس پولیس آفیسر کی یہ دیانتدارانہ ادا کیوں ایک انہونی سی بات لگی؟

پھر ان سوالات کا حل تلاش کے لیے میں نے کسی فلسفی اور کسی دانشور کے پاس جانے کی زحمت نہیں کی بلکہ بیٹھے بیٹھے بڑی آسانی سے مجھے اس کا جواب مل گیا۔ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ہم حقیقت میں ایک تھرڈ کلاس معاشرے میں رہ رہے ہیں۔ ایک ایسی سماج میں ہم جیتے اور مرتے ہیں جہاں ہم نے اپنے نزدیک انسانیت اور اعلیٰ انسانی اقدار کو پھٹکنے دیا ہے اور نہ ہی ہم مذہب کی صحیح معنوں میں پیروی کرتے ہیں۔

اس واقعے کے بعد ہماری بےتحاشا حیرت اس بات کی بین دلیل ہے کہ ہمارے اندر دیانت داری جیسے اوصاف حمیدہ عنقا اور انسانی حقوق کی پاسداری قابل رحم حد تک مفقودہے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جیسے ہم ایک آج بھی ایک ایسی جنگل کے انسانی درندے ہیں جہاں ہمہ وقت ہم چھینا جھپٹی کے مواقع کیش کرنے کے انتظار میں رہتے ہیں۔ جونہی فضا سازگار بنتی ہے ہم دیوانہ وار ایک دوسرے کے جان اور مال پر بھی ٹوٹ پڑتے ہیں اور عزت کو بھی لات مارتے ہیں۔ انسانی سماج میں رہنے کے باوجود ہمارے دلوں کے اندر چوری، ڈاکے، قتل ناحق، رشوت ستانی اور کسی کی عزت لوٹنے کا خوف بدستور قائم رہتاہے ۔

دوسری طرف ہم نے اپنے مذہب کی پیروی کرتے وقت بھی کام چوری اور منافقت سے کام لے رہے ہیں۔ ہم اگر مذہب کی صحیح معنوں میں پیروی کرتے تو آج دیانت داری کاایک معمولی واقعہ پیش آنے کے اوپر ہم مہینوں تک اش اش اور واہ واہ نہ کرتے۔ مذہب صراط مستقیم پر چلنے کا سب سے بہترین راستہ ہے اور سچی بات یہ ہے کہ ہم نے اس راستے کا انتخاب تو کیا ہوا ہے، لیکن اس پر چلنے کو فرض نہیں سمجھا ہے۔ اور پھر فتنوں کے اس دور میں تو ہم اور بےلگام اور لاپرواہ بن چکے ہیں اور فقط نام کے مسلمان بن کر رہ گئے ہیں۔ اپنی سماج کی رگ ِجاں میں رچ بس جانے والی خیانت، دھڑا دھڑ بےانصافیوں اور مسلسل وقوع پذیر ہونے والی بے اعتدالیوں کو دیکھ کر مجھے پیارے آقارسالت مآب ۖ کی وہ قیمتی احادیث یاد آتی ہیں جو ہمارے کرتوتوں پر حرف بہ حرف صادق آتے ہیں۔ ایک موقع پر آپ ۖ نے صحابہ کرام سے فرمایا کہ ''میری امت کے اوپرایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ امانت داروں کا فقدان ہوگا، یہاں تک کہ یوں کہاجائے گا کہ فلاں مقام پر ایک امانت دار شخص رہتاہے'' (بخاری)۔اس حدیث مبارک کا سادہ سا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ امانت دار لوگ اتنے کم ہوں گے کہ دوربین کی مدد سے بھی نظر نہیں آئیں گے۔ معاشرے میں خال خال دیانتدار اور امانت دار لوگ دیکھنے کو ملیں گے۔ یا بالفرض اگرایسے میں رحمت اللہ مسعود جیسا دیانتدار پولیس آفیسر شخص سامنے آئے گا تو ہر طرف سے ان کے اس مبارک عمل کے اوپر حیرت کا اظہار ہوگا اور ہر کسی کو یہ ایک انہونی بھی لگے گی۔