کیا جگہیں بدل رہی ہیں؟ اسری غوری

پچھلے برس یہی دن تھے۔ رب نے عمرے کی سعادت نصیب کی تھی۔ ہم مدینہ میں تھے۔ ہوٹل میں مستقل امریکہ، برطانیہ اور پورے یورپ سے نومسلم خوبصورت نوجوانوں کے گروپس آرہے تھے جنھیں دیکھ کر محبت اور خوشی سے بارہا آنکھیں ڈبڈبائیں۔

جب جب انھیں دیوانہ وار مسجد میں بھاگتے اور بہتے اشکوں کے ساتھ کعبہ میں طواف کرتے ، سفید چمکتی پیشانیوں کو سجدے میں رگڑتا دیکھتی تو رشک سے نگاہیں اور دل دونوں تھم تھم جاتے۔ اور دور کہیں سے کانوں میں اس آیت کی بازگشت سنائی دینے لگتی:
فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقَدۡ اَبۡلَغۡتُکُمۡ مَّاۤ اُرۡسِلۡتُ بِہٖۤ اِلَیۡکُمۡ ؕ وَ یَسۡتَخۡلِفُ رَبِّیۡ قَوۡمًا غَیۡرَکُمۡ ۚ وَ لَا تَضُرُّوۡنَہٗ شَیۡئًا ؕ اِنَّ رَبِّیۡ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَفِیۡظٌ (سورة ھود 57) ترجمہ : اگر تم منہ پھیرتے ہو تو پھیر لو۔ جو پیغام دے کر میں تمہارے پاس بھیجا گیا تھا وہ میں تم کو پہنچا چکا ہوں۔ اب میرا ربّ تمہاری جگہ دوسری قوم کو اٹھائے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔ یقیناً میرا ربّ ہر چیز پر نگراں ہے۔
آج جب امت مسلمہ کا نوجوان اپنی اصل کو چھوڑ کر مغرب کی گندگی اور غلاظتوں میں گم ہے، اور سیکولرازم اور لبرل ازم کے ہتھکنڈوں میں اپنے اجداد کی وراثت سنبھالنے کی استطاعت کھو رہا ہے، اپنے اسلاف کی دین کی دولت گم کر بیٹھا ہے، اور اپنے رب کا تعارف ہی بھول بیٹھا ہے۔ ایسے میں میرا رب اپنا وعدہ پورا کرنے جا رہا ہے۔ وہ ہماری جگہ ایک اور قوم کو اٹھا رہا ہے، جو اس میراث کا حق ادا کرنے والی ہوں گی۔ اس کے دین کو غالب کرنے والی اور اس کے احکامات پر حقیقی طور پر عمل پیرا ہوں گی۔

میں نے ان کے حسین چہروں پر اللہ سے محبت کا نور دیکھا، ان کی نگاہوں میں اپنے نبی کا عشق جھلکتا دیکھا۔ اللہ کو کیسے پیارے ہوں گے، اپنے یہ جوانیوں سے بھرپور بندے، جو اپنی سال بھر کی چھٹیاں اس سے محبت کے اقرار میں گزارنے کے لیے دوڑے آئے تھے۔ یہ وہاں کی چھٹیوں کے دن ہوتے ہیں اور اس وقت بڑی تعداد میں حرمین میں وہیں سے آئے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔
ایسا نہیں کہ ہمارے ہاں سے لوگ نہیں جاتے، اب تو اک بڑی تعداد میں لوگ ہمارے بھی جاتے ہیں۔ مگر باخدا میں نے ہمارے ہاں سے جانے والوں اور ان نوجوانوں میں دن اور رات جیسا فرق دیکھا۔ کچھ دن ہوئے اک ینگ کپل عمرے پر گیا، کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ اس لڑکی کا اپنے گھر فون آیا کہ کیا ہر وقت نماز ہی نماز ہے بس، یہاں میں تو تنگ آگئی ہوں، بس اب واپس جانا۔ ایسے ہی بہت سے واقعات اردگرد موجود ہیں، لوگ سال میں چار چار بار حرم ہو کر آتے مگر ان کے تعلقات، معاملات اور عبادات میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

گویا ہم نے تو اک فیشن بنا لیا، جبکہ یہ نوجوان یہاں آکر روحانی طاقت حاصل کرکے جاتے ہیں۔ اسی لیے وہ سب پا رہے ہیں جس سے آج ہم کوسوں دور جاتے جا رہے ہیں۔ یاد رکھیں! اللہ کو ہماری ضرورت نہیں۔ ہمیں اللہ کی ضرورت ہے۔
میں خوشی کے ساتھ خوفزدہ بھی تھی کہ کیا اللہ ہماری جگہیں بدل رہا ہے؟ دل سے دعا نکلی، اللہ ہماری اور ہماری نسلوں کی جگہیں نہ بدلنا، اللہ انھیں اپنے محبوب بندوں میں شامل رکھنا۔ اللہ ہم تجھ سے تیری ہمیشگی کی غلامی طلب کرتے ہیں، تجھ سے ہمیشگی کی چاہت طلب کرتے ہیں۔ اللہ ہمیں نہ چھوڑنا۔ بےشک تو اور جتنے بھی پیارے بندوں میں اضافہ فرما لے مگر یارب ہم جیسے بھی ٹوٹے پھوٹے ہیں، کمزور ہیں، اللہ مگر تیرے ہی بندے ہیں، تیرے ہی رہنا چاہتے ہیں۔ مولا اے مولا! اپنے در سے نہ اٹھانا، کبھی نہیں مولا۔

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.