اقوام متحدہ، سلامتی کونسل کی چھت تلے انصاف تلاش نہیں کرنا چاہیے - صدرِ ترکی

صدر رجب طیب ایردوان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اور اقوام متحدہ کے اندر انصاف جیسی کوئی چیز موجود نہیں۔1٫7 ارب مسلمانوں پر مشتمل ممالک میں سے کسی ایک کا بھی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان میں نمائندگی نہ کرنا اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے، میں اس لیے کہتا ہوں کہ یہ دنیا پانچ ملکوں سے بڑی ہے۔

صدر رجب طیب ایردوان نے بیش تپے مرکز برائے قومی کانگرس و ثقافت میں ترک سائنسی و تحقیقاتی ادارے اور ٹرکش سائنسنز اکیڈمی کی ایوارڈ تقریب سے خطاب کیا۔

خطاب میں مسلمانوں کو اپنے مستقبل اور انسانوں کے مشترکہ مسائل کے بارے میں بات کرنے کا حق نہ دیے جانے پر زور دینے والے جناب ایردوان نے کہا کہ کیا اقوام متحدہ کا قیام دنیا میں انصاف قائم کرنے کے مقصد کے تحت نہیں ہوا تھا؟ سلامتی کونسل کی چھت تلے انصاف نام کی کوئی چیز موجود نہیں اور نہ ہی ہمیں اس کی توقع رکھنی چاہیے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے 5 ارکان کے ملکوں کے اعتبار سے حق بجانب نہ ہونے کی وضاحت کرنے والے ایردوان نے بتایا کہ ہر معاملہ 5 مستقل اراکین میں سے کسی ایک رکن پر انحصار کرتا ہے۔

صدر رجب طیب ایردوان نے بتایا کہ بیرونی دنیا پر انحصار مسلم اُمہ کی تلخ حقیقت ہے، ہم لا چارگی سے دوچار ہیں۔ ہمیں قلبی یقین ہے کہ یہ صورتحال ٹھیک ہو جائے گی۔ ترکی نے گزشتہ 16 سالوں کی پالیسیوں کی بدولت دوسروں پر انحصار کی شرٹ کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔ اب دوسروں کے دروازوں پر دستک دینے والا نہیں بلکہ اپنے پاؤں پر کھڑا ترکی سب کے سامنے ہے۔

صدر نے مزید کہا کہ جس طرح ترکی اپنی سرحدوں کے تحفظ پر حساسیت کا مظاہرہ کر رہا ہے اسی طرح یہ اپنے سرکاری رازوں کا بھی بھرپور طریقے سے تحفظ کرتا ہے۔ ترکی کے سائنسی تحقیقات میں اب حدود پار کرنے کی بھی توضیح کرتے ہوئے ایردوان نے بتایا کہ دو ہفتے پیشتر ہم نے بیس سالہ خواب کو شرمندہ تعبیر کرتے ہوئے خلائی ایجنسی کا قیام عمل میں لایا ہے، جو کہ ترکی کو سُپر لیگ تک پہنچانے والا ایک اہم قدم ہے۔