ایم کیو ایم کے سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی قاتلانہ حملے میں جاں بحق

کراچی: سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق سابق رکن قومی اسمبلی علی رضا عابدی کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابان غازی میں پیش آیا۔ ایس ایس پی جنوبی پیر محمد شاہ کے مطابق علی رضا عابدی جیسے ہی دفتر سے اپنے گھر کے قریب پہنچے تو ان پر فائرنگ کی گئی۔

پولیس حکام کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ علی رضا عابدی پر فائرنگ موٹر سائیکل سوار ملزمان نے کی یا پھر ملزمان گاڑی میں تھے۔ فائرنگ کی زد میں آ کر علی رضا عابدی زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ کا کہنا ہے کہ علی رضا عابدی کو سر اور گردن میں مجموعی طور پر تین سے چار گولیاں لگی ہیں جس کے باعث وہ زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے اسپتال میں جاں بحق ہوگئے۔ علی رضا عابدی کے والد اخلاق عابدی کے مطابق ان کے بیٹے کو پیٹ میں ایک گولی لگی جب کہ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ علی رضا عابدی کو دو گولیاں سینے اور ایک گولی گردن میں لگی۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ کا محاصرہ کر کے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں۔

خیال رہے کہ 2013 میں کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 251 سے 80 ہزار سے زائد ووٹ لیکر کامیاب ہوئے تھے جو نئی حلقہ بندیوں کے بعد این اے 244 ہو چکا ہے۔ یاد رہے کہ علی رضا عابدی نے حال ہی میں عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے حلقہ 243 کی نشست سے عمران خان کے خلاف الیکشن لڑا تھا۔ علی رضا عابدی نے ایم کیو ایم قیادت سے اختلافات کے باعث رواں برس ستمبر میں پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   کراچی کا کچرا اور عوام کی بے بسی - ڈاکٹر راحت جبین

یاد رہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں ان کا سخت موقف رہا جس کا اظہار وہ پارٹی کے اندر اور ٹی وی چینلز پر بھی کرتے تھے۔ گذشتہ عام انتخابات میں انھوں نے گلشن اقبال کے علاقے سے عمران خان کا مقابلہ کیا تھا جب پارٹی قیادت کی دلچسپی کم ہوئی تو اے پی ایم ایس او کے کارکنان نے ان کی مہم چلائی۔ عام انتخابات میں انھیں شکست ہوئی بعد میں ضمنی انتخابات میں انھیں ٹکٹ نہیں دیا گیا جس کے بعد انھوں نے پارٹی قیادت سے ناراضی کا اظہار کیا اور بنیادی رکنیت سے مستعفی ہو گئے۔

علی رضا عابدی کے بارے میں بعض حلقوں کا خیال تھا کہ وہ الطاف حسین کی سربراہی میں لندن گروپ کے قریب رہے۔ نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے جب پاک سرزمین پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا اور مصطفی کمال کے ساتھ ایک منشور کے تحت مشترکہ امیدواروں کو لانے کا اعلان کیا تو علی رضا عابدی نے اس کی شدید مخالفت کی تھی جس کے بعد فاروق ستار اپنے موقف سے دستبردار ہو گئے۔ علی رضا عابدی کا خاندان ایم کیو ایم کا سپورٹر رہا ہے۔ ان کے والد اخلاق حسین بھی رکن قومی اسمبلی رہے۔

انھوں نے بنیادی تعلیم سینٹ پیٹرک سکول سے حاصل کی، بی کام ڈفینس کالج اور اور بوسٹن سے بزنس کی تعلیم حاصل کی۔ انھوں نے ایم کیو ایم کے لیے ریسرچ اینڈ ایڈوائیزری کونسل کی بنیاد رکھی اور وہ ایم کیو ایم کے سوشل میڈیا سیل کے بھی سرگرم کارکن رہے۔ اس واقعے سے کچھ گھنٹے پہلے علی رضا عابدی نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں پاکستان تحریکِ انصاف کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پی ٹی آئی نیب عدالتوں کے حوالے سے بات کرنے لگی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان، چیئر مین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، سربراہ پاک سر زمین پارٹی مصطفی کمال اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔گورنر سندھ عمران اسماعیل نے واقع پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام سے رپورٹ طلب کرلی جب کہ آئی جی سندھ نے ڈی آئی جی ساؤتھ سے تفصیلی انکوائری رپورٹ مانگی ہے۔