وصیت کا حق، قران حکیم، حدیث، اجماع اور غامدی مؤقف - وقار اکبر چیمہ

(١): وصیت کی ترکہ کے ایک تہائی تک قانونی تحدید
غامدی صاحب کے بے شمار شواذ میں سے ایک وصیت کی عدم تحدید بھی ہے. جمیح امت کے برخلاف موصوف کا فرمان ہے کہ : "قرآن کے الفاظ میں کسی تحدید کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق فرمایا ہے کہ یہ تقسیم مرنے والے کی وصیت پوری کرنے کے بعد کی جائے گی۔ زبان و بیان کے کسی قاعدے کی رو سے اِس اطلاق پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے جو روایت اِس معاملے میں نقل ہوئی ہے، اُس کی نوعیت بالکل دوسری ہے۔ آپ کے ایک صحابی نے آپ کے سامنے اپنی اِس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ مرنے کے بعد وہ اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دینا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ زیادہ ہے، آدمی کے پاس مال ہو تو اُسے اپنے وارثوں کو محتاج چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے۔ اُنھوں نے دو تہائی اور پھر آدھا مال دینے کے لیے پوچھا۔ اِس پر بھی آپ نے وہی بات فرمائی۔ اُنھوں نے پوچھا کہ ایک تہائی دے دوں۔ آپ نے فرمایا: یہی بہت ہے۔* ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ یہ خاص صورت حال میں ایک خاص شخص کے فیصلے پر آپ کا تبصرہ ہے۔ اِس کا کسی قانونی تحدید سے کوئی تعلق نہیں ہے۔" (مقامات، ص ١٥٧)

اس پر چند معروضات پیش خدمت ہیں:
(١) اول تو خود قران حکیم نے تقسیم وراثت سے قبل وصیت کے پورا کرنے کا حکم بیان کرتے ہوئے "غیر مضار - بغیر کسی کو ضرر پہنچائے" (النساء، آیت ١٢) کی شرط رکھی ہے. غامدی صاحب اس تنبیہ اور حدیث میں مذکور ایک تہائی کی قدغن کے تعلق سے واقف ہیں لیکن اس کو قانونی تسلیم کرنے سے ججھکتے ہیں۔ سورہ النساء آیت ١١ کے تحت لکھتے ہیں: "قرآن نے اِس کے ساتھ آگے ’غَیْرَ مُضَآرٍّ‘ کی شرط لگا دی ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ وصیت اتنی ہونی چاہیے جس سے وارثوں کی حق تلفی نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر نصیحت فرمائی ہے کہ یہ تہائی مال تک محدود رہے تو بہتر ہے۔" (البیان)

(٢) غامدی صاحب کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اس وصیت کی ایک تہائی تک تحدید پر دال صرف حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی روایت ہے. عرض ہے کہ اس مسئلہ میں اگرچہ اصل یہی ہے لیکن اس موضوع سے متعلق ایک اور مرفوع حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا: "إن الله تصدق عليكم، عند وفاتكم، بثلث أموالكم، زيادة لكم في أعمالكم" (اللہ نے تمہاری وفات کے وقت تم پر تمہارا ایک تہائی مال صدقہ فرمایا ہے تا کہ اس کے ذریعہ تم اپنی نیکیوں میں اضافہ کر سکو.) یہ حدیث (١) ابو ہریرہؓ، (٢) ابو درداءؓ، (٣) معاذ بن جبلؓ، (٤) ابو بکر صدیقؓ، اور (٥) عبید بن خالدؓ سے مختلف اسناد سے مروی ہے . گو ان سب روایات کی اسناد میں کچھ نہ کچھ ضعف ہے لیکن مجموعی طور پر قابل استدلال ہیں مزید یہ کہ ٢، ٣ اور ٥ میں ضعف بھی معمولی نوعیت کا ہے. تفصیل کے لیے دیکھیے شیخ البانیؒ کی کتاب (ارواء الغلیل جلد ٦، ص ٧٦-٧٩ (حدیث ١٦٤١)

اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا: اللہ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم دو چیزیں ایسی تھیں جن میں تیرا کچھ حق نہ تھا (اور وہ تجھے عطا کی گئیں) ایک یہ ہے کہ تیرا سانس روکتے وقت تیرے مال میں سے ایک حصّہ تیرے اختیار میں دے دیا..." (سنن ابن ماجہ وغیرہ) یہی حدیث ابی قلابہ سے مرسلا بھی روایت ہے (حلیہ الاولیاء) گو اس میں ایک تہائی کی صراحت نہیں لیکن اس میں بھی وصیت کے ترکہ کے ایک حصّہ پر ہی لاگو ہونے کا بتایا گیا ہے۔

(٣) صحابہ اور ان کے شاگردوں کی روایات سے یہی واضح ہوتا ہے کہ انہوں میں نے حدیث میں مذکور تحدید کو قانونی و قطعی ہی سمجھا. چنانچہ حضرت سعدؓ رسول اللہ (ﷺ) کا مذکورہ بالا فرمان نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں ، "فأوصى الناس بالثلث، وجاز ذلك لهم – چنانچہ لوگ بھی تہائی کی وصیت کرنے لگے اور یہ ان کے لیے جائز قرار پائی" (صحیح بخاری، حدیث ٢٧٤٤) اسی طرح کبار تابعین میں سے قاضی شریح ؒ فرماتے ہیں کہ "الثلث جهد وهو جائز - ایک تہائی میں بھی سختی ہے لیکن وہ جائز ہے" (سنن دارمی، حدیث ٣٢٤٤) ایسے ہی امام شعبیؒ ایک تہائی کو [arabic]"منتهى الجامح – حد درجہ خود سری" قرار دیتے ہوئے چوتھے یا پانچویں حصّے تک کی وصیت کرنے کی تلقین کرتے تھے. (سنن دارمی، حدیث )٣٢٤٢

چنانچہ حضرت ابو بکرؓ، عمرؓ، سمیت متعدد صحابہ کرام اور اسی طرح ان کے شاگردوں سے چوتھے، پانچویں، چھٹے ، بلکہ دسویں حصہ تک وصیت کرنے اور اسی کی تلقین کرنے کے اقوال منقول ہیں، لیکن ایک تہائی سے زائد کے جواز کا کوئی قول منقول نہیں۔ (سنن دارمی: من كتاب الوصايا: باب الوصية بأقل من الثلث / مصنف ابن ابی شیبه: كتاب الوصايا، باب: ما يجوز للرجل من الوصية في ماله)

ایک استثنائی صورت البتہ ذکر ہوئی ہے کہ اگر ورثا ایک تہائی سے زائد ترکہ پر کی گئی وصیت پر اعتراض نہ کریں تو اس پر عمل کیا جا سکتا ہے. اور اگر وہ راضی نہ ہوں تو اس پر عمل جائز نہیں رہے گا. لیکن اس میں کئی صحابہ و تابعین سے منقول ہے کہ متوفی کی زندگی میں راضی ہو جانے کے باوجود اس کی وفات کے بعد بھی اگر ورثا ایک تہائی سے زائد ترکہ کی وصیت کو ماننے سے انکار کر دیں تو اس کا ان کو اختیار ہے. یہ قول حضرت عبداللهؓ بن مسعود کے علاوہ تابعین میں سے متعدد صاحب فتویٰ تابعین سے منقول ہے جن میں ابراہیم نخعیؒ، قاضی شریحؒ، حسن بصریؒ، حکم بن عتیبہؒ، حمادؒ، اور طاووسؒ جیسے اہل علم شامل ہیں. (دیکھیے، مصنف ابن ابی شیبه: كتاب الوصايا، باب: في الرجل يستأذن ورثته أن يوصي بأكثر من الثلث)

صحابہ و تابعین کے اسی متفقہ فہم کی وجہ سے امام جصاصؒ اس باب کی مذکور روایات کو درجہ تواتر میں رکھتے ہیں . لکھتے ہیں: ''فهذه الأخبار الموجبة للاقتصار بالوصية على الثلث عندنا في حيز التواتر الموجب للعلم لتلقي الناس إياها بالقبول وهي مبينة لمراد الله تعالى في الوصية المذكورة في الكتاب أنها مقصورة على الثلث" یہ روایات جو وصیت کو ایک تہائی مال تک تحدید کی موجب ہیں ہمارے نزدیک تواتر کا درجہ رکھتی ہیں جو موجب علم ہے کیونکہ اہل اسلام کے ان کو قبول کیا ہے اور یہ آیت وصیت میں اللہ کے حکم کی مراد کو بیان کرتی ہیں کہ وصیت تہائی مال تک محدود ہے. " (احکام القران : ٣/٣١)

یہ تمام تفصیلات وصیت کی تحدید سے متعلق ارشادات نبویہ (ﷺ) کی اصل نوعیت کو خود ان ارشادات کے مخاطب اور اول شاہدین اصحاب رسول اور پھر ان کے اپنے اجل اصحاب بلکہ ابتدائی صدیوں کے جمیع اہل اسلام کی تفہیم کی روشنی میں واضح کرتی ہیں اور ہم دیکھ چکے ہیں یہ خود یہ نبوی ارشادات وصیت کے حوالے سے "غیر مضار " کی قرانی شرط کی وضاحت کرتے ہیں .

روایت سے منسلک حلقے تو حدیث رسول (ﷺ) سے اپنی علمی اور جذباتی وابستگی کے طور پر صرف اسی کے حوالے کو کافی شمار کرتے ہوۓ اسی پر اکتفاء کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ صدر اول سے ہی وصیت کی تحدید امت کے عملی و تہذیبی تواتر کا حصّہ رہی ہے لہذا ایک روایت کی تاویل اور یا دیگر روایات کی سند میں علل کی نشان دہی اس تحدید کے انکار کو کسی طور بھی معقول نہیں بنا سکتی . و اللہ اعلم

ٹیگز

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • اچھا تبصرہ ہے، غامدی فکر میں اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس میں عملی طور پر احادیث مبارکہ کو حجت ماننا چھوڑ دیا ہے، صرف چند چیزوں کو سنت متواتر قرار دے کر قرآن کے علاوہ قبول کرنے کی بات کی جاتی ہے اور ظاہر یہ کیا جاتا ہے کہ دین کا سارا دارو مدار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے، حالانکہ عملی طور پر جو چیز بھی اپنی سمجھ میں نہ آئے، اس کی تاویل کردی جاتی ہے، اس بنا پر یہ فکر نظریاتی طور پر نہ سہی عملی اور جزوی طور پر انکار حدیث ہی ہے۔