آصف زرداری اور فریال تالپور نے بیش بہا دولت اکٹھی کی

سپریم کورٹ کی ہدایت پر تقریباً تین ماہ قبل ایک مشترکہ تحقیاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔ اس تحقیقاتی ٹیم نے پیر کو 32 جعلی بینک اکاؤنٹس کی تفتیش کے حوالے سے حتمی رپورٹ لاہور رجسٹری میں عدالت کے روبرو جمع کروائی یہ معاملہ کروڑوں روپے مالیت کے ایسے بینک اکاؤنٹس سامنے آنے پر کھلا جو ایسے افراد کے نام نکلے جن کے یا تو مستقل ذرائع آمدن تھے ہی نہیں یا پھر محض چند ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ نہ ہوں گے۔ مثال کے طور پر فالودہ فروش، طالبِ علم یا پھر تندور لگانے والا۔

ابتدائی تفتیش پر نا صرف ان جعلی بینکوں سے جڑے مزید بینک، کمپنیاں اور کاروباری شخصیات سامنے آئیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور ان کی بہن فریال تالپور بھی ان جعلی اکاؤنٹس سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہونے جیسے الزامات کی زد میں آئے۔سپریم کورٹ کی ہدایت پر تقریباً تین ماہ قبل ایک مشترکہ تحقیاتی ٹیم تشکیل دی گئی۔ اس تحقیقاتی ٹیم نے پیر کو 32 جعلی بینک اکاؤنٹس کی تفتیش کے حوالے سے حتمی رپورٹ لاہور رجسٹری میں عدالت کے روبرو جمع کروائی۔

128 صفحات، 95 ضمیموں اور 28 حتمی تفتیشی رپورٹوں پر مشتمل اس رپورٹ میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اختتام میں اپنی حتمی تجاویز میں کہا ہے ’شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ آصف علی زرداری اور فریال تالپور نے اومنی گروپ کو فرنٹ کے طور پر استعمال کیا ہے۔‘ ’انھوں نے مالی اداروں پر سیاسی اثر و رسوخ اور بڑے پیمانے پر حکومتِ سندھ کے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بھاری دولت اکٹھی کی ہے۔‘ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے یہ بھی لکھا ہے ’اس رپورٹ میں سامنے لائے جانے والی کرپشن اور جرائم محض ٹِپ آف دی آئس برگ‘ ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کے حکم پر دو رکنی بینچ کو رپورٹ کی سمری عدالت میں پروجیکٹر پر لگے پر فلو چارٹ یا خاکے کی مدد سے واضح کی گئی۔ جوں جوں کیس کے مرکزی کرداروں کے خلاف الزامات سامنے آتے گئے، چیف جسٹس کی جانب سے ان کو نوٹس جاری کرنے کے احکامات بھی آتے رہے۔ اس کیس کے ملزمان یا مرکزی کرداروں میں آصف علی زرداری، فریال تالپور، اومنی گروپ، زرداری گروپ، بحریہ ٹاؤن گروپ، بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض، ان کے داماد زین ملک اور دیگر شامل تھے۔ عدالت نے انھیں نوٹس جاری کرتے ہوئے حکم دیا کہ وہ تحقیقاتی رپورٹ میں ان کی خلاف سامنے آنے والے الزامات پر 31 دسمبر تک جواب جمع کروائیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور ان کی بہن فریال تالپور بھی ان جعلی اکاؤنٹس سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل ہونے جیسے الزامات کی زد میں آئے۔ رپورٹ کے مرکزی کردار جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق پانچ بینکوں کے ذریعے 32 جعلی اکاؤنٹ کھولے گئے اور چلائے جا رہے تھے۔ ان کے ذریعے .342 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی گئی۔

تقریباً 14 ارب روپے کا لین دین ان اکاؤنٹوں کے درمیان بھی ہوا جسے لیئرنگ بھی کہتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ 15 اکاؤنٹ سمِٹ بینک، آٹھ یونائیٹڈ بینک، سات سندھ بینک جبکہ ایک مسلم کمرشل بینک اور ایک فیصل بینک میں کھولا گیا۔ اب سوال یہ تھا کہ یہ جعلی یا بے نامی اکاؤنٹ کس نے اور کیوں کھولے؟ ان میں رکھے جانے والا پیسہ کہاں سے آیا؟ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق ان اکاؤنٹس میں سے پیسہ کہاں خرچ ہوا اور کہاں سے آیا، اس کی مدد سے اس کے مرکزی کرداروں کا پتہ لگانے میں مدد ملی۔ جے آئی ٹی کے اور ایف آئی اے کے سربراہ بشیر احمد میمن نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کے تین مرکزی کردار تھے۔

بشیر احمد کے مطابق ’بنیادی طور پر زرداری گروپ، اومنی گروپ اور بحریہ ٹاؤن گروپ کے درمیان ایک نیکسس تھا جس نے یہ جعلی اکاؤنٹ کھولے اور ان میں کرپشن سے بنایا پیسہ، بینکوں سے فراڈ کے ذریعے حاصل کردہ قرضے اور رشوت وغیرہ کا پیسہ رکھا جاتا تھا۔‘ اومنی تقریباً 83 کمپنیوں پر مشتمل ایک گروپ ہے جو انور مجید کے خاندان کی ملکیت ہیں۔ یاد رہے کہ انور مجید کو پہلے ہی گرفتار کر کے تفتیش کے بعد کراچی میں جیل بھیجا جا چکا ہے۔

جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا ہے کہ اومنی گروپ کی سنہ 2008 میں محض چھ کپمنیاں تھیں۔ اسی برس شروع ہونے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دورِ حکومت میں اس کی تعداد بڑھ کر 63 تک پہنچی جو اب 83 ہو چکی ہے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق پہلے جعلی بینک اکاؤنٹ کھولے گئے۔ یعنی جس کے نام پر اکاؤنٹ تھا اس میں پیسہ اس کا نہیں تھا۔ اور ان افراد کو اس کا علم بھی نہیں ہوتا تھا

منی لانڈرنگ کا طریقۂ کار؟ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق پہلے جعلی بینک اکاؤنٹ کھولے گئے۔ یعنی جس کے نام پر اکاؤنٹ تھا اس میں پیسہ اس کا نہیں تھا۔ اور اس شخص کو اس کا علم بھی نہیں ہوتا تھا۔ پھر ان جعلی بینک اکاؤنٹس میں وہ رقوم رکھی گئی جو ’کِک بیکس یا رشوت، قرضوں کے غبن اور عوام کو مختلف مد میں دی گئی حکومتی چھوٹ کی رقم، غبن یا پھر جرائم سے حاصل کردہ رقوم پر مشتمل ہوتی تھیں۔‘

رپورٹ کے مطابق اومنی گروپ نے بینکوں میں جعلی اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے 11 جعلی کمپنیاں بنائیں جن میں سے تین ان کے ملازمین، سات عام شہری اور ایک مرحوم شخص کے نام پر بنائی گئی۔ ان میں سب سے پہلے جو کمپنی سامنے آئی اس کا نام عمیر ایسوسی ایٹس تھا جو محمد عمیر نامی شخص سے منسوب تھی۔ محمد عمیر اس وقت کی اومنی گروپ میں آفس بوائے تھا۔ اس کمپنی کے سات جعلی اکاؤنٹ تھے جن سے 10 ارب روپے کا لین دین ہوا۔اس طرح ان 11 جعلی کمپنیوں کے 32 جعلی اکاؤنٹ کھولے گئے۔ تاہم اب سوال یہ تھا کہ اگر کمپنیاں جعلی تھیں تو ان بے نامی اکاؤنٹوں میں اتنی بڑی رقوم کس نے رکھی؟ جے آئی ٹی کی رپورٹ کے صفحہ نمبر 17 پر پیرا 22 کے مطابق ’جعلی اکاؤنٹ اومنی کے ملازمین کے ذریعے کھولے اور چلائے گئے تاہم ان کا براہِ راست لین دین زرداری گروپ یا خاندان، بحریہ ٹاؤن، حکومتی اداروں یا حکومتِ سندھ کے کنٹریکٹروں کے ساتھ رہا۔

رپورٹ کے مطابق جے آئی ٹی کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ ’رشوت یا کِک بیکس اور جرائم سے حاصل کردہ پیسہ جعلی اکاؤنٹوں میں رکھا گیا۔‘ رپورٹ کے مطابق ’بحریہ ٹاؤن کی جانب سے جعلی کھاتوں میں براہِ راست 10 ارب روپے جمع کروانا سامنے آیا۔‘جے آئی ٹی کے مطابق اس کے عوض ’بحریہ ٹاؤن کراچی کے لیے حکومتِ سندھ کی مدد سے ایکپریس ہائی وے کی 12297 ایکڑ زمین الاٹ کی گئی جبکہ بحریہ ٹاؤن کراچی سے ملحقہ اندازاً تقریباً 25000 ایکڑ سے زیادہ نجی زمین پر قبضہ کیا گیا۔‘ اس کے علاوہ بحریہ آئیکون ٹوون ٹاورز کے لیے باغ ابنِ قاسم کلفٹن کراچی میں 7900 مربع گز زمین حکومتِ سندھ اور گیلیکسی کنسٹرکشن پرائیویٹ لمیٹیڈ کی مدد سے دی گئی۔ اس کے عوض بحریہ آئیکون ٹوون ٹاورز میں 50 فیصد شیئرز اور جے وی اوپل 225 سکیم کی طرف سے ایک عشاریہ دو ارب روپے لیے گئے۔ ’جے وی اوپل 225 پراجیکٹ بحریہ اور زردرای گروپوں کا جوائنٹ وینچر یا مشترکہ منصوبہ تھا۔‘

اومنی گروپ
جے آئی ٹی کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ’اومنی گروپ نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کے وضح کردہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بینکوں سے سنہ 2004 سے لے کر 2018 تک 53 .53 ارب روپے قرض حاصل کیا۔‘ رپورٹ کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان کے قوانین کہتے ہیں کہ کوئی بھی بینک اپنی اکوئیٹی کا 25 فیصد کسی ایک گروپ کو قرضہ دے سکتا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اومنی گروپ کو قرض حاصل کرنے کے لیے گروپ کے اندر پانچ حصوں میں تقسیم کر کے دکھایا گیا جبکہ ’قرض سے حاصل کردہ رقم سے فائدہ ایک ہی گروپ کے افراد نے اٹھایا۔‘ اس کیس کے ملزمان یا مرکزی کرداروں میں آصف علی زرداری، فریال تالپور، اومنی گروپ، زرداری گروپ، بحریہ ٹاؤن گروپ، بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض، ان کے داماد زین ملک اور دیگر شامل تھے

اومنی گروپ کا عروج
انور مجید اور ان کے خاندان نے سنہ 2000 میں اومنی پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے ایک کمپنی کا آغاز کیا۔ سنہ 2007 تک انھوں نے پانچ مزید کمپنیاں اپنے کاروبار میں شامل کیں۔ تاہم سنہ 2008 سے 2018 تک ان کی کمپنیوں کی تعداد چھ سے بڑھ کر 83 ہو گئی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت اور آصف علی زرداری کے دورِ صدارت یعنی سنہ 2008 سے 2015 تک اومنی گروپ نے 70 کمپنیاں بنا لیں۔ ان کی کل 83 کمپنیوں میں سے 32 بے نامی جبکہ دو ایسی کمپنیاں تھیں جن کی مالی رسیدیں فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کو جمع نہیں کروائی گئیں یعنی ’یہ شیل کمپنیوں کے طور پر کام کر رہی تھیں۔‘ شیل کمپنیوں کا وجود صرف کاغذ پر ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ان کا دفتر یا ملازمین ہوں تاہم وہ جائیداد رکھ سکتی ہیں یا سرمایہ کاری کر سکتی ہیں۔

اومنی زرداری نیکسس
رپورٹ کے مطابق جے آئی ٹی نے دورانِ تحقیقات بینک کی رسیدوں اور واؤچرز پر مشتمل شواہد اکٹھے کیے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جعلی اکاؤنٹس سے منی لانڈری کی گئی۔ رقوم آصف علی زرداری، فریال تالپور، پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ اور انور مجید خاندان کے ذاتی اخراجات کے لیے استعمال کیے گئے۔ ان میں چند اخراجات کی تفصیل جے آئی ٹی نے رپورٹ میں شامل کی ہے جس کے مطابق فریال تالپور کے کراچی کے ڈی ایچ اے فیز فائیو میں واقع گھر کی تعمیر میں استعمال ہونے والے سیمنٹ کے لیے 35 لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی۔ بلاول ہاؤس کراچی کے یوٹیلیٹی بلوں کے لیے 15 لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی۔ آصف زرداری اور ان کے خاندان کے لیے ایک کروڑ 20 لاکھ روپے کے ایئر ٹکٹ خریدے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اومنی گروپ نے سنہ 2012 میں ڈنمارک سے سمِٹ بینک اور سندھ بینک کے قرض پر ایک طیارہ خریدا۔ ’یہ طیارہ سنہ 2013 سے 2018 تک زرداری خاندان، وزیرِ اعلٰی سندھ اور سندھ حکومت اور انور مجید خاندان کے علاوہ دیگر سیاستدانوں کے زیرِ استعمال رہا۔‘ ’اس دوران جہاز نے کل 218 پروازیں کیں۔ تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اومنی ایسوسی ایشن نے زرداری خاندان، سندھ حکومت یا پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاستدانوں سے ان خدمات کے عوض بل وصول نہیں کیا۔‘

رپورٹ میں کہا گیا کہ اس کا 1.3 ارب روپے کا بل مختلف بوگس کمپنیوں اور اومنی گروپ کے ماتحت اداروں نے برداشت کیا۔ سنہ 2011 میں آصف علی زرداری کے لیے درآمد کردہ بلٹ پروف گاڑی کے لیے ایک کروڑ 40 لاکھ روپے ادا کیے گئے، ایک پرنسلی ہیلی کاپٹر کی نو پروازوں کے لیے 80 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔ توشہ خانہ سے گاڑیاں نکلوانے کے عوض تین کروڑ، 70 لاکھ روپے ڈیوٹی ادا کی گئی۔ یہ وہ گاڑیاں ہیں جو صدرِ پاکستان کو تحفہ دی جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بنیادی طور پر یہ رقم لکی انٹرنیشنل کے جعلی اکاؤنٹ میں بحریہ ٹاؤن نے جمع کروائی تھی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا ردِ عمل
جے آئی ٹی کی اس رپورٹ پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صدر آصف علی زرداری کی قانونی ٹیم کے رکن لطیف کھوسہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ رپورٹ کا مطالعہ کر رہے ہیں جو کہ ایک طویل عمل ہے جس کے بعد ’عدالت میں جواب جمع کروایا جائے گا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا ’ہم نے ایسی جے آئی ٹیز بہت بھگتی ہیں۔ جے آئی ٹی زیادہ سے زیادہ ایک تحقیقاتی عمل ہوتا ہے بلکہ تکنیکی اعتبار سے شاید تحقیقاتی عمل بھی نہ ہو۔ بہرحال ہم رپورٹ کو دیکھ رہے ہیں اور اس پر جواب دیں گے۔‘ لطیف کھوسہ کے مطابق ایسی بہت سی چیزیں تحقیقات میں کہہ دی جاتی ہیں جو تکنیکی اعتبار سے قانون کی نظر میں شہادت کے طور قابلِ قبول نہیں ہوتیں۔ ’جے آئی ٹی میں دی گئی کوئی بھی رائے عدالت میں شہادت یا ثبوت کے طور پر قبول نہیں کی جا سکتی۔ ثبوت وہی مانا جاتا ہے جو تحقیقاتی ادارے اکٹھا کرتے ہیں جس کے ذریعے کسی کو ملزم قرار دیا جا سکے۔‘

لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ اگر یہ الزامات کسی عدالت میں سماعت کے لیے یا پھر جے آئی ٹی کی سفارشات کے مطابق نیب کو بھیجے جاتے ہیں تو تحقیقاتی ادارے کیا شہادت یا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ ’یہ کہہ دینا کہ فلاں کسی کا فرنٹ مین ہے، یہ شہادت یا ثبوت نہیں ہے۔ یہ ان کی اپنی قیاس آرائی تو ہو سکتی ہے مگر قیاس آرائی نہ تو ثبوت ہے اور نہ ہی اس پر سزا ہو سکتی ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ نیب کا اپنا طریقۂ کار ہوتا ہے جس میں وہ دیکھے گا کہ ثبوت اور گواہان کیا ہیں اور جو دستاویزی ثبوت فراہم کیے گئے ہیں وہ کتنے مستند ہیں۔ اس کے بعد چیئرمین نیب کے حکم پر ریفرنس بنایا جاتا ہے۔ لطیف کھوسہ نے کہا کہ کسی بھی قسم کی عدالتی کارروائی کے ہونے یا نہ ہونے کے امکانات کا تمام تر دارومدار اس جے آئی ٹی کے جانب سے جمع کیے گئے قابلِ قبول مستند ثبوتوں پر ہے۔