ترکی میں حجاب پر پابندی - عالم خان

کئی دہائیوں سے ترکی میں حجاب کو ترقی کی راہ رکاوٹ سمجھاجاتا رہا، اسی خوف کے پیش نظر کپڑے کے اس ٹکڑے پر سرکاری دفاتر ، اسکولوں ، جامعات اور لائبریریوں میں پابندی لگادی۔ کیونکہ سرکاری طور پر ترکی کا آئین سیکولر ہے جس کی بنیاد 1923 میں اتاترک نے رکھی، وہ مذہب کو ریاستی معاملات سے علحیدہ رکھنا چاہتے تھے، اسی لیے انہوں نے مغربی طرز سیاست اپنایا، اگرچہ ترکی میں 90 فیصد آبادی مسلمان ہے۔

یہ یاد رکھنا چاہیے! کہ اتاترک نے حجاب پر پابندی نہیں لگائی تھی بلکہ 1980ﺀ کے مارشل لاء کے بعد پابندی لگائی گئی تھی جس میں 1997ء میں سختی لائی گئی جس کی خلاف ورزی اور احتجاج میں گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں، جو ترکی کی تاریخ کا حصہ ہے۔

مئی 1999 ء میں مریم کواکچی رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں لیکن انہیں حاجب کی وجہ سے حلف اٹھانے کی اجازت نہیں دی گئی اور یہ کہتے ہوئے انہیں پارلیمنٹ سے نکال دیا گیا کہ "یہ کوئی جگہ نہیں جہاں ریاست کو چیلنج کیا جائے" البتہ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ برسراقتدار آکر حجاب پر پابندی ختم کردے گی۔

صدر رجب طیب ایردوان نے اپنا وعدہ پورا کر دکھایا کئی عرصہ بحث و مباحثے کے بعد آخر کار 2010ء میں جامعات، 2013ء میں دیگر سرکاری اداروں اور 2014ء میں اسکولوں میں حجاب پر پابندی ختم کردی گئی اور اب ترکی میں اس راہ میں اب کوئی رکاوٹ نہیں، جس کی وجہ سے الحمد للہ پوری کلاس میں ایک بےحجاب طالبہ بھی نظر نہیں آتی، حالانکہ آج سے بیس سال پہلے اس کا تصور بھی ناممکن تھا۔

ٹیگز

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.