ایسے تھے ہمارے قائداعظم ؒ - فاروق عادل

قائداعظم کے حوالے سے کئی واقعات معروف ہیں۔ ایک بچے کے حوالے سے واقعہ نے قائد کا گرویدہ بنادیا۔

یہ واقعہ علی گڑھ کا ہے، کسی خواب کی طرح خوبصورت اورہمیشہ یاد رہنے والا۔ یہ باتیں اْن دنوں کی ہیں جب قائد اعظم محمد علی جناحؒ ہندو قیادت کی ضد اور ہٹ دھرمی سے مایوس ہونے کے بعد کانگریس کو چھوڑ کر مسلم لیگ کی قیادت سنبھال چکے تھے۔ براعظم کے مسلمانوں کی تاریخ کے اس غیر معمولی اور شان دار دور میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اہم اجلاس اگرچہ ہندوستان کے بہت سے شہروں میں ہوتے رہے لیکن علی گڑھ اور نواب فیض علی خان کی کوٹھی کی بات ہی دوسری تھی۔ قائد اعظمؒ اس گھر کو اپناگھر سمجھتے اور اس کے باسیوں سے بے تکلفی اور محبت کے ساتھ پیش آتے۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاسوں کے درمیان وقفے ہوتے تو کچھ بزرگ کمر سیدھی کرنے کے لیے کمروں میں چلے جاتے جنہیں چائے کی طلب ہوتی، وہ یہاں وہاں بیٹھ کر ہلکی پھلکی باتوں میں مصروف ہوجاتے لیکن قائداعظمؒ کی عادت مختلف تھی، وہ اِدھراْدھر وقت ضائع کرنے کے بجائے سیدھے لان میں چلے آتے اور نوجوانوں کی محفل میں آکر ان میں گھل مل جاتے۔ ہم لوگ یہاں کرکٹ کھیلا کرتے تھے، ایک دن تو وہ ہمارے کھیل میں شریک بھی ہوگئے۔ مرزا صاحب نے بتایا: ’’ کھیل کے میدان میں وہ چند منٹ کی رفاقت میری زندگی کا حاصل ہے‘‘۔

کھیل کے میدان کی طرح اس گھر کی ڈیوڑھی کا ایک واقعہ بھی مرزا صاحب کی مہکتی ہوئی یادوں کا حصہ ہے۔ قائداعظمؒ ایک بار کہیں جانے کے لیے گھر سے نکل کر گاڑی کی طرف بڑھے تو ایک نو عمر اچانک اْنکے سامنے آگیا اور ایک لفافہ اْن کی خدمت میں پیش کیا۔ قائداعظمؒ کے چہرے پر خوش گوار مسکراہٹ نمودار ہوئی اور انہوں نے اپنی بارعب آواز میں پوچھا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ مرزا جواد بیگ کہتے ہیں کہ قائداعظمؒ کی با رعب آواز سن کر ایک بار تو میرا حوصلہ جواب دے گیا لیکن ماموں کو پاس کھڑے دیکھ کر ہمت پکڑی اور کہا: ’’مسلم لیگ کے فنڈ کے لیے‘‘۔ قائدِ اعظم مسکرا دیے، لفافہ لے کر شیروانی کی اوپری جیب میں رکھا اور کچھ دیر کے بعد روانہ ہوگئے۔ مرزا صاحب کاخیال تھا کہ اتنی محنت سے جمع کیے ہوئے روپے تو گئے۔ خدشہ تھا کہ برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کی لڑائی میں مصروف یہ عظیم شخص اپنی بے پناہ مصروفیات کے سبب یقیناً بھول جائے گا کہ جب وہ نواب فیض علی خان کے گھر سے روانہ ہو رہا تھا تو ایک بچے نے کچھ رقم اس کے حوالے کی تھی۔ پریشانی بالکل جائز تھی لیکن چند ہی دنوں کے بعد مرزا صاحب کے خیالات بدل گئے۔ مرزا صاحب بتاتے ہیں کہ ایک روز میں لان میں بیٹھا تھا کہ خدمت گزار نے اطلاع دی، آپ کی چٹھی آئی ہے جس پر میں بھاگتا ہوا ڈاکئے کے پاس پہنچا، لفافہ اْس کے ہاتھ سے تقریباً جھپٹ لیا اور بےصبری کے ساتھ کھولا۔ میرے ہاتھ میں پچاس روپے کی رسید تھی جس پر سیکرٹری جنرل آل انڈیا مسلم لیگ نواب زادہ لیاقت علی خان کے دستخط تھے۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ قائداعظمؒ نے ایک معمولی سی بات کو بھی یاد رکھا اور چندے میں دی جانے والی رقم کی رسید ارسال کرانی ضروری سمجھی۔

مرزا جواد بیگ دہائیوں پہلے کے اس واقعے کا تذکرہ کرتے ہوئے آب دیدہ ہوگئے اور انھوں نے گلوگیر آواز میں کہا: ’’ایسے تھے ہمارے قائداعظمؒ ! ‘‘۔ نظم و ضبط قائداعظمؒ کا طرزِ زندگی تھا، وہ ایک ایک پیسے کا حساب رکھتے اور اپنے نام آنے والے ہر خط کا اہتمام سے جواب دیتے لیکن اس واقعے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ آنے والی نسلوں کی تربیت کا معاملہ بھی اْن کے پیش نظر تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   آئی ایم ایف کیاچاہتا ہے؟ محمد عنصر عثمانی

فروری 1948 کا ایک اور واقعہ قائداعظمؒ کے اسی انداز فکر کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح آل پاکستان مسلم یوتھ لیگ کی عبوری سربراہ اور مرزا جواد بیگ اس کے سیکرٹری جنرل تھے۔ قائداعظمؒ کی ہدایت پر کراچی میں صدر کے علاقے جہاں اِن دنوں کوآپریٹو مارکیٹ ہے، دفتر قائم کر کے سرگرمیاں شروع کر دی گئیں۔ ایک روز اپنی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرنے کے لیے یہ لوگ قائداعظمؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اْنہیں ڈانٹ پڑگئی۔ وجہ یہ تھی کہ اجلاس میں شریک لوگوں کے ہاتھوں میں گورنر جنرل ہاؤس کی اسٹیشنری تھی جسے دیکھ کر قائداعظمؒ خفا ہوگئے اور اجلاس اْس وقت تک کے لیے ملتوی کر دیا، جب تک یہ لوگ اپنی اسٹیشنری کا انتظام خود نہیں کر لیتے۔ اس واقعے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اس معاملے میں وہ اپنی عزیز از جاں بہن کو سرزنش کرنے سے بھی نہیں چوکے۔ آل پاکستان مسلم یوتھ لیگ کی اہمیت قائداعظمؒ کی نظر میں اتنی زیادہ تھی کہ وہ اس کے اجلاسوں میں بہ ذاتِ خود شریک ہوتے اور اْس کی کارکردگی کا جائزہ لیتے لیکن یہ احتیاط ہمیشہ پیشِ نظر رکھی کہ اِن سرگرمیوں سے سرکاری فرائض کی ادائیگی میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو۔ چنانچہ مسلم لیگ ہو یا مسلم یوتھ لیگ وہ ہمیشہ اس طرح کے تمام اجلاس دفتر کا وقت شروع ہونے سے پہلے کر لیا کرتے۔

قائداعظمؒ سرکاری وسائل کے استعمال میں محتاط ہونے کے ساتھ ساتھ وقت کے استعمال میں بھی بڑے جز رس تھے۔ مرزا جواد بیگ بتاتے ہیں کہ اس سلسلے میں اْنہوں نے قائداعظمؒ جیسی نفاست پسند شخصیت کو دھول اور مٹی میں بھی کام کرتے ہوئے دیکھا۔ ’’یہ کہانی بڑی دلچسپ ہے!‘‘۔ مرزا صاحب نے ایک روز اپنی یادوں میں ڈوب کر لطف لیتے ہوئے بتایا: ’’ قائداعظمؒ کے دفتر میں ایک عام سی کال بیل تھی جس کے دبانے سے اْس کے اندر لگا دھات کا ٹکڑا آہنی خول سے ٹکرا کر آواز پیدا کرتا لیکن یہ آواز باہر بیٹھے ہوئے چپڑاسی تک نہ پہنچ پاتی۔ اِس لیے اْسے کام بتانے کے لیے انہیں اْٹھ کر ہر بار دروازے پر اْس کی نشست تک آنا پڑتا۔ قائداعظمؒ کو اس تکلیف سے بچانے کے لیے فیصلہ ہوا کہ دفتر میں برقی گھنٹی لگا دی جائے۔ اْس زمانے میں یہ کام ذرا مشکل تھا۔ بجلی کا تار بچھانے کے لیے دفتر کے اندر اور باہر کھدائی کی ضرورت تھی۔ طے پایا کہ یہ کام شام کو قائداعظمؒکے دفتر سے اْٹھنے کے بعد اور صبح دفتر پہنچنے سے پہلے کر لیا جائے لیکن اِس دوران میں کام مکمل نہ ہوسکا اور اگلی صبح عین وقت پر قائداعظمؒ دفتر میں داخل ہوئے تو کام جاری تھا۔ یہ دیکھ کر سید جعفر علی نے کارکنوں کو کام روکنے کا حکم دے دیا۔ یہ لوگ ا پنا سامان سنبھال کر جانے لگے تو قائداعظمؒ کی نظر ان پر پڑگئی جس پر انہوں نے جعفر صاحب سے پوچھا کہ اِن لوگوں نے کام کیوں بند کر دیا ہے، انہوں نے وجہ بتائی تو قائداعظمؒ نے حکم دیا کہ کام جاری رکھا جائے، لہٰذامزدوروں نے دوبارہ کام شروع کر دیا۔ اب صورت یہ تھی کہ قائداعظمؒ اپنی نشست پر بیٹھے کام میں مصروف ہیں، دوسری طرف مزدوروں کی کھٹ پٹ جاری ہے جس سے شور بھی اٹھ رہا ہے اور دھول مٹی بھی اڑ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وقت آگیا ہے پاکستان کا نقشہ پھیلے اور بھارت کا سُکڑے - وزیراعظم آزاد کشمیر

قائداعظمؒ بڑی نفاست کے ساتھ پرْ سکون طریقے سے کام کرنے کے عادی تھے۔ شور شرابا اور گرد آلود ماحول اْن کے مزاج سے مطابقت رکھتا تھا اور نہ ان کی صحت اس کی اجازت دیتی تھی لیکن اس کے باوجود قائداعظمؒ نے اِس صورتِ حال کو برداشت کیا تو اس کا سبب یہی تھا کہ سرکاری وسائل اور وقت کا ضیاع انہیں پسند نہ تھا اور وہ ابتدامیں ہی اس کی مثال قائم کردینا چاہتے تھے۔

گورنر جنرل کی حیثیت سے وہ کارِسرکار میں ضابطے کی خلاف ورزی کسی صورت میں برداشت نہ کرتے۔ ایسی ہی ایک کوشش میں سیکرٹری خزانہ ممتاز حُسین صاحب اْن سے ڈانٹ کھا بیٹھے تھے۔ ممتاز صاحب کا طریقہ یہ تھا کہ وہ فائل قائداعظمؒ کے سامنے رکھتے، ذرا پیچھے ہٹ کر احترام سے کھڑے ہو جاتے، قائداعظمؒ فائل دیکھتے جاتے اور دستخط کرتے جاتے۔ درمیان میں کوئی بات پوچھنے کی ہوتی تو سوال بھی کر لیتے۔ اْس روز بھی سب کچھ معمول کے مطابق ہوا لیکن ایک فائل پر قائداعظمؒ رْک گئے اور اْن کی طرف سوالیہ نظر سے دیکھا، خفگی واضح تھی لیکن ممتاز حسین نے اس کے باوجود ہمت کرکے وضاحت کی کوشش کی جس پرقائداعظمؒ نے سختی کے ساتھ کہا: ’’یہ وزیراعظم کے پاس جانی چاہیے‘‘۔ ممتاز حسین نے خاموشی سے فائل اْٹھا لی۔ واقعہ یہ تھا کہ سیکرٹری خزانہ کوئی ایسا کام کرنا چاہتے تھے جس سے وزیر اعظم لیاقت علی خان متفق نہ تھے چنانچہ انہوں نے براہ راست قائداعظمؒ سے منظوری لینے کی کوشش کی اور ناکام رہے۔ اس طرح قائداعظمؒ نے سرکاری حکام ہی نہیں بلکہ پوری قوم پر واضح کر دیا کہ اس ملک میں کوئی کام خلاف ضابطہ نہیں ہوسکتا۔

مرزا جواد بیگ علی گڑھ میں اپنے گھر سے لے کر دہلی میں قائداعظمؒ کے گھر تک کے معمولات کے شاہد اور گواہ رہے ہیں۔ میں نے ایک بار اْن سے قائداعظمؒ کے مذہبی عقائد کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے دوٹوک الفاظ میں جواب دیاکہ وہ اوّل و آخر مسلمان تھے، لیکن اس مختصر جواب سے میری تسلی نہ ہوسکی۔ مزید سوالات پر اْنہوں نے واضح کیا کہ مولانا اشرف علی تھانوی کے مشورے سے اْنہوں نے قرآنِ حکیم کا مطالعہ قیام پاکستان سے بہت پہلے شروع کر دیا تھا۔ اس مقصد کے لیے ایک عالم دین روزانہ دہلی میں 10 اورنگ زیب روڈ یعنی ان کے گھر میں اْنہیں قرآن حکیم کی تعلیم دیا کرتے تھے۔

قائداعظمؒ نے اپنے عہد کی جدید ترین تعلیم حاصل کر رکھی تھی،مال دولت سے بھی اللہ نے انھیں خوب نوازا تھا۔ ایسے انعامات عام لوگوں کا توازن بگاڑ دیتے ہیں لیکن قائداعظمؒ کا معاملہ مختلف تھا۔ ان عوامل نے مل کر اْن کی زندگی میں قدیم و جدید کا حسین امتزاج پیدا کر دیا تھا۔ پاکستان کیسا ہونا چاہیے؟ اس کی عملی شکل دیکھنی ہو تو قائداعظمؒ کی تصویر دیکھ لیجیے۔ قراقلی ٹوپی، شیروانی اور شلوار قمیص میں ملبوس فراٹے سے انگریزی بولتا ہوا ایک طویل قامت شخص جس کے سامنے بڑے بڑوں کی ٹوپیاں گر جاتی ہیں۔