سوپر بسکٹ کنسرٹ - کاشف حفیظ صدیقی

میں کیا کروں کہ میرا تعلق ایک ایسے دین سے ہے کہ جس نے تمدن اور تہزیب میں غیر قوموں کی نقالی کو پسند نہیں فرمایا۔ جس طرح اللہ کو معاشرتی اور اجتماعی اطاعت مطلوب اور محبوب ہے۔ اسی طرح رب کائینات کو اجتماعی نافرمانی نہایت ناپسند ہے بلکہ اسکے غضب کو دعوت دینے کے مترادف بھی ہے۔ اسلامی معاشرت کا ایک بنیادی وصف۔ حیاء اور پاکبازی ہے ۔ جو مرد وعورت دونوں سے مطلوب ہیں۔

فرمایا نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ (مفہوم) " اگر حیاء رخصت ہو جائے تو پھر جو چاہے کرو" ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا کہ "حیاء اور ایمان ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ جب ایک رخصت ہو جائے تو دوسرا ساتھ ہی چلا جاتا ہے۔" محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا کہ "موسیقی دلوں میں ایسے ہی نفاق پیدا کیا کرتی ہے جیسا کہ بارش کے زمانے میں گھانس"

سوپر بسکٹ بنانے والے ادارے کی جانب سے 25 دسمبر کو ہونے والا کنسرٹ، اور اس کنسرٹ کی پروموشن کیلئے بنایا جانے والا اشتہار نبی کریم صلی اللہ علیہ کی اوپر بیان کی گئی تمام احادیث کی پائمالی کا باعث ہے۔ یہ اللہ جل شانہ اور اس کے محبوب ترین بندے کی ہر ہر ہدایت اور واضح حکم کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس کا عذاب کس کس کے سر جائے گا۔ Concept کی سطح سے لیکر اس سرگرمی کے لیے کسی بھی سطح تک چادر تک بچھانے تک مجھے نہیں معلوم۔ مگر اس بارے میں میں یکسو ہوں کہ نافرمانی کو خاموشی سے دیکھنے والوں کےسر بھی خاموش رہنے کا عذاب جائے گا۔ اور میں خاموش نہیں ۔

نوجوان مرد و زن کے جھوم جھوم کر مخلوط ماحول میں گانے کو چاہے وہ قومی ترانہ ہی کے بہانے کیوں نہ ہو۔ بطور مسلمان قابل قبول ہرگز ہرگز نہیں کہا جا سکتا۔ نہ ہی کسی خاتون کے ڈھول بجانے کو اور نہ ہی سینکڑوں آرکیسٹرا کی موجودگی میں جھوم اور ناچ کے گانے کو۔ جہاں سے دوپٹہ رخصت ہو چکا ہو۔ ہم محدود سوچ کے لوگوں کو قابل قبول نہیں۔ جنون گروپ کی ری یونین سے کسی عام فرد کو کوئی سروکار نہیں، کسی کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ اور ہاں اس کو شاندار، زبردست اور رنگ و نور کی محفل کہنے والوں کے ساتھ رب زولجلال کیسا معاملہ کرے گا ۔ وہ وہی جبار وقہار ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ اس کی لغت میں اس طرح کا اہتمام بغاوت اور نافرمانی میں آتا ہے۔

اس کنسرٹ کا فی فرد ٹکٹ 5000 روپے کا ہے ۔ کچھ ان سے بھی مہنگے ہوں گے ۔کیا اتنی رقم سے کچھ اور نہیں کیا جا سکتا ؟ کتنے لوگوں کے کام یہ رقم آ سکتی ہے۔ سوچنے کی بات ہے ۔

اللہ کے بندوں کو اللہ کی زمین پہ اللہ کے احکامات کی اطاعت پر مجبور کرنا ریاست کا کام ہے افرد کا نہیں۔ ریاست کا زمام کار جن افراد کے ہاتھوں میں ہے وہی اس اللہ کے قانون کو زمین پہ مامور کرنے کے ذمہ دار ہیں، اور سخت باز پرس بھی انہی سے ہوگی، مگر ناگواری اور بیزاری کا اپنے تئیں برملا اظہار کر کے اللہ کے سامنے سرخرو ہونے کا سامان ضرور کیجیے۔

ٹیگز

Comments

کاشف حفیظ صدیقی

کاشف حفیظ صدیقی

کاشف حفیظ صدیقی معروف سروے کمپنی پلس کنسلٹنٹ، کراچی کے سربراہ ہیں، اسلامی اور معاشرتی موجوعات پر لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */