اشتہاری نظامِ تعلیم کا المیہ - صبور فاطمہ

تعلیم کی کتب کا مطالعہ جب بطورِ نصاب کیا جاتا ہے تو تین اقسامِ تعلیم کتب میں درج کی جاتی ہیں ۔رسمی تعلیم ، غیررسمی تعلیم،نیم رسمی تعلیم۔ رسمی تعلیم میں طالب علم/ بچہ باقاعدہ اور منظم مکمل منصوبہ بندی کے تحت ایک عمارت کے اندر ترتیب وارتعلیم حاصل کرتاہے، چیزوں کو سیکھتا ہے اور بتدریج آگے بڑھتاہے۔ غیر رسمی تعلیم کی بنیاد کسی عمارت /کمرۂ جماعت پر نہیں بلکہ معاشرتی مشاہدہ پر ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ان چیزوں کو بچہ غیر شعوری طور سے اپنی عادات میں شامل کرلیتا ہے۔مثلا خاندان کے افراد کا رویہ، اندازِگفتگو، آدابِ معاش وغیرہ۔ نیم رسمی تعلیم :رسمی اور غیر رسمی تعلیم کے اشتراک کا نظامِ تعلیم ہے(اوپن یونیورسٹی کے تعلیمی پروگرامز کا تعلق اسی قسم سے ہے)۔ نتائج کے اعتبار سے شخصیت پر غیر رسمی تعلیم کے اثرات،رسمی تعلیم کی نسبت زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔

لیکن اب عصرِ حاضر میں ایک نیا نظام ِ تعلیم بھی سامنے آیا ہے جسے اشتہاری نظامِ تعلیم کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا وجہ بالکل واضح ہے کیونکہ اب اکژیت سے بھی زیادہ گھروں میں میڈیا جزولاینفک کی حیثیت اختیار کرگیا ہےجس کے بغیر کسی بھی عمر کے فرد کا گزارہ نہیں ،اسی میڈیا میں خواہ کوئی بھی چینل ہو اشتہارات ضرورآتے ہیں جو بمع انٹرٹینمنٹ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لئے معاش کی بنیاد ہے،جو سوفیصد کامیاب بھی ہیں ۔کیونکہ یہی اشتہارات ہم کو بتاتے ہیں کہ ہم کس موسم میں کونسا مشروب پئیں ،نومولود کونسا دودھ پئے،اسکول جانے والا بچہ کونسا دودھ پئے، پھر جب بچہ بڑا ہو تو کونسا دلیہ کھائے، نوجوان کون سا دودھ پیے، پانی کس کمپنی کا پیے، بھوک لگے تو کون سا برگر کھائے، جوتا کون سا پہنے، سر میں درد ہو تو کون سی دوائی لے، کون سا صابن، شیمپو استعمال کرے۔ انھی اشتہارات نے تعلیمی اداروں کو برانڈز کی صورت میں پیش کیا ہے کہ بچہ کو کون سے اسکول میں داخلہ دلوایاجائے ،کون سے کپڑے پہنے جائیں، شام کی چائے کے ساتھ کون سا بسکٹ یا چپس کھایاجائے، کون سے تیل میں کھانا پکایا جائے،گھی، مکھن کے نام پر مارجرین جو پلاسٹک کی نچلی سطح اور زہر ہے، اشتہار کے ذریعے ہی ہماری خوراک کا حصہ بنایا جارہا ہے۔

سر سے لے کر پاؤں تک کہ تما م تر معاملات کی رہنمائی اشتہار ات کے ذریعے ہورہی ہے ۔ان اشتہارات کے اثرات ہماری شخصیات، حلیہ، خوراک، روزمرہ کی چیزوں کے استعمال میں واضح طور پر نمایاں ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم ان کے زیرِ اثر زندگی گزاررہے ہیں ۔ان کی تہذیب قبول کررہے ہیں ۔اب کے اشتہارات میں مشرقیت نہیں بلکہ فحاشی اور غیر مسلم اقوام کی طرز وتقلید نمایاں ہے۔معاشرے کی اکثریت بالخصوص نئی نسل انہی اشتہارات کے زیرِ تسلط زندگی گزاررہی ہے جن میں مصنوعیت ہے ،صحت نہیں ۔غور طلب بات یہ ہے کہ انہی اشتہارات کے ذریعے نظریات کو بھی تبدیل کیا جارہا ہے۔

زندہ مثال ٹی وی چینل پر گردش کرنے والی اس عالمی شہرت یافتہ صابن کے ا شتہار کی ہےجس کو استعمال کرنے والے (STARS) ہیں۔STARSمطلب ستارے جو چمکتے ہیں اور زمانہ قدیم میں ان کی چالوں سے راستہ تلاش کرکے منزل تک پہچا جاتا تھا۔اب وہ خواتین کہ جن کے اس صابن کے اشتہار کو خاندان کے سامنے بیٹھ کر دیکھنے میں شرم محسوس ہواور ان کو جب ستارہ کہا جائے تو اسے نظریات کی تبدیلی نہیں تو پھر اور کیا کہا جائے گا؟یہ المیہ ہے تفریح نہیں کیونکہ آہستہ آہستہ ان اشتہارات کے ذریعے نئی نسل کو مصنوعی زندگی کی جانب راٖغب کیاجارہاہے کہ وہ میڈیا کے ان اشتہارات کو حتمی، درست، اور صحت پر مبنی قائم اصولوں کے مطابق تصور کریں اور والدین یا بڑوں کی نصیحت کو دقیانوسی یا غیر جدید خیال کریں جس کے نتیجے میں وہ حکم عدولی کے مرتکب ہوں گے اور نتیجتاوقت سے پہلے خود کو خود مختارتصور کریں گے۔

slow poison کی صورت میں چائے،صابن کے اشتہارات کے ذریعےسے ہماری نوجوان نسل بالخصوص بچوں کو ذہنی اعتبار سے خرافاتی/بے حیاء،جسمانی اعتبار سے کمزور اور کردار کے اعتبار بےغیرت بنایاجارہا ہےکیونکہ ان اشتہارات میں سوائے نیم برہنہ خواتین یا ناچ گانےاچھل کود کے کچھ نہیں۔
اشتہارات کو عوام کی آگاہی (Public Awareness) کے طور پر دینا الگ چیز میں شامل ہوجاتاہے لیکن مذکورہ ان تمام تر امثال کے بعد اگر ان اشتہارات کو نیا ذریعہ تعلیم کہا جائے تو کوئی حرج نہ ہوگا کیونکہ ان اشتہارات کے ذریعے سے ہر عمر کافرد خواہ وہ مرد ہو یا عورت متاثر ہوکر ان اجزائے اشتہار کو اپنی روزمرہ زندگی میں شامل ضرور کررہا ہے۔ضرورت صحیح نظریات سے واقفیت اور قدرت سے قریب تر زندگی گزارنے کی ہےورنہ نتائج حد درجہ سنگین ہوں گے کیونکہ یہ اشتہارات دن میں کئی کئی بار نظروں سے گزرتے ہیں جیسے درخت، کلہاڑی کے پے درپے وار سےہی جڑ سے علیحدہ ہوتا ہےتو ان اشتہارات کا کئی بار تکرار معصوم اذہان پر نظریات کی تبدیلی کے کلہاڑی کے پے درپے وار کے مترادف ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ان کمپنیوں کے اشتہارات ہماری نفسیات پر حکومت کررہے ہیں۔یہ وقت سوچنے اوراس غلط فکر کے خلاف کھڑے ہونے کاہے۔ذرا سوچئے۔۔۔۔۔ کیونکہ میں ،آپ اور آنے والی نسلیں انہیں اشتہارات کے اثرات میں پروان چڑھائے جارہے ہیں۔