توازن کہاں کھو گیا؟ - حنا نرجس

سال کے اختتامی دنوں میں خواہ کتنی ہی کوشش کی جائے کہ اداسی کو قریب نہیں پھٹکنے دینا، جذباتی نہیں ہونا، کامیابی کم ہی ملتی ہے. پھر خود احتسابی کی ترغیب تو ہمیں نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ و سلم نے بھی دی ہے، کہ مومن کا ہر اگلا دن پچھلے سے بہتر ہوتا ہے یا بدتر. اسی پر قیاس کرتے ہوئے ماہ و سال کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے. یہ عمل شخصیت کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے. غلطی، غلطی رہتی ہے جب تک اس پر پچھتایا جاتا رہے، لیکن جب اس سے آئندہ کے لیے سبق سیکھ کر آگے بڑھ جایا جائے، یہ بلندی کی جانب گامزن مسافر کا اگلا قدم بن جاتی ہے.

آج کے انسان کا عمومی مسئلہ توازن اور فوکس کا کھو جانا ہے. الل ٹپ طریقے سے گزاری گئی زندگی کسی منزل تک نہیں پہنچا سکتی. یہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ بندے کو ایک فون چارجر بھی تلاش کرنا ہو تو الماری کے پانچوں خانے چھاننے پڑیں. پھر خارج کی ابتری سے کہیں زیادہ تشویش ناک باطن کی ابتری ہے، یعنی دل و دماغ کا منتشر اور بکھرا ہوا ہونا.

ضروری ہے کہ سب سے پہلے آپ اپنے ڈیزائن کو سمجھیں. اللہ تعالیٰ نے آپ کو کون سی صلاحیتیں دے کر دنیا میں بھیجا ہے؟ آپ میں ایسا کیا ہے جو آپ کو دوسروں سے ممتاز کرتا ہے؟ اپنے ساتھ رہنے والوں، ریئل اور ورچوئل دنیا کے ساتھیوں اور امت مسلمہ کی بہتری کے لیے آپ اپنا حصہ کس طرح ڈال سکتے ہیں؟ مثلاً اچھا پکا سکتے ہیں، پڑھا سکتے ہیں، مسیحائی کر سکتے ہیں، لکھ سکتے ہیں، مسکرا سکتے ہیں، فصلیں اگا سکتے ہیں، کمپیوٹر پروگرام بنا سکتے ہیں، خیر کی جانب رہنمائی کر سکتے ہیں، مؤثر انداز میں اچھی بات پہنچا سکتے ہیں، جسمانی مشقت کے کاموں میں مدد کر سکتے ہیں، مثبت انرجی دوسروں تک منتقل کر سکتے ہیں، وغیرہ وغیرہ

ایک پین اور پیپر لیں اور اپنی زندگی کی ترجیحات اس پر لکھیں. خوب غور و فکر سے کام لیتے، کانٹ چھانٹ کرتے ہوئے انہیں پانچ تک لے آئیں. اب ان کی ترتیب درست کریں یعنی اہم ترین ترجیح کو نمبر ون دیں، اہم تر کو نمبر دو، اسی طرح پانچ تک.

کچھ اس قسم کا خاکہ تیار ہو جائے گا.
١. حقوق اللہ
٢. حقوق العباد
٣. صلہ رحمی
٤. رزق حلال کمانا، تفویض شدہ کردار احسن طریقے سے ادا کرنا
٥. مشاغل، سیلف گرومنگ

انہیں پانچ مختلف خانوں میں لکھ لیں. پھر ہر خانے میں تھوڑی سی تفصیل درج کر دیں. جیسے پہلے میں لکھیں. عقیدے کی درستی، نماز، روزہ، قرآن، اذکار، حج، زکوٰۃ. دوسرے میں لکھیں کہ جن انسانوں سے آپ کسی بھی تعلق میں جڑے ہیں، کیسے ان سے متعلق خود پر عائد حقوق احسن طریقے سے ادا کر سکتے ہیں. تیسرے میں وہ تمام طریقے جو صلہ رحمی میں معاون ہو سکتے ہیں مثلاً میسج یا کال کرنا، ملنے جانا، چائے، لنچ یا ڈنر پر بلانا، تحفے دینا، غیر موجودگی میں بھی اچھے الفاظ میں ذکر کرنا، دعاؤں میں یاد رکھنا وغیرہ. یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اصل میں تو تیسرا پوائنٹ دوسرے ہی کی ایکسٹنشن ہے لیکن چونکہ آج کے دور میں صلہ رحمی کو بہت نظر انداز کیا جا رہا ہے اس لیے الگ سے فوکس کرنے کی ضرورت ہے.

اب آتے ہیں چوتھے خانے کی جانب. رزقِ حلال کمانا ایک اہم ذمہ داری ہے. سوچیں اور لکھیں کہ اس کے لیے کتنا وقت مختص کرنا مناسب ہے اور اس کے تقاضے کیسے عمدگی سے نبھائے جا سکتے ہیں. اس کے ساتھ ہی یہ بھی چیک کریں کہ انسانوں کے مابین رہتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو کون سے رول دیے گئے ہیں؟ مثلاً بیٹا/بیٹی، بھائی/بہن، ہزبنڈ/وائف، داماد/بہو، باپ/ماں، ہمسائے، دوست، کولیگ، کزن، بھانجے/بھانجی، بھتیجے/بھتیجی وغیرہ.

اب پانچویں خانے میں ان مشاغل کے متعلق جو آپ نے منتخب کیے ہیں تھوڑی وضاحت کریں کہ آپ انہیں کتنا وقت، کتنا بجٹ دے سکتے ہیں. اسی خانے میں سیلف گرومنگ بھی ہے یعنی خود کو جسمانی، ذہنی، جذباتی، سماجی، روحانی اور تعلیمی اعتبار سے بہتر کرنے کے لیے روزانہ کچھ نہ کچھ محنت کرنا. ورزش کر کے، کتابیں پڑھ کر، لیکچرز سن کر، کلاس اٹینڈ کر کے، کورس جوائن کر کے. یہ سب ہر عمر میں کیا جا سکتا ہے.

اس سرگرمی کو ذرا صاف اور واضح انداز میں لکھ کر کمرے میں کسی ایسی جگہ پیسٹ کر دیں جہاں دوسروں کی نظر نہ پڑے لیکن آپ دن میں ایک دو بار اسے دیکھ سکیں. مثلاً دروازے کے پیچھے، یا پھر تصویر لے کر اپنے فون میں سیو کر لیں.

اب آتے ہیں ان ٹپس کی جانب جو فوکس قائم رکھنے، وقت اور انرجی کو بچانے میں معاون ہیں.

اپنے فون میں سے تمام غیر ضروری ایپس اَن انسٹال کر دیں. غیر ضروری کی تعریف یہ ہو گی کہ جو چیزیں آپ کی پانچوں ترجیحات میں کسی سے بھی متعلق نہیں، وہ غیر ضروری ہیں.

سوشل میڈیا میں کم سے کم پلیٹ فارمز استعمال کریں. اگر فیس بک سائٹ آپ کو فرینڈز اینڈ فیملی سے کنیکٹ ہونے کی کافی سہولت دے رہی ہے تو ضروری نہیں ہے کہ آپ ٹویٹر اور انسٹاگرام بھی لازماً استعمال کریں.

واٹس ایپ پر تمام غیر ضروری گروپس کو ایگزٹ کر دیں اور براڈ کاسٹ لسٹس سے علیحدہ ہو جائیں. آٹو ڈاؤن لوڈ کو مکمل طور پر آف رکھیں. جو دوست رشتہ دار سارا سارا دن فارورڈ میسجز بھیج کر آپ کا انباکس بھرے رکھتے ہیں ان کو پیار سے سمجھا دیں یا خاموشی سے بلاک کر دیں. آپ کا وقت اور ذہنی یکسوئی خواہ مخواہ کا لحاظ برتنے سے کہیں اہم ہے.

اگر ایک عرصے سے آپ نے فون نمبر تبدیل نہیں کیا تو نمبر تبدیل کر کے اپنی کانٹیک لسٹ کو شارٹ لسٹ کرنا بھی فائدہ مند ہے.

اگر آپ فیس بک پر پڑھنے پڑھانے کے لیے آتے ہیں اور بہت زیادہ وقت صرف ہو جانے سے پریشان ہیں تو حل یہ ہے کہ لائک کیے گئے صفحات کی تعداد پچیس سے کم ہی رکھیں. اور فرینڈز میں انہی کو سی فرسٹ کریں جو آپ کو اوریجنل مواد مہیا کرتے ہیں، دوسروں کی پوسٹس کم کم شیئر کرتے ہیں. یہاں بھی روزانہ دوسروں کی تیس چالیس پوسٹس شیئر کرنے والوں سے فاصلہ رکھیں. اَن فالو کر سکتے ہیں.

مطالعہ ضرور کریں لیکن صرف دوسروں کو ہی نہ پڑھتے رہیں. دن کا کچھ حصہ تنہا بیٹھ کر یا واک کرتے ہوئے سوچ بچار کے لیے بھی مختص کریں تاکہ دنیا کو محض دوسروں کی آنکھوں سے دیکھنے کی عادت نہ ہو جائے، آپ اپنی باطنی آنکھیں بھی کھلی رکھ سکیں.

میری طرح باخبر رہنے کا شوق رکھتے ہیں تو کسی ایک اچھے اخبار کی ہیڈ لائنز دیکھ لینا کفایت کرتا ہے. تفصیلات میں زیادہ نہ جائیں.

اسی طرح اپنے سارے پسندیدہ مفسرین کی آراء کو آپ ایک ساتھ نہیں جان سکتے. ایک وقت میں بس ایک تفسیر سنیں یا پڑھیں.

دعا بندے کے اللہ کے ساتھ تعلق کی خوبصورتی کا اظہار ہے انہیں نمازوں کے ساتھ تقسیم کر لیں جیسے علم کی دعائیں ظہر کے بعد، معوذات عصر کے بعد یا یوں کریں جس کتاب سے آپ دعائیں پڑھتے ہیں، ترتیب سے چلتے جائیں، پہلی پانچ فجر کے ساتھ، اگلی پانچ ظہر کے ساتھ، وغیرہ وغیرہ. اور اللہ سے باتیں تو اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے ہوتی ہی رہنی چاہئیں

ہر ایک کو ہر کام کے لیے "ہاں" کہنے سے بچیں. بظاہر چھوٹے چھوٹے کام ہوتے ہیں لیکن جب آپ انہیں مصروفیت کی وجہ سے نہیں کر پاتے تو وہ بیک اینڈ پر رہتے ہوئے آپ کو مسلسل ٹینشن دیتے ہیں. بعض اوقات تو آپ خود کو کسی پہاڑ کے بوجھ تلے دبا محسوس کرنے لگتے ہیں کہ جاؤں تو جاؤں کہاں.

جو کام کرنا ناگزیر ہو، اس کو ملتوی (delay) نہ کریں. کسی کو کال کرنی ہو، کہیں جانا ہو، کوئی چیز خریدنی ہو، فوراً اور اسی وقت یا جتنی جلدی ممکن ہو کرنے کی عادت ڈالیں.

امید ہے ترجیحات کا تعین کرنے اور ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنے سے آپ کی زندگی اس الماری کی طرح منظم ہو جائے گی جس میں ہر چیز ترتیب اور سلیقے سے پڑی ہوتی ہے اور ہر خانے کے باہر متعلقہ لیبل لگا ہوتا ہے. آپ سیدھے اس خانے کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہیں جس میں آپ کی مطلوبہ چیز پڑی ہونے کا یقین ہو اور کبھی مایوس نہیں ہوتے۔

ٹیگز

Comments

حنا نرجس

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.