جامعۃ الرشید کے حضرات کی خدمت میں - محمد بلال خان

جامعۃ الرشید کراچی کے حضرات "ریاستِ مدینہ" کے خواب کو شرمندہِ تعبیر بنانے میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ اُن کی کاوشوں کو قبول فرمائے، لیکن معاملے کو دونوں زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سربراہ جامعۃ الرشید مفتی عبدالرحیم صاحب دامت برکاتہم العالیہ بلا شبہ ایک عالی دماغ، دوراندیش، فہیم اور صاحبِ فراست شخصیت ہیں، ان کا ریاستی پالیسی کے عین مطابق چلنا نیک نیتی اور دینی طبقات کی خیرخواہی پر مبنی ہوتا ہے، تاہم یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ریاست کو مذہب کا غلط استعمال نہ کرنے دیا جائے۔

جامعۃ الرشید "پیغامِ پاکستان" کا سب سے بڑا حمایتی اور مہم جو ثابت ہوا، یہ پیغام دراصل ریاستی ضرورت کے تحت پیش کیا گیا، جیسے ماضی میں ریاستی "ضرورت" کے لیے نصاب میں خصوصی کمی یا بیشی کی گئی، مدارس کے طلبہ کو جی ایچ کیو کے شعبہِ تحقیق و تصنیف سے شائع شدہ نصاب پڑھا کر مسلح جدوجہد سکھائی گئی، مگر اب پالیسیاں تبدیل ہوئیں تو نظریات ہی بدل ڈالنے کی مہم جاری ہے۔ مولانا طارق جمیل صاحب کی جانب سے عمران خان کی حمایت اور تعاون کی دعوت کے بعد ان پر کی گئی تنقید میں جامعۃ الرشید کا بحیثیتِ ارادہ دفاع میں آ کھڑا ہونا اس بات پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے کہ مولانا طارق جمیل کا بیانیہ ریاستی ضرورت کے تحت دلوایا گیا۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ مولانا طارق جمیل صاحب کے بیان کا سب سے زیادہ دفاع ریاستی اداروں کے قریب تر سمجھے جانے والے اداروں، شخصیات اور تنظیمات کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ معاملہ یہ نہیں کہ طارق جمیل صاحب سے "محبت" جتائی جا رہی ہے، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ طارق جمیل صاحب کی اوٹ میں چھپ کر عمران خان اور اُس کی سرپرستی کرنے والوں کے طرزِعمل کی تائید و توثیق کی جا رہی ہے، یعنی یہ باور کرایا جارہا ہے کہ مولانا نے جو کچھ عمران خان کی حکومت کے متعلق کہا، وہ درست ہے۔ یہ بات شاید قبل از وقت ہو لیکن عنقریب ہماری آنکھیں یہ بھی دیکھ سکیں گی کہ ریاست نے اگر خطباء کو لکھا ہوا خطبہ پڑھنے کے لیے سنجیدگی سے سوچا تو یہی طبقات حکومت کی تائید میں دلائل پیش کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   ’’ازالہ کون کرے گا۔۔۔‘‘ - احسان کوہاٹی

ہمارا مسئلہ سوائے اس کہ کچھ نہیں کہ یہ حضرات، ادارے اور تنظیمات اپنا مؤقف واضح رکھیں، کہ آیا ، ان کا ماضی میں پیش کیاگیا مؤقف درست ہے، یا اب کا بیان برحق ہے، یا پھر دین کے مقابلے میں وطنیت کو ترجیح دینے کا سلسلہ درست ہے؟ یا پھر کم از کم یہ واضح کیا جائے کہ "نظریہِ ضرورت" کے تحت و آراء، نظریات اور مفروضات، جنہیں عقائد کے درجے میں دینی طبقے کے اذہان میں راسخ کیا جاتا ہے، وہ وقتی ہوتے ہیں، ان سے انحراف کرنے سے ایمان و عقائد پر کوئی فرق نہیں پڑے گا، تاکہ نوجوان مذہبی طبقہ اس دوہرے معیار کے خلجان سے خود کو نکال سکے۔ یاد رہے کہ اس نوجوان کو اس خلجان سے باہر نکلنے کا اتنا ہی راستہ دیجیے کہ اسلام سے باہر بھیجنے کی گنجائش نہ ہو، یہ کچھ ایسے معاملات میں کہ جن کی بنیاد پر ہم اپنے بڑوں یعنی اکابر کی آراء یا ان کے اعمال و افعال، جو کہ دینی طور پر ہمارے لیے حجت نہ ہوں، ان کو مسترد کرنے کی جرات کرتے ہیں، یا پھر کم از کم اسے قبول نہیں کرتے۔ موجودہ صورتحال میں جس انداز سے صبح و شام نظریات تبدیل کیے جا رہے ہیں، بیانیے بدلے جارہے ہیں، ایسےمیں دو طبقات ہی لکیر کے فقیر بن سکتے ہیں، ایک انتہاء درجے کے عقیدت مند، جن کے لیے نظریات سے زیادہ شخصیات اہم ہوں، دوسرے وہ کہ جنھوں نے انھی شخصیات، اداروں اور تنظیمات کا ماضی نہ دیکھا ہو، لیکن جس بندے نے شعوری یا ابتدائی زندگی میں بھی تیر و تلوار کی باتیں کرنے والوں کو سرکاری خطبات تک کی تائید میں سرہلاتے دیکھا ہو، وہ ضرور سوال اُٹھائے گا۔ ہم وہی "گستاخ" ہیں، جو ایسے سوال اُٹھا رہے ہیں، اور ہمیں جواب میں ہمیشہ "گستاخ، بےادب" یا پھر سرکش اور دین بیزار جیسے القابات عطاء ہوتے ہیں، یہ کسی بھی طور باعثِ اطمینان نہیں ہے، بلکہ راہِ فرار ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ سوال کرنا گستاخی نہیں ہے۔

Comments

محمد بلال خان

محمد بلال خان

محمد بلال خان نوجوان شاعر و قلم کار اور سیاسیات کے طالب علم ہیں، مختلف اخبارات میں لکھنے کے ساتھ ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد میں بچوں کے پروگرام کا حصہ رہے، مقامی چینلز میں بطور سکرپٹ رائٹر کام کیا، آج کل عالمی ابلاغی ادارے سے بطور ریسرچر، سکرپٹ رائٹر وابستگی رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.