نصیب کا کھیل اور ریڈ سگنل - سید قاسم علی شاہ

ٹریفک سگنلز تین طرح کے ہوتے ہیں۔گرین، یلو اور ریڈ۔ ریڈسگنل کا مطلب دوسری طرف کی ٹریفک کے جانے تک کا انتظار کرنا۔ انسان کی زندگی میں بھی مسائل اور مشکلات کی صورت میں ریڈسگنل ہوتے ہیں، جن کا سامنا کرنا اور ان کے گزرنے کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔

ہر فرد کی زندگی کے ریڈ سگنل مختلف ہوتے ہیں۔ بعض اوقا ت بندہ زندگی میں چلتا جا رہا ہوتا ہے اور ایک جگہ رک جاتا ہے، حالانکہ وہاں کوئی ریڈ سگنل نہیں ہوتا، بلکہ وہ خود ہی اپنا ریڈ سگنل بن جاتا ہے۔ اس کے اپنے خیالات، اپنی نالائقی، اپنی ناسمجھی اور اپنی ذات ہی ریڈ سگنل بن جاتی ہے۔ زندگی میں جب یہ صورت حال ہو تو یہ بڑی خطرناک علامت ہوتی ہے۔ یہ وقت انسان کا اپنے آپ سے لڑنے کا ہوتا ہے۔ یہ وقت اپنے اندر کی ’’میں‘‘ کو مارنے کا ہوتا ہے۔ جب بندہ اپنے اندر کی ’میں‘ کو مارتا ہے تو اس کی زندگی میں تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ انسان جسمانی کام سے اتنا نہیں تھکتا جتنا اپنی سوچوں سے تھکتا ہے کیونکہ سوچنا بھی ایک کام ہے۔ جو شخص غیر ضروری سوچوں کا شکار ہو جائے، وہ جلد تھکاوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔ جو سوچیں کام کی نہ ہوں اور نتائج نہ دے سکیں، وہ ریڈ سگنل ہوتی ہیں۔ سوچ بیج کی طرح ہوتی ہے، اس کو مثبت خیالات کا پانی دیا جاتا ہے۔ جب اندر کوئی منفی خیال چل رہا ہو تو اس وقت یہ جاننے کی ضرورت ہوتی ہے کہ یہ کہاں سے آیا، اس کے کیا محرکات ہیں، کہیں یہ کسی بری عادت کی وجہ سے تو نہیں ہے۔ حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں کہ پریشانی میں سب سے پہلے جو چیز چھنتی ہے، وہ پریشانی حل کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اس لیے کہا گیا ہے کہ انتہائی غم اور انتہائی خوشی حالت میں فیصلہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ انتہائی خوشی یا غم کی حالت میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت کمزور ہوتی ہے۔ مثبت خیالات سے ہی مثبت سوچ پیدا ہوتی ہے، اگرخیالات مثبت ہوں تو پھر سوچ بھی مثبت ہوتی ہے اور فیصلہ کرنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔

سوچنے والے انسان کے خیالات میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ نہیں بدلتا تو پتھر نہیں بدلتا۔ وہ لوگ جو بدلتے نہیں ہیں وہ پتھر کی مانند ہوتے ہیں، جن کی سوچ نہیں بدلتی وہ جانوروں کی مانند ہوتے ہیں۔ حضرت علامہ اقبالؒ کے ایک شعر کا مفہوم ہے کہ نصیب اس وقت بدلتا ہے جس لمحے خیالات بدلتے ہیں۔ اگر خیال بدلنے شروع ہو جائیں تو پھر نصیب بدلنا بھی شروع ہو جاتا ہے ۔ دنیا میں خوش بختیاں بظاہر بدبختیوں کی شکل میں آتی ہیں۔ ہمیں ان کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ ہم جس چیز کو بہت برا سمجھ رہے ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اسی میں انعام رکھا ہوتا ہے۔ سخت حالات بہت قیمتی چیز ہیں۔ ان سے بندہ لڑنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ جو پائلٹ طیارہ اڑا رہا ہوتا ہے، اسے کہا جاتا ہے کہ جب کبھی طیارہ تباہ ہونے لگے تو تم نے طیارہ تباہ کر دینا ہے، مگر خود کو بچا لینا ہے کیونکہ تم طیارے سے زیادہ قیمتی ہو۔ اس لیے قدرت قیمتی چیز تب دیتی ہے کہ جب بندہ اسے سنبھالنے کے قابل ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   نصیب کا لکھا یا آپ کا لکھا؟

فیض والوں کی زندگی میں بھی ریڈ سگنل آتے ہیں، لیکن وہ جلد ہی گرین ہوجاتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ ریڈ سگنل آنے کے بعد سمجھتے ہیں کہ راستہ بند ہو گیا ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اس ریڈ سگنل نے گرین بھی ہونا ہے۔ مثال کے طور پر، آپ نے پانی کی بالٹی پکڑی ہوئی ہے، اس میں ایک سوراخ ہے، آپ جا رہے ہیں، آگے ریڈ سگنل آ گیا۔ اگر آپ وہیں رکے رہیں گے تو پانی رِس جائے گا، لیکن اگر پتا ہو کہ سگنل نے گرین ہو جانا ہے تو آپ پانی کو منزل تک پہنچا لیں گے۔ انسان کے پاس اُمید کا پانی ہوتا ہے، بعض لوگ صرف چند ریڈ سگنل آنے کی وجہ سے ہی اپنے اُمید کے پانی کو ختم کر لیتے ہیں، اور پھر لوگوں میں بھی نااُمیدی بانٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جو لوگ جرائم کی دنیا میں چلے جاتے ہیں، ان کی امید چھن چکی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انھیں زندگی میں کوئی ایسا تعلیمی ادارہ نہیں ملا ہوتا جو انھیں راستہ دکھاتا، جو اُن کے اندر تبدیلی لے کر آتا۔ انھیں زندگی میں کوئی ایسا استاد نہیں ملا ہوتا جو ان کے اندر بیج بوتا ہے، اندر کی تبدیلی بیج بونے سے ہی آتی ہے۔ تعلیمی اداروں کا نہ ملنا، استاد کا نہ ملنا یہ ریڈسگنلز ہیں۔

یہی ریڈسگنلز اگر گرین بن جائیں یعنی ان کی زندگی میں استاد کا کردار آجائے تو وہ بھی اچھے شہری بن سکتے ہیں۔ استاد کا کردار اُسی صورت میں ہو سکتا ہے جب سسٹم صحیح ہو اور سسٹم کوصحیح کرنا حکومتوں اور معاشرے کا کام ہوتا ہے۔ معاشرے میں استاد کو عزت اس لیے نہیں مل رہی کہ استاد خود مثال نہیں ہے۔ جو استاد خود قابل نہ ہو، وہ اپنے شاگردوں کو کیسے قابل بنائے گا۔ حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں، ’’قدرت آگہی تب دیتی ہے جب ظرف اور برداشت ہو۔‘‘ وزڈم یا دانش برداشت سے آتا ہے۔ حوصلہ جب تک نہ آئے، وزڈم نہیں آتا۔ عقل آتی ہی تب ہے کہ جب آدمی اندر سے مرتا ہے۔ اندر کا ریڈ سگنل ختم ہو تو وِزڈم آتا ہے۔ ہر نبی کی زندگی میں ابوجہل آتے ہیں، فرعون آتے ہیں، شداد آتے ہیں، نمرود آتے ہیں۔ یہ اس لیے ہوتے ہیں کہ ہمیں سمجھ آجائے کہ اگر ہماری زندگی میں اس طرح کے لوگ آئیں تو انھیں کبھی ریڈ سگنل نہیں بننے دینا۔ کبھی اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہونا۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی کے پاس اتنی طاقت ہو کہ وہ آپ کا نصیب بدل دے۔ انسان اپنی کہانی خود لکھتا ہے۔ جب بندہ مضبوط ہو تو پھر کوئی کچھ نہیں کرسکتا۔ اگر بندہ کمزور ہو تو پھر اس کا نصیب دوسروں کے ہاتھ چلا جاتا ہے۔ نصیب تب بندے کے اپنے ہاتھ میں ہوتاہے جب وہ کسی بھی بیرونی طاقت کو ریڈ سگنل نہیں بننے دیتا۔ انسان کو اشرف المخلوقات کہا ہی اس لیے گیا ہے کہ اس کو کسی بھی طرح کے حالات روک نہیں سکتے۔ جب انسان ارادہ کر لیتا ہے تو پھر اس ارادے کے آگے ساری کائنات سر نگوں ہو جاتی ہے۔بیدار انسان لوگوں کے نصیب کو بدل دیتا ہے، اس لیے بڑے انسانو ں کے ہاتھ پر زمانوں کا نصیب لکھا ہوتا ہے جبکہ چھوٹے انسان کا اپنا نصیب دوسرے کے ہاتھ پر لکھا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نصیب کا لکھا یا آپ کا لکھا؟

اسلام میں تزکیہ کا مطلب اپنے آپ میں بہتری لانا ہے۔ ہم صرف نمازیں پڑھنے، اور عبادتیں کرنے کو تزکیہ سمجھتے ہیں جبکہ عبادت کا مطلب ہے کہ بندے میں بہتری آجائے، ہم اپنی زندگی کو سمجھ جائیں۔ ہم یہ سمجھ جائیں کہ ہماری زندگی کو ’’وہ‘‘ چلا رہا ہے جو تمام جہانوں کا مالک ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میرے ساتھ وعدہ کرو کہ تو اچھے کام کرے گا تو اس کے عوض میں تجھے اتنی طاقت دوں گا کہ تو اپنا نصیب خود لکھ سکے گا۔ اس لیے کہا گیا ہے کہ ’’دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا، سراسرموم ہو یا سنگ ہو جا‘‘۔ زندگی میں جتنے بھی ریڈ سگنل آتے ہیں، یہ سبھی عظیم ہستیوں کے راستے میں بھی آئے۔ انھوں نے ان ریڈ سگنلوں کو اہمیت نہیں دی۔ اگر آپ کے دماغ میں کوئی خیال ایسا آجائے جو ریڈ سگنل بننے کی کوشش کرے تو اس کو فورا نکال دیں کیو نکہ بعض اوقات خیال اتنی طاقت پکڑ جاتا ہے کہ وہ ہمیں زیر کر دیتا ہے۔ ہمیں زیر نہیں، زبر ہونا ہے۔ حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں، ’’اپنے دل کے دروازے پر دربان بن کر بیٹھو، سوچوکہ کیا آ رہا ہے اور کیا جا رہا ہے۔ دل میں رکھنے کے قابل ہے تو اس کو رکھو، اگر نہیں ہے تو اس کو نکال دو۔‘‘