ایک یونیورسٹی جہاں درس قرآن کی اجازت نہیں - حماد احمد

بی بی سی اردو پر سحر بلوچ نے قائداعظم یونیورسٹی میں دنگا فساد سے متعلق لکھا ہے، اور ان وجوہات کے بارے میں بتایا ہے جن کی وجہ سے یونیورسٹی ہر وقت حالت جنگ میں رہتی ہے۔ ان کے خیال میں اس کی بڑی وجہ یونیورسٹی میں موجود نسل پرستانہ طلبہ تنظیموں کا ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنا ہے۔ ان تنظیموں کا ہر وقت ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے کے ساتھ ان کی کچھ "اچھی" عادتوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ لکھا گیا ہے کہ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر فرحان صدیقی کا خیال ہے کہ لڑائی کسی بھی بات پر ہو اس کو خواہ مخواہ نسلی لڑائی کا رنگ دیا جاتا ہے۔ یہی پروفیسر صاحب ان شرپسند عناصر کی تعریف میں فرماتے ہیں کہ "باقی چیزوں پر تو مختلف سٹوڈنٹ کونسلز کی لڑائیاں ہوتی ہیں جو عام سی بات ہے، لیکن اچھی بات یہ ہے کہ جمعیت کی مخالفت میں یہ سب ایک ہوجاتے ہیں۔ جس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک دن اسلامی جمعیت طلبہ نے یونیورسٹی میں درس قرآن کا پروگرام بنایا تھا تو ان سٹوڈنٹس نے اس کو ناکام بنا دیا، اور جمعیت وہ درس قرآن نہ کر سکی"۔

کس قدر افسوسناک بات ہے اور کس قدر پستی کا مقام ہے ان لبرل اور غیر لبرل حاسدین جمعیت دانشوروں اور لکھاریوں کے لیے جو جامعہ پنجاب میں ہونے والی ہر غیر قانونی حرکت جمعیت کے کھاتے میں ڈالتے ہیں، سراسر جھوٹے الزامات لگاتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ جمعیت جامعہ پنجاب میں کسی اور طلبہ تنظیم کو برداشت نہیں کرتی، حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ جمعیت کے اکثر پروگرامات میں دیگر طلبہ تنظیموں کے طلبہ کو بھی شرکت کی باقاعدہ دعوت دی جاتی ہے اور وہ شرکت کرتے بھی ہیں۔ مگر یہاں قائداعظم یونیورسٹی میں ایک پروفیسر صاحب اس جرم کا اقرار کر رہے ہیں کہ جامعہ میں ان سے مختلف نظریہ رکھنے والے طلبہ کی آواز دبائی جاتی ہے۔ ان کو درس قرآن تک کی اجازت نہیں دی جاتی اور جامعہ کے کچھ پروفیسر حضرات یہ کام کچھ شرپسند عناصر سے لیتے ہیں۔ کسی بھی لبرل یا غیر لبرل حاسد جمعیت میں ذرا سی بھی وہ جمہوری غیرت ہی ہو جس کا وہ اکثر ذکر کرتے ہیں کہ شہریوں کو آزادی ملنی چاہیے وغیرہ، تو وہ اس پر کوئی تحریر نہ سہی کم از کم سوچے گا تو ضرور۔

جامعہ پنجاب میں پچھلے دنوں ایک ٹی وی چینل کے رپورٹر کو یونیورسٹی گارڈ نے ایک لڑکی کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں پکڑا تو اس کو منع کیا جس پر اس شخص نے گارڈ کے ساتھ بدتمیزی کی۔ یہ آپس کی گالم گلوچ جاری تھی کہ کچھ اور طلبہ وہاں جمع ہوگئے اور انہوں نے گارڈ کا ساتھ دے کر ٹی وی چینل کے رپورٹر کو زدوکوب کرنا شروع کیا، اسی دوران جمعیت کے کچھ لڑکے آئے اور ان لوگوں کے بیچ میں لڑائی ختم کروائی۔ ٹی وی چینل کا رپورٹر خود بتاتا رہا کہ اس سارے واقعے میں جمعیت ملوث نہیں ہے، مگر الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر موجود حاسدین جمعیت نے اپنا بغض اور اپنی نفرت باہر نکالنے میں ذرا دیر نہیں کی۔ اس کام میں ڈان ٹی وی کے جناب مبشر زیدی سب سے آگے رہے۔ بہرحال اس رپورٹر نے سامنے آ کر واضح الفاظ میں کہا کہ جمعیت کے لڑکوں نے ان پر کسی قسم کا تشدد نہیں کیا بلکہ جو لڑکے گارڈ کی حمایت میں ان پر تشدد کر رہے تھے، جمعیت نے ان سے بچایا۔

یہ بھی پڑھیں:   میرے ناظم، میرے محسن - سید وقاص جعفری

ایسے کئی سارے واقعات ہیں جس میں متاثر بھی جمعیت ہوتی ہے لیکن الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر موجود لبرل ، لادین اور نسل پرست حضرات اس کا الزام الٹا جمعیت کو دیتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک نسل پرست طلبہ تنظیم نے جمعیت طالبات پر حملہ کیا۔ اس فنکشن میں صرف جمعیت کی لڑکیاں ہی نہیں تھیں بلکہ دوسری عام لڑکیاں تھیں اور یہ سب کچھ بعد میں منظرعام پر آگیا، اس لڑائی کی ساری حقیقت اور تفصیل ان طالبات نے بتائی جن کا سرے سے جمعیت سے کبھی کوئی تعلق رہا ہی نہیں۔ اس میں بھی ARY کی ایک خاتون اینکر نے ایک ویڈیو بنا کر کہا کہ میں جامعہ پنجاب کی طالبہ ہوں اور جمعیت نے ایک لڑکے پر وہاں میرے سامنے تشدد کیا، حالانکہ جس لڑکے پر تشدد ہوا جس کا اس خاتون اینکر نے ذکر کیا، وہ خود جمعیت کا رفیق تھا جو نیشنلسٹ طلبہ کے تشدد کی وجہ سے کئی دن تک ہسپتال میں رہا۔

یہ ساری چیزیں دراصل شکست کی علامتیں ہیں، اسلام ازم کے ہاتھوں جاہلیت کی شکست، رائٹ کے ہاتھوں رانگ کی شکست، نظریہ اسلام کے ہاتھوں نظریہ جاہلیت کی شکست۔ یہی وجہ ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی میں تخریب کار عناصر کی صرف اس لیے پشت پناہی ہو رہی ہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ وہاں قرآن و سنت کی دعوت لے کر نہ آجائے۔ لیکن جمعیت سے تعلق رکھنے والے ہر ہر طالب علم کے سامنے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور وہ ساری تاریخ موجود ہوگی جب آپ علیہ السلام کو مکہ میں اسی نیشنلزم، اسی جاہلیت اور اسی لادینیت کا سامنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر طرح طرح کی پابندیاں لگائی گئیں، بائیکاٹ کیا گیا، آپ کو قرآن کی طرف لوگوں کو بلانے سے روکا جاتا رہا۔ لیکن صبر، برداشت اور ارادہ مصمم ہی تھا جس پر اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت فرمائی اور آپ کی ٹیم میں اسی جاہلی معاشرے سے سیدنا عمر، سیدنا بلال، اور سیدنا سلمان فارسی جیسے عظیم لوگ شامل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صبر کی انتہا تو دیکھیے کہ جب طائف کی وادیوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارے گئے اور زخمی حالت میں ایک مقام پر آرام کرنے بیٹھے تو خدا سے کہنے لگے کہ اے مالک تم نے یہ مجھے کن لوگوں کے حوالے کیا جو میری بات ہی نہیں سمجھ رہے۔
یعنی دیکھیے یہاں بھی یہ نہیں کہا جا رہا کہ یہ لوگ تو میری بات ہی نہیں مان رہے، فرما رہے ہیں کہ یہ تو میری بات ہی نہیں سمجھ رہے۔ یہ دراصل اپنے مخالفین کا ایک دن اپنے حامی ہونے کا یقین ہے کہ ضرور یہی لوگ ایک دن اسی قرآن و سنت کے قافلے کا حصہ ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   جیے ہزاروں سال جمعیت - نصراللہ گورایہ

سابق ناظم اعلی سید منور حسن کی وہ تقریر یقینا جمعیت کے ہر کارکن و رفیق نے سنی ہوگی کہ "یہ سارے طلبہ جو مختلف تنظیموں سے ہیں، یہ ایک دن جمعیت کا حصہ ہوں گے، ان کو دین کی طرف دعوت دو، یہ ہمارے ہی لوگ ہیں، میں بھی تو انھی میں سے تھا، پھر آپ کی دعوت مجھے آپ کے پاس کھینچ لائی"


جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا

جہاں سے چاہیں گےرستہ وہیں سے نکلے گا

وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دے

مجھے یقیں ہے چشمہ یہیں سے نکلے گا

شہید ڈاکٹر نذیر رح نے کیا خوب فرمایا کہ اسلامی انقلاب کے اس قافلے میں شریک ہو کر آگے کی طرف دوڑیں، اگر یہ ممکن نہ ہو تو تیز تیز چلیں، اگر چل نہیں سکتے تو رینگ کر چلیں اور اگر ایسا بھی ناممکن ہو تو اس قافلے کی گزر گاہ میں بیٹھیں اور قافلے کے لوگوں کو حوصلہ اور داد دیں۔ جمعیت یقینا سید مودودی کے نظریہ اسلامی انقلاب اور اس کی راہ میں تکالیف و مصائب پر صبر و برداشت کی نصیحت نہیں بھولے گی کہ یہ تو بس دیہاڑی کی مزدوری ہے، نتیجہ تو مالک نے دینا ہے، جمعیت کا کام تو محض اپنے مالک کی مزدوری ہے۔