طاقتوروں کا آسان ہدف صحافی ہی کیوں؟ طٰہٰ جلیل

دنیا بھر میں رونما ہونے والے واقعات کے پیچھے چھپے اور پوشیدہ سچ اور جھوٹ کو عام لوگوں تک پہنچانے کی ذمہ داری کا ٹھیکہ بظاہر طاقت ور دکھنے والا لیکن انتہائی کمزور طبقہ ’’صحافت‘‘ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھائے رکھتا ہے۔ صحافت کو کسی بھی ریاست کا چوتھا ستون سمجھا جاتا ہے، شاید اس لیے اس کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ ریاست کے اس ستون کو سہارا دینے کے لیے صحافی رضاکارانہ طور پر خود کو پیش کرتے ہیں اور وقت پڑنے پر ستون کے خمیر کو اپنے لہو کا ضائقہ بھی چکھاتے ہیں تاکہ اس کی مضبوطی اور بھی بڑھ جائے۔

اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جنگ کا ماحول ہو اور گولہ باری ، فائرنگ دو فریقوں کی جانب سے کی جارہی ہو، وہ لفظی ہو یا ہیوی مشینوں سے کسی محاذ پر ہو کچھ لوگ ایسے ماحول میں بھی کسی ہتھیار کے بغیر دونوں گروپوں کے درمیان موجود اپنے فرائض سر انجام دینے میں مصروف ہوتے ہیں۔ یقینا موت کا خوف ان کو بھی ہوتا ہے لیکن وہ بضد ہوتے ہیں کہ لوگوں تک آنکھوں دیکھی حقیقت صحیح طور پر پہنچائیں۔ کچھ فرض شناسوں کا یہ جنون زندگی کی آخری سانس پر ہی ختم ہوتا ہے، وہ چاہے ذمہ داری نبھاتے ہوئے ہی کیوں نہ رکے اور ایسے بے شمار مثالیں موجود ہیں۔

آزادی اظہار رائے اور صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم رپوٹرز ود آؤٹ بارڈر (آر ایس ایف) نے حال ہی میں اپنی رپورٹ جاری کی ہے جس میں 2018ء میں دنیا بھر میں قتل، اغوا، گمشدہ اور سزاء پانے والے صحافیوں کے حوالے سے اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں واضح درج کیا گیا ہے کہ سال 2017ء کی بہ نسبت 2018ء میں صحافیوں کے قتل میں 15 فیصد تک اضا فہ ہوا ہے اور یہ انتہائی قابل تشویش بات ہے۔

آر ایس ایف نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ 2018ء میں مختلف ممالک میں صحافتی ذمہ داری ادا کرنےوالے 49 صحافیوں کو مبینہ طور پر ان سے ناخوش لوگوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ایسے ہی اگر بات کی جائے تو 31 کے قریب جرنلسٹ اس وقت موت کی ابدی نیند سوگئے جب وہ مختلف مقامات پر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔ یہ تعداد مجموعی طور پر 80 بنتی ہے۔ ان میں پروفیشنل جرنلسٹ 63، صحافتی سرگرمیوں میں شامل افراد کی تعداد 13 جبکہ 4 ایسے افراد شامل ہیں جو کہ میڈیا ہاؤسز سے منسلک تھے۔ سال 2017ء میں مجموعی طور پر 55 ورکنگ جرنلسٹ قتل کیے گئے تھے جبکہ اس سال یہ تعداد بڑھ کر 63 تک جا پہنچی جو کہ گزشتہ سال کی نسبت 15 فیصد زیادہ ہے۔ سال 2018ء میں مختلف واقعات میں مارے گئے صحافیوں میں مردوں کی کل تعداد 77 جبکہ بےدردی سے قتل ہونے والوں میں 3 خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ تمام ہی حقیقت کی کھوج لگاتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوگئے یا کچھ کو ہمیشہ کے لیے محض اس لیے چپ کرا دیا گیا تاکہ کسی کی سیاست، کاروبار یا اس کی سلطنت کو کسی طرح کا نقصان نہیں پہنچے۔

صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک سمجھے جانے والے ممالک کی فہرست میں افغانستان، شام، میکسیکو، یمن اور بھارت کے بعد اس دفعہ امریکا نے بھی جگہ حاصل کرلی ہے۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ میکسیکو، بھارت اور امریکہ جنگ زدہ ممالک میں شامل نہیں ہیں، اس کے باجود ان ممالک میں مارے گئے صحافیوں کی تعداد کا شمار قابل مذمت اور افسوسناک ہے۔ صرف 2018ء کے دوران ہی افغانستان میں 15، شام میں 11، میکسیکو میں 9، یمن میں 8، بھارت میں 6 اور امریکہ میں بھی 6 صحافیوں کو سفاکیت سے قتل کیا گیا۔ مارے گئے صحافیوں میں 5 ایسے جرنلسٹ بھی شامل ہیں جن کو کسی خاص واقعے کی رپورٹ کے لیے دوسرے ممالک میں بھیجا گیا لیکن وہ اپنے آبائی علاقوں میں زندہ واپس نہیں آسکے۔ اسی طرح 3 ایسے صحافیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیاگیا جو کسی صحافتی ادارے سے منسلک ہوئے بغیر (فری لانسرز) لوگوں تک خبریں پہنچانے کا کام سرانجام دے رہے تھے۔

یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے صحافی جمال خاشقجی کو ترکی کے دارالحکومت استنبول میں واقع سعودی قونصلیٹ میں سفاکیت سے قتل کرکے ان کی لاش کے ٹکڑے کیے گئے۔ وہ 2 اکتوبر کو قونصلیٹ میں کاغذات کے معاملات نمٹانے کے لیے گئے تھے لیکن پھر زندہ باہر نہیں آئے۔ ترکی نے دعویٰ کیا تھا کہ مقتول کو قتل کرکے ان کے اعضاء کو بھی مبینہ طور پر تیزاب میں ڈال تحلیل کیا گیا۔ یہ معاملہ اس وقت انتہائی شدت اختیار کرگیا جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ریاض اس قتل میں ملوث پایا گیا تو ان کو سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے ۔لیکن حسب عادت ٹرمپ نے اپنے مؤقف سے کچھ ہی دنوں میں ’’یوٹرن‘‘ لیتے ہوئے ٹوئٹر پر بیان جاری کیا اور اس میں تیل کی قیمتیں کم کرنے پر سعودی حکام کی تعریفوں کے پل باندھے۔ یہ اس بات کا اشارہ سمجھا جا سکتا ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کرنے والے مقتول صحافی خاشقجی کے قاتلوں سے امریکا کو کتنی نفرت ہے اور وہ ان کے قتل کے اصل ذمہ دار ان کے انجام کے حوالے سے کتنے فکرمند ہیں۔ انھی دنوں خبر رساں ادارے اے ایف نے بھی ایک رپورٹ شائع کی جس میں بتایا گیا کہ امریکی تحقیقاتی ادارے سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے ) کو خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد مل چکے ہیں۔

دوسری جانب صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے سعودی عرب اور ترکی کے درمیان بھی تعلقات میں تلخی پیدا ہوگئی اور اب تک استنبول مسلسل مطالبہ کر رہا ہے کہ سعودی حکام قاتلوں کو ان کے حوالے کرے کیونکہ یہ قتل ترکی میں ہوا ہے، لہذا ہم خاشقجی کے قاتلوں کو انجام تک پہنچائیں گے۔ سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیری نے واضح کہا کہ اس قتل میں محمد بن سلمان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے، اور ہم اپنے شہریوں کو کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کریں گے، خود اپنے شہری کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے۔
سعودی حکام نے اب تک اس سلسلے میں قریب 21 لوگوں کو گرفتار کیا ہے جن میں سے کئی افراد کو عدالت میں بھی پیش کرکے مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ رواں ماہ 17 دسمبر کو امریکی سینیٹ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ سعودی ولی عہد صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ تاہم خاشقجی کے اصل قاتلوں کا اب تک کوئی پتہ نہیں ہے وہ کون ہیں اورکہاں ہیں؟

اسی طرح کچھ ممالک ایسے ہیں جہاں آزادی اظہار رائے کا حق چھیننے کی کوشش فرض سمجھ کر کی جاتی ہے اور صحافیوں کو حقیقت لوگوں تک پہنچانے کے جرم کی پاداش میں گھروں سے اٹھا کر جیلوں میں منتقل کردیا جاتا ہے۔ چین کو اس حوالے بہت مقبولیت حاصل ہے، ویسے تو یہ ملک اس وقت ابھرتی ہوئی تیز ترین معیشت کی وجہ سے دنیا میں سپر پاور بنتا جا رہا ہے لیکن یہاں صحافی ہرگز محفوظ نہیں ہیں۔ صرف 2018ء میں چین میں 60 جرنلسٹ جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دیے گئے۔ اسی طرح مصر میں 38، ترکی میں 33، ایران میں 28 اور سعودی عرب میں بھی 28 صحافیوں کو قید خانو ں میں ڈال دیا گیا، محض ان کا جرم سچ کا پرچار کرنا ہی تھا۔ مجموعی طور پر 2018ء میں دنیا بھر میں 348 صحافی عقوبت خانوں تک پہنچائے گئے۔ ان میں 179 پروفیشنل جرنلسٹ، 150 دیگر صحافی اور19 میڈیا ہاؤسز سے وابستہ افراد کے نام قیدیوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ ان میں مردوں کی کل تعداد 324 جب کہ خواتین قیدی صحافیوں کی تعداد 24 ہے۔

مشرقیٰ وسطیٰ دنیا کا وہ علاقہ ہے جہاں کے کئی ممالک گزشتہ کئی سالوں سے جنگوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان جنگوں کا احوال دنیا کو بتانے کے لیے کئی صحافی اپنی زندگیوں کو خطر ے میں ڈال کر ان علاقوں میں فرائض کی انجام دہی کے لیے جاتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کو کوئی خاص حفاظتی حصار فراہم نہیں کیا جاتا اور وہ مختلف حادثات میں یا تو مارے جاتے ہیں یا کوئی گروپ ان نہتے جرنلسٹس کو اغوا کرنے کو اپنی کامیابی تصور کرتے اور انھیں قیدی بنا لیتے ہیں۔ سال 2018ء میں مجموعی طور پر 60 میڈیا ورکرز کو اغواء کیا گیا کہ جن میں سے 59 کومڈل ایسٹ میں دہشت گرد گروہوں نے اغوا کیا۔ شام میں جاری خانہ جنگی کے واقعات لوگوں تک پہنچانے میں مصروف عمل 31 صحافیوں کو اغوا کیا گیا۔ اسی طرح جنگ زدہ ملک یمن سے 17 اور عراق سے 11 جبکہ ایک جرنلسٹ یوکرائن سے غائب کیا گیا۔ آر ایس ایف نے اپنی حالیہ رپورٹ میں درج کیا ہے کہ 2018ء میں 3 صحافیوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئیں اور یہ تعداد گزشتہ سال کے برابر رہی۔ 2017ء میں بنگلہ دیش اور پاکستان سے مجموعی طور پر 3 صحافی گمشدہ لوگوں کی فہرست میں تھے تاہم امسال 2 امریکی اور ایک روس سے تعلق رکھنے والا جرنلسٹ لاپتہ ہوا۔

پاکستان میں حالیہ دنوں میں ایک نجی ٹی وی کے کیمرہ مین پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کے گارڈ نے حملہ کیا اور اس کو زخمی کر دیا۔ طاقتور طبقہ ہر جگہ ہی سچ کو دبانے کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کرتا ہی رہتا۔ با اثر حکام کو چاہیے کہ ریاست کے اس چوتھے اور غیر مسلح ستون کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں تاکہ یہ ملکی ترقی میں اپنا کردار بخوبی انجام دے سکے۔ ورنہ یہ صدائے حق بلند کرنے والے مجنوں تو اپنافرض نبھاتے ہی رہیں گے اپنی تاریخ کی طرح ، چاہے ان کو حفاظتی حصار فراہم کیا جائے یا ان کی آواز کو دبانے کے لیے اقدامات اٹھائے جائیں۔