میرا بیگ جسے میں نہیں پھینکوں گا - ریحان خان

اب میرا بیگ قابل استعمال نہیں رہ گیا ہے۔ اس کی عمر مختصر ہے، لیکن وہ تمام ادوار اس نے دیکھے ہیں جو انسان اپنی زندگی میں دیکھتا ہے۔ یہ 2013ء میں لیپ ٹاپ کے ساتھ میرے پاس آیا تھا، اس کے بعد کئی سفر میں میرا رفیق رہا ہے۔ اس وقت یہ بالکل چکمدار تھا جس طرح نومولود بچے ہوتے ہیں، صاف و شفاف تھا جس طرح بچے معصوم ہوتے ہیں۔ پھر میری رفاقت نے اس پر بے شمار داغ ثبت کیے ہیں۔ یہ کسی اور کے پاس ہوتا تو اس کی کہانی دیگر ہوتی۔ اس کی دیکھ بھال کی جاتی اور صاف رکھا جاتا، لیکن میرے پاس آکر اس کا نصیب پھوٹ گیا تھا۔ شاید میری رفاقت کا ہی اثر ہے کہ اس سے میں نے اکثر سنہری نسوانی زلفیں پائی ہیں جو اس نے بسوں اور ٹرینوں میں چھو کر دیکھی تھی، اور میں محض تمنا کر کے رہ گیا تھا۔ یہ میری سیاہ کاریوں میں بھی شریک رہا ہے۔ میں اکثر اس میں سگریٹ لائٹر چھپا کر گھر گیا اور اس نے بخوبی اس کی حفاظت کی ہے۔ یہ میرے آنسوؤں کا بھی محرم ہے، اس میں سر چھپائے میں اکثر جی بھر کے رویا ہوں اور ان آنسوؤں کے لیے اس کا دامن کشادہ ہی رہا ہے، اس نے تمام آنسوؤں کو خود میں جذب کرلیا اور دنیا کو خبر تک نہ ہونے دی۔ یہ مسرتوں میں بھی میرے ساتھ رہا ہے، بیروزگاری و افلاس کے ایام میں اس نے میرا ساتھ نہیں چھوڑا اور کشادگی و فراوانی میں بھی میرے قریب رہا ہے۔ میں نے بہت سے بیگ استعمال کیے ہیں اور ناقابل استعمال رہ جانے کے بعد انہیں پھینک دیا ہے، لیکن اسے پھینکنے کا خیال بھی دل سے کوسوں دور ہے۔

اس سے طرح طرح کی یادیں اور مختلف شہروں کی کہانیاں وابستہ ہیں۔ پرانی دہلی میں اس پر نہاری کی پلیٹ الٹ کر اپنے انمٹ نقوش چھوڑ گئی تھی، پھر اس کے بعد بیگ میں نہاری کی بو بس گئی جو ایک عرصہ تک اس کے ساتھ رہی۔ اس کے بعد بیگ میں رکھی عطر کی شیشی پھوٹ گئی تھی۔ بلیو مون اور نہاری کی خوشبو کا ایک معطر امتزاج عرصہ میرے ذہن میں بسا رہا۔ وہ خوشبو بہت پیاری تھی۔ وہ خوشبو اوریجنل تھی اور دنیا میں میرے علاوہ شاید کسی اور نے وہ عرصہ تک وہ خوشبو نہیں سونگھی ہوگی الا ان کے جو مجھ سے ملے ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   موت: دائمی زندگی کی ابتداء - ابن بشیر

بھوپال میں ایک مشاق جیب کترے نے بڑی صفائی سے بیگ کے نچلے حصے میں بلیڈ مارا تھا لیکن اس کا وہ حملہ کامیاب نہیں ہوا۔ بیگ کے ساتھ واردات کا علم ہوتے ہی میں نے وقاص کو فون لگایا تو اس نے کہا کہ میں بھوپال میں نہیں ہوں، بقول آزاد ''کچھ اور ہی سمجھے تھے ہوا اور ہی کچھ ہے''۔

آگرہ کے لعل قلعہ میں یہ میرے ساتھ تھا لیکن تاج محل میں جانے سے قبل اسے ایک لاکر میں رکھنا پڑگیا تھا، جس کے بعد سے یہ مجھے روٹھ گیا تھا، شاید ناراض بھی تھا، اس لیے بیگ میں موجود آگرہ کے مشہور زمانہ 'پیٹھوں' کا بیکٹ پھٹ گیا اور اس کی شیرینی سے میرے تمام کپڑے خراب ہوگئے۔ جے پور میں یہ عجیب سا لہرا لہرا کر چل رہا تھا اور اس روز تو حیرت کی انتہا نہیں رہی، بیگ پر سیاہ، سرخی مائل اور سیاہی مائل تین زلفیں پائی گئیں۔ یہ کچھ چھچورا ہو چلا تھا اور سدھرنے کی حدود سے باہر نکل رہا تھا کہ اجمیر کا سفر درپیش ہوگیا، جہاں پہنچ کر ایک دن میں اس نے سلوک کی ساری حدود پار کر لیں اور اس کا مزاج صوفیانہ سا ہوگیا۔ اس کے بعد اس نے بارہا میرے کانوں میں "سب مایا ہے" کی سوگوشیاں کیں، جب یہ پکا ٹھکا واعظ بننے لگا تو عاجز آ کر اسے مایا نگری ممبئی لے آیا۔ سب مایا ہے سب مایا ہے کا ورد کرنے والے اس درویش نے جب مایا کو قریب سے دیکھا تو اس کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ پہلے یہ ایوریج چھچھورا تھا، ممبئی پہنچ کر شدید ترین چھچھورا ہوگا، طرہ یہ کہ ایک عرصہ تک اس میں منٹو کے افسانے موجود تھے، ظالم نے پڑھ ڈالے اور اکثر مجھے شرمندہ کرنے لگا۔ تب منٹو کو نکال کر اس میں غبار خاطر رکھی، کچھ افاقہ تو ضرور ہوا لیکن اس کی دقیق فلسفیانہ بحثوں میں اس انسان کی کیا دلچسپی ہوسکتی ہے جو سارا دن رپورٹرس کے 'استپال' کو 'اسپتال' اور 'ممبئی ہائیکورٹ' کو 'بامبے ہائیکورٹ' کرنے میں گزارتا ہے۔ پھر بھی میں اس سے کبھی کبھی گفتگو کرلیتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   بارش زندگی ہے - فاطمہ خان

خیال خاطر احباب چاہیے ہم دم

انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو

انیس کو صحیح معنوں میں آبگینے مل گئے ہوں گے، اگر ان کا پالا ایسے بدتمیز بیگ سے پڑتا تو ان سے ضرور پوچھتا کہ 'جناب والا! خیال خاطر احباب کس چڑیا کا نام ہے۔'
ایک روز اس نے بدتمیزی کی تمام حدود پار کر دی تھیں۔ اس سے اقصی بیچ لے جانے کی غلطی مجھ سے سرزد ہوگئی۔ پانی صاف تھا تو سمندر میں نہانے کا خیال آیا۔ تمام کپڑے اس کے سپرد کرتے ہوئے اسے ایک خشک سی جگہ پر رکھ دیا اور انڈروئیر میں پانی میں چلا گیا۔ نہانے کے دوران مجھے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب سورج مغرب کی جانب جھک گیا اور شام کے سبب پانی میں اضافہ ہونے لگا۔ لوٹ کر دیکھا تو وہ خشک جگہ زیر آب آگئی تھی جہاں بیگ کو رکھا گیا تھا۔ بیگ پانی میں تیر رہا تھا اور اس میں رکھے کپڑے، نقدی وغیرہ مکمل طور پر بھیگ چکے تھے۔ موبائل فون ایک پلاسٹک میں تھا چنانچہ وہ محفوظ رہا۔ اس کے علاوہ بیگ میں ڈھیر ساری ریت اسی طرح داخل ہوچکی تھی جس طرح رضائی یا مچھر دانی میں مچھر داخل ہوتے ہیں۔ شام ہوچلی تھی اس لیے بھیگے کپڑے سوکھنے کے امکانات نہیں تھے، مجبوراً اسی طرح پہننا پڑے، نتیجے کے طور پر دو دن جناتی چھینکوں کی نذر ہوگئے۔

اس کے بعد میں نے سزا کے طور پر اسے ساتھ رکھنا بند کر دیا تھا۔ گزشتہ دنوں گھر جانا ہوا تو امی نے مجھ سے پوچھے بغیر اسے دھو ڈالا جس سے نہاری کے تیل کا داغ، بلیو مون کی ملی جلی خوشبو اور اکسا بیچ کی ریت اس سے غائب ہو گئی اور یہ اجنبی سا ہوگیا اور خاموش خاموش سا رہنے لگا۔ شاید یہ تھک سا گیا ہے۔ میں نے اس کا استعمال ترک کردیا ہے لیکن میرے لیے یہ کسی بزرگ کی طرح ہے جو ریٹائرمنٹ کے بعد پرسکون زندگی بسر کر رہا ہو۔ میں اسے نہیں پھینکوں گا۔ یہ میرے ساتھ ہی رہے گا۔

ٹیگز