جنرل بپن راوت کی لن ترانیاں - عاصم رسول

معروضی تجزیہ ہمیں بتاتا ہے کہ بھارت کا کشمیر کے حوالے سے روزِ اول سے ہی منفی رویہ رہا ہے۔ گزشتہ ستر سال کی تاریخ شاہد عادل ہے کہ بھارت نے تنازعہ کشمیر کو کبھی افہام و تفہیم سے حل کرنے کی مثبت پہل کی نہ ایسی تجاویز پر غور کرنے کی زحمت گوارہ کی جو اس سلگتے مسئلے کو حل کرنے میں معاون بنتیں۔ اس ہٹ دھرمی اور ضد کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک بڑی آبادی مسلسل ایک کرب ناک صورتِ حال سے دوچار ہے اور کشمیری قوم خاک اور خون میں ہر روز لتھڑی جا رہی ہے۔ اس پر مستزاد ارباب حل و عقد اور فوجی سربراہان کی طرف سے ایسے بیانات متواتر اخبارات کی زینت بن رہے ہیں جو زخموں کا مرہم بننے کے بجائے اس آگ کو مزید بڑھکانے کا باعث بن رہے ہیں۔

حال ہی میں ایک ایسا ہی بیان بھارتی فوجی سربراہ بپن راوت نے دیا جو واضح طور اسی مائند سیٹ کی عکاسی کر رہا تھا جس پالیسی پر اب تک بھارت کشمیر کے حوالے سے گامزن ہے۔ جنرل صاحب اس طرح کے آتشیں بیانات کے لیے پہلے سے ہی مشہور ہیں۔ وقتاً فوقتاً موصوف ایسے تیز طرار پریس بیان دیتے ہیں جو طویل مدت تک سیاسی و عوامی حلقوں میں موضوعِ بحث رہتے ہیں۔چناں چہ اپنے تازہ بیان میں انہوں نے کہا کہ فوج کشمیر میں ڈرون حملے کرسکتی ہے۔ وادی میں جنگجوئیت کے مکمل خاتمے کے لیے اگر ممکن ہوا تو ڈرون حملے بعید از امکان نہیں۔ دہلی کے ’’institute of defence studies and analysis‘‘میں نویں چوہان یادگاری لیکچر کے دوران جنرل روات نے مزید کہا کہ’’کشمیر میں جنگجوؤں کے خلاف ڈرون طیاروں کی بمباری خارج امکان نہیں بلکہ ممکن ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ لوگ اجتماعی نقصان (collateral damage) کے لیے تیار ہوں‘‘۔

جنرل صاحب سے پوچھا جا سکتا ہے کہ جس اجتماعی نقصان کی وہ بات کر رہے ہیں، ۴۷ سے اب تک تو یہ قوم نقصان ہی اٹھا رہی ہے۔ لاکھوں معصوموں کو اب تک موت کی نیند سلا دیا گیا۔ ہزاروں گھروں کو بموں اور آتش گیر مادہ سے ملیا میٹ کیا گیا۔ لاکھوں بچوں کے سر وں سے والدوں کا سہارا چھین کر انہیں یتیمی کی دردناک زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا۔ تقریباً ۴۰ ہزار خواتین ہیں جن سے ان کے سرتاج جدا کیے گئے اور وہ بیوہ ہو کر در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہیں۔ غیر یقینی حالات کے چلتے اربوں اور کھربوں سرمایہ کا نقصان ہوا جس سے یہاں کی معیشت کی کمر ٹوٹ گئی۔ ۸ جولائی ۲۰۱۶ میں برہان وانی کی شہادت کے بعد جس طرح کے حالات یہاں بنے ان سے ہر شخص واقف ہے۔ خاص طور جنوبی کشمیر میں عسکریت کی ایک لہر چلی اور سینکڑوں نوجوانوں نے بندوق کو گلے لگایا۔ بھارت نے ان نو آموذ مقامی عسکریت پسندوں کے خلافــ’’ آپریشن آل آؤٹ‘‘ کرنے کی پالیسی بنائی۔ اور یہ آپریش نہایت بےرحمی سے جاری ہے۔ حالیہ رپور ٹ کے مطابق اس سال اب تک ۵۴۵ کے قریب ہلاکتیں ہوئی ہیں جو ۲۰۰۹ء کے بعد سے اب تک سب سے خونیں سال رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مہلوکین میں بڑی تعداد عسکریت پسندوں کی ہے جو ۲۴۰ کے آس پاس ہے جبکہ اسی مدت میں ۱۴۵ عام شہری اور ۱۴۲ فورسز اہلکار بھی مارے گئے۔ جان و مال کی بےپناہ بربادی کے بعد بھی جنرل صاحب کہہ رہے ہیں کہ لوگ اجتماعی نقصان کے تیار ہوں تو ڈرون حملے کیے جاسکتے ہیں۔ یا للعجب۔۔!!

یہ بھی پڑھیں:   امریکا نہیں روس جائیں - جاوید چوہدری

جنرل صاحب کی جانب سے ڈرون حملے کی جوازیت پر غور کیا جائے تو واجبی عقل رکھنے والا انسان بھی کہے گا کہ اس کا جواز نہیں بنتا۔ وادی میں ہندوستانی وردی پوشوں کا مقابلہ کسی باضابطہ منظم فوج سے نہیں۔ کشمیر کی حالیہ مسلح یورش ایک ردّ عمل کے طور پر وجود میں آئی ہے۔ ۲۰۰۸ء سے کشمیری قوم نے اپنے سیاسی حقوق کے حصول کے لیے پر امن راستے کا انتخاب کیا۔ یہی روش ۲۰۱۰ء اور پھر ۲۰۱۶ء میں رواں رکھی گئی۔ لاکھوں لوگ سڑکوں پر آگئے اور منظم اور بالکل پرامن طور ہندوستان اور اقوام عالم تک اپنی آواز پہنچائی۔ جگہ جگہ مظاہرے ہوئے۔ احتجاجوں کا سلسلہ چل پڑا۔ آزادی کے حق میں ریلیاں نکالی گئیں۔ یمین و یسار، شہر و دیہات سے لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر سڑکوں پر امڈ کر اپنے جذبات کا اظہار کرتا رہا۔ اس صورتِ حال کا تقاضا تھا کہ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچا جاتا اور کشمیری قوم کا جائز حق تسلیم کیا جاتا اور ایسے اقدامات اُٹھائے جاتے جن سے کشمیری عوام مطمئن ہوتے کہ ان کے ساتھ انصاف کا معاملہ کیا جارہا ہے۔ لیکن شومئی قسمت ہندوستان نے صلح سمجھوتے کے برعکس ڈنڈے اور زور زبردستی کی پالیسی اختیار کی جو بھارتی پالیسی کا اب تک corner stone رہا ہے۔ ظلم و جبر کی ایک الم ناک داستان رقم کی گئی۔ سینکڑوں جوانوں کے سینوں کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔ پر امن احتجاجی مظاہروں کو آہنی ہاتھوں سے دبوچ دیا گیا۔ ہزاروں آنسوں گیس کے گولوں اور پیپر شلوں سے آبادیوں کی آبادی کو دم بخود کیا گیا۔ مزید برآں پیلٹ گنوں کو کشمیر میں متعارف کیا گیا۔ جس پیلٹ گن کو ظالم اسرائیلی فوج نے بھی فلسطینیوں کے خلاف استعمال نہیں کیا، اسے دھڑلے سے ہندوستانی فورسزنے کشمیر میں نہتے لوگوں کو زیر کرنے کے لیے استعمال کیا۔ پیلٹ گن کی قہر سامانیوں سے ہزاروں نونہال آنکھوں کی بصار ت سے محروم ہوئے۔ ان جانکاہ واقعات نے کشمیر کے عام نوجوان کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی کہ انتہائی اقدام اور مسلح جدوجہد کے سوا اور کوئی جارہ نہیں ۔گویا ’’تنگ آمد بہ جنگ آمد‘‘ کے مصداق سرفروشانہ راستہ اختیار کرنا ہی مسئلے کا حل ہے۔

مقامی عسکریت پسندوں میں ایک بڑی تعداد اُن نوجوانوں کی بھی ہے جن کی زندگی کے حالات کی جب جانکاری حاصل کی گئی، جو مختلف اخبارات اور رسائل میں بھی شائع ہوئے، تو معلوم ہوا کہ انہیں اتنا تنگ طلب کیا جاتا اور بار بار پولیس تھانوں پر حاضری دینے کے لیے کہا جاتا۔ گویا ان کی زندگی اتنی اجیرن بنا دی گئی کہ انہوں نے ذلت کی اس زندگی سے شہادت کو گلے لگانے کو ترجیح دے دی۔ حالانکہ ارباب اقتدار اور فوجی سربراہان بار بار یہ بیانات جاری کر رہے ہیں کہ نارمل زندگی گزارنے والے کسی نوجوان کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔ رواں برس میں شہید کیے گئے عسکریت پسندوں میں بہت سے نوجوانوں کے حالات پڑھ کر معلوم ہوگا کہ مختلف طریقوں سے ان کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور نتیجتاً انہوں نے پُر خطر راستے کا انتخاب کیا۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ آخر ڈرون اور مہلک ہتھیاروں کے استعمال کرنے کی باتیں کشمیر کی عسکریت کو زیر کرنے کے لیے ہی کیوں کی جاتی ہیں، جب امر واقعہ یہ ہے کہ عملی طور پر کشمیر کی عسکریت فورسز کو قابلِ ذکر چلینج نہیں دے رہی، اس سال بڑی تعداد میں کمانڈروں کے علاوہ عساکر مارے جا چکے ہیں۔ جبکہ کشمیر سے باہر ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں عسکری جماعتیں متحرک ہیں اور بھارتی فورسز کو زبردست چلینچ دے رہی ہیں مگر فوجی سربرہان ان کے خلاف سخت باتیں اور ڈرون کے استعمال کی باتیں نہیں کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا بھارت انگلینڈ سے ہار جائے گا؟ محمد عامر خاکوانی

ہفت روزہ نوائے جہلم میں ریاض ملک صاحب نے ہندوستان میں ایکٹو مسلح تنظیموں کے حوالے سے ایک چشم کشا رپورٹ میں کہا کہ ’’اس وقت بھارت کی مختلف ریاستوں میں ۶۷ متحرک مسلح تحریکیں چل رہی ہیں۔ ان ریاستوں میں سیون سسٹرز کہلانے والی سات ریاستیں آسام، تری پورہ، اروناچل پردیش، میزورام، منی پور، میگھالیہ اور ناگالینڈ، باغی تحریکوں کا مرکز سمجھی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی بنگال، بہار، چھتیس گڑھ، اُڑیسہ، آندھرا پردیش، اتر پردیش، تلنگانہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا اور کئی دیگر ریاستیں بھی ایسی ہیں جہاں کسی نہ کسی وجہ سے مسلح تحریکیں زوروں پر ہیں۔ مجموعی طور پر عالمی میڈیا کے مطابق بھارت کے کل ۷۰۷ اضلاع میں سے ۲۲۰ اضلاع میں ایسی تحریکیں عروج پر ہیں اور کم از کم ۱۴۰ اضلاع میں نکسل، ناگا یا مائو نواز ملی ٹنٹوں کی رِٹ چلتی ہے۔ ۶۷ مسلح تحریکوں میں سے ۱۷ بڑی اور ۵۰ چھوٹی تحریکیں ہیں۔‘‘ (نوائے جہلم ، ۲۶ اکتوبر)۔ ریاض ملک صاحب نے درست کہا کہ آخر کشمیر ہی بھارت کا ملٹری فوکس کیوں ہے۔ اب اگر جنرل صاحب کشمیر میں ڈرون سے آگ برسانے کی بات کریں تو کہا جاسکتا ہے کہ کشمیر کو دوسرا عراق اور شام بنانے کی بات ہورہی ہے ۔ لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کشمیر میں آگ کے شعلے بڑھکانے سے ہندوستان بل کہ پورا برصغیر شعلوں کی نذر ہوجائے گا۔

بہرکیف اشتعال انگیزی سے مسائل سلجھنے کے بجائے الجھ جاتے ہیں ۔ ضرورت ہے نوجوانوں کو گلے لگانے اور تعمیری اقدامات اُٹھانے کی۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے حال ہی میں کرتار پور کاریڈور کھولنے پر بھارت کو بات چیت کی دعوت دی۔ بھارت کو بھی اس دعوت کا والہانہ اورمثبت جواب دینا چاہیے ۔تاہم جنرل راوت صاحب نے یہاں بھی خارجہ پالیسی میں مداخلت کرکے ، پاکستان کو سیکولر بننے کا راگ چھیڑ کر پورے اقوام عالم میں اپنی جگ ہنسائی کروائی۔ پاکستان اور ہندوستان کے بیچ دوستانہ تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ کشمیر کا لٹکتا مسئلہ ہے۔یقین کی سطح سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر منصفانہ اور پُر امن طور پر حل ہوگیا تو کشمیری عرصہ دراز کے بعد چین کی سانس تو لیں گے ہی ساتھ ہی دونوں ممالک تعمیر و ترقی کے نئے زینے طے کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ لہٰذا مرنے مارنے اور تباہی مچانے والے بیانات سے گریز کرکے امن ، پیار ،محبت اور آشتی کی قدروں کو فروغ دینے کی باتیں ہونی چاہییں۔