میاں جاوید نیب کے ظالمانہ اختیارات کا شکار - انصار عباسی

میاں جاوید ، نیب کے ظالمانہ اختیارات کا شکار ہوگئے ۔ اس طرح کی اموات کے ذمہ دار ملزمان کا میڈیا ٹرائل کرنے والے ادارے ہیں۔ ماہر تعلیم میاں جاوید کو نیب لاہور نے رواں برس 9اکتوبر کو گرفتار کیا تھا۔ ان کا انتقال گزشتہ روز پولیس حراست میں ہوا۔ موت واقع ہونے کے بعد کی تصویر سے واضح ہے کہ انہیں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ وہ ان ملزمان میں سے ایک تھے جنہیں دوران انکوائری گرفتار کیا گیا۔نیب کی جانب سے میڈیا میں بڑے پیمانے پر ان پر لگائے گئے الزامات کی تشہیر سے ان کی ساکھ بری طرح متاثر ہوئی تھی۔ ان کے خلاف کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا گیا لیکن ان کی موت کے بعد بھی ان کی تذلیل کی گئی۔

میاں جاوید نیب کے ظالمانہ اختیارات کا نشانہ بنے۔جس کا گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بڑے پیمانے پر غلط استعمال کیا گیا، یہاں تک کے اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے نیب کے طریقہ کار پر سخت تحفظات کے باوجود وہ منظم نہیں ہوا۔گزشتہ ماہ بھی بہاول نگر کے ضلعی اکائونٹس افسر ، جنہیں نیب نے رواں برس جون میں گرفتار کیا تھا کیوں کہ گھوسٹ ماہرین تعلیم کی تنخواہوں کی ادائیگی کے سبب ان پر کمزور نگرانی کا الزام تھا، وہ بھی دوران حراست انتقال کرگئے تھے۔انہوں نے اپنی گرتی صحت کی بنیاد پر ضمانت کی درخواست کی تھی جسے مسترد کردیا گیا تھا۔یہاں تک کے جب انہیں گرفتار کیا جارہا تھا تو وہ اسپتال میں زیر علاج تھے۔اس کیس میں بھی مذکورہ افسر جیل میں انتقال کرگئے تھے ، جب کہ ان کے خلاف کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا گیا تھا۔نیب ملزم جو کہ فی الحال جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں ۔ان کے خاندانی ذرائع نے جب میاں جاوید کی دوران حراست موت کی خبر سنی تو جمعے کے روز دی نیوز سے رابطہ کیا ، انہیں ملزم (اپنے رشتہ دار)کے حوالے سے سخت تشویش ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ وہ بھی امراض قلب میں مبتلا ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ ملزم نے انہیں بتایا تھا کہ وہ امراض قلب میں مبتلا ہیں اور جیل میں انہیں اپنا زیادہ خیال رکھنا پڑتا ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ ایمرجنسی کی صورت میں بھی جیل قوانین کے مطابق طبی امداد ملنے میں تقریباًایک گھنٹہ لگتا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ میاں جاوید جیل میں نیب بیرک میں تھے۔ان کا کہنا تھا کہ مجھے جیل میں موجود دیگر افراد سے متعلق سخت تشویش ہے ، جس میں میرے رشتہ دار بھی شامل ہیں جو کہ اس معاملے پر سخت پریشان ہیں اور ان کی پریشانی دور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا اس طرح کی اموات کے ذمہ دار ملزمان کا میڈیا ٹرائل کرنے والے ادارے ہیں۔میاں جاوید کی موت سے کچھ بنیادی سوالات اٹھے ہیں کہ آخر کب تک نیب ، کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال کے نام پر لوگوں کی زندگی، عزت اور خودمختاری سے کھیلتا رہے گا؟ نیب کی جانب سے اپنی مرضی کے کسی بھی شخص کو گرفتار کرنے کے بےجا اختیارات ، جس میں صرف الزام کی بنیاد پر بغیر کسی ثبوت کے کسی بھی شخص کو گرفتار کرنے کے اختیارات بھی شامل ہیں ۔ان اختیارات نے نیب کو ایک ظالم ادارہ بنادیا ہے۔

بدقسمتی سے نیب کو یہ اختیارات تفویض کیے جانے کے بعد اس پر کوئی چیک نہیں رکھا گیا۔اس معاملے پر پشیمان ہونے کے بجائے ، نیب نے کہا کہ میاں جاوید کیمپ جیل لاہور میں متعلقہ احتساب عدالت کے احکامات پر اکتوبر،2018سے جوڈ یشل حراست میں تھے۔نیب کی وضاحت میں اس حقیقت کو نظر انداز کیا گیا ہے کہ متوفی کو نیب نے گرفتار کیا تھا۔نیب نے 8اکتوبر کو سرگودھا یونی ورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری، یونی ورسٹی کے سابق رجسٹرار بریگیڈیئر ریٹائرڈ رائو جمیل اصغر، ضمنی کیمپس لاہور کے سی ای او میاں جاوید، ضمنی کیمپس لاہور کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن محمد اکرم، ضمنی کیمپس منڈی بہائوالدین کے سی ای او وارث ندیم اور ان کے شراکت دار نعیم مختار کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پالیسی کے تحت سرگودھا یونی ورسٹی کے مبینہ طور پر غیر قانونی ضمنی کیمپسز کی تعمیر کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔نیب نے انہیں نجی ضمنی کیمپسز کے حوالے سے بیان ریکارڈ کرنے کے لیے طلب کیا تھا لیکن ان سب کو نیب لاہور کے دفتر سے گرفتار کرلیا گیا۔