کچھ باتیں پرانے لوگوں کی جو ہم بھول گئے - ہنادی ایمان

لیں جی ! سردی اپنے عروج پر پہنچ رہی ہے پتہ چل گیا فیس بک ، ایس ایم ایس ، واٹس ایپ سردی بیماری اور صحت کی دعا کی التجاؤں والی پوسٹ سے بھر گئے۔ کسی کا بچہ بیمار ہے کسی کے بڑے، کوئی خود۔

دراصل آج کل موسم کی تبدیلی کو ہلکا لینا ہمارا معمول بن چکا ہے اور ہلکی سردی کو انجوائے کرنے کی ریت ہر بار اپنا رنگ خوب گہرا دکھاتی ہے اور یونہی دکھاتی ہے کہ لگتا ہے آدھا کراچی اور پورا لاہور ہسپتالوں کے چکر لگا رہا ہے ۔ ہسپتالوں کے آؤٹ ڈونرز اور ایمرجنسی میں لوگوں کا رش امڈ آتا ہے۔ میڈیا بھی ڈینگی کی طرح کبھی بر وقت ، ذمہ داری سے موسم سرما کی احتیاطی تدابیر بتانے ان کی یاددہانی کرانے سے قاصر رہتا ہے۔

بہر حال۔۔!!! کچھ باتیں ہیں، پرانے لوگوں کی جو ہم بھول گئے ، زرا دیر کو دہرا لینی چاہییں۔

پرانے لوگ کہا کرتے تھے "سردی دو منہ والا سانپ ہے" یعنی سردی کا درمیانی اور شدت کی سردی والا عرصہ اتنا خطرناک نہیں لیکن آتی سردی اور جاتی سردی دونوں انتہائی خطرناک ہیں۔ یہ انتہائی جان لیوا بھی ہو سکتی ، اس کو ہر گز ہلکا نہ لیں اور روائتی طرز پر انجوائے کرنے کی گستاخی نہ کریں۔ انجوائے منٹ کو اسکی حد میں رکھیں۔ لباس پورا مکمل گرم پہنیں ، چاہے آفس اور سکول میں گرمی بھی ہو ہیٹر بھی ہو تب بھی راستے میں ، گھر سے نکلتے ہوئے ، کسی کام سے گیٹ یا گیرج یا لان تک جاتے ہوئے بھی سر ، کان ، گردن ڈھک کر لپیٹ کر جائیں۔ خصوصاً سینہ بالکل کھلا نہ چھوڑیں، بچے عموماً جوتا پہننے میں بہت لاپرواہی کرتے ہیں ان کو گرم جرابیں اور بند جوتے پہنائیں اور جوتے ایسے بند کہ بچہ آرام سے اتار نہ سکے۔ چپل پہ ہر گز اعتبار نہ کریں۔ بچے کھلا جوتا کبھی زیادہ دیر پیر میں نہیں رکھ سکتے ۔ پیروں کا بھی گرم رہنا بہت ضروری ہے ۔بچوں کے کھیلنے کے لئیے قالین پر جگہ بنائیں ، انکو ہر گز ننگے فرش پر کھیلنے ، بیٹھنے یا لیٹنے نہ دیں۔ باہر ننگے پیر اور ننگے سر لان میں بھی نکلنے نہ دیں۔کچھ مائیں ایسی ٹوپی پہناتے ہیں کہ بچے کی گردن اور کان کھلے رہتے ہیں یہ انتہائی لاپرواہی کی حرکت ہے ۔کپڑوں کے نیچے گرم پاجامے ، گرم ہائی نیک پہننے کی بچوں کو عادت ڈالیں خود بھی لازمی پہنیں، عموماً ہائی سکول اور کالج کے لڑکے ایسے موسم میں گرم کپڑے نہیں پہنتےاور اس بیوقوفانہ حرکت کو اپنی بہادری اور بہت بڑا فخر بھی سمجھتے ہیں ، ان لڑکوں کے لئیے خصوصاً تربیتی نشست اس حوالے سے رکھنی چاہیے ۔

اس کے علاوہ اپنی اور بچوں کی ہلکی یا خشک کھانسی اور گلے کی خراش کبھی نظر انداز نہ کریں۔ فوراً گرم دودھ میں ہلدی ابال کر دن میں تین بار پینا شروع کریں۔ لیکن چھوٹے بچوں اور بہت بوڑھے کمزوروں والے گھروں میں تو گلے کی خراش یا کھانسی شروع ہونے کا انتظار ہی نہ کیا کریں بلکہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی نومبر / اکتوبر میں دودھ ہلدی شروع کر دینا چاہیے۔

ریشو : ایک کپ دودھ میں صرف ایک چوتھائی ٹی سپون ہلدی ابالیں۔ حسب ذائقہ میٹھا بھی ڈال سکتے ہیں۔ ہلدی ایک نیچرل اینٹی بائیوٹک herb ہے۔ اس کے اور بھی بہت فائدے ہیں۔ ضرور استعمال میں رہنی چاہئیے ۔ کھانسی کی شدت کے ساتھ اپ ہلدی کی مقدار بھی بڑھا سکتے ہیں، لیکن ایک کپ میں ایک ٹی سپون سے زیادہ نہ ڈالیں، اور ہائی بلڈ پریشر کے مریض کو بھی ہلدی محتاط انداز میں دیں۔ ہلدی کا بے تحاشا استعمال بھی نقصان کا باعث ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ نزلہ زکام کے لئیے دن میں تین بار یہ قہوہ پئیں۔ قہوے کے چار اجزا یہ ہیں۔
دو عدد سبز چھوٹی الائچی، ایک عدد کالی موٹی الائچی، ایک انچ دار چینی کا ٹکڑا، اور سونف ایک ٹی سپون۔

یہ چار اجزا دو کپ پانی میں اتنا بالیں کی پانی آدھا رہ جائے تو پی لیں۔ اس میں بھی حسب ذائقہ میٹھا ڈالا جا سکتا ہے ۔اور جلد آرام بھی آئے گا ۔ آزمودہ نسخے ہیں۔ اس پر ہر سال بہت اچھی دوست عصمت اسامہ حامدی بہن کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنھوں نے انتہائی خلوص سے راہنمائی کی اور میرا ایک دو ماہ نہ ٹھیک ہونے والے نزلہ زکام کا فوری معالج قہوہ بتایا اور اللہ نے شفا عاجلہ عطا کی۔ اپ بھی آزمائیں، ان شاءاللہ مہنگے ڈاکٹری نسخوں ، ہسپتالوں کے رش اور چکر اور بھاری فیسوں کی ادائیگی سے بچ جائیں گے۔ اللہ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ دعاؤں میں یاد رکھیں۔