محرومی صرف وعدوں سے دور نہیں ہوتی - محمد عامر خاکوانی

پاکستان میں مختلف حوالوں سے وسائل سے محرومی اور اس حوالے سے لوگوں میں پائی جانے والی فرسٹریشن کی سطح بہت بلند ہے۔ جس کسی سے بات ہو، اس کے پاس ایک ایسی دردناک کہانی ملے گی، جسے سن کر دل دکھ سے پھٹنے لگے۔ اخبارنویسوں کا مختلف علاقوں کے قارئین سے رابطہ رہتا ہے، وہ اپنے دکھ درد شیئر کرتے رہتے ہیں، اس امید پر کہ شاید کہیں شنوائی ہوجائے۔ ادھر ہمارا وہ حال ہوچکا کہ بقول شاعر
ایک روز کا رونا ہو تو رو کے چین آوے
ہر روز کے رونے کو کہاں سے جگر آوے

سرائیکی وسیب کے رہنے والوں کا یہ مسئلہ بھی ہے کہ مین سٹریم میڈیا میں سرائیکی زیادہ نہیں۔ جو چند ایک لکھنے یا پروگرام کرنے والے ہیں، ان سے توقعات وابستہ ہوجاتی ہیں۔ مین سٹریم میڈیا میں قومی ایشوز سرفہرست رہتے ہیں، علاقائی مسائل پر بہت زیادہ نہیں لکھا جا سکتا۔ اس لیے جب ایسا کیا جائے تو قارئین کو اسے سمجھنا اور اس حوالے سے رعایت دینی چاہیے۔ اپنی دھرتی کا قرض تو کبھی نہیں اتار سکتے، وہاں کے مسائل لاہور، اسلام آباد کے ارباب اقتدار تک تحریر کے ذریعے پہنچانے کا کام ہی کر پاتے ہیں۔ میرے ساتھ اکثر ایسا ہوا کہ جب کبھی سرائیکی علاقوں کے مسائل پر لکھا، بہت سے دوسرے پسماندہ علاقوں کے مکینوں نے ای میلز اور فیس بک میسج کے ذریعے اپنے مقامی مسائل سے آگاہ کیا، تب دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جو حکمرانوں کی توجہ کے لیے ترس رہے ہیں۔

ایسے علاقوں میں سے ایک فاٹا بھی ہے۔ فاٹا کے قبائلی علاقوں کی اب پہلے جیسی حیثیت نہیں، وہ خیبر پختون خوا میں ضم ہوچکے ہیں، تکنیکی طور پر اب شاید انہیں فاٹا کہنا بھی درست نہیں، مگر صوبے میں شامل ہونے کے باوجود وہاں کے عوام بے پناہ مسائل اور مشکلات کا شکار ہیں۔ جن قبائلی ایجنسیوں میں میں آپریشن ہوا، ان کے مسائل زیادہ گمبھیر اور گنجلک ہیں۔ وزیرستان خاص کر شمالی وزیرستان زیادہ متاثر ہوا کہ وہاں آپریشن طول کھینچ گیا اور سخت مزاحمت کے باعث مقامی آبادی کے گھر، دکانیں وغیرہ بھی تباہ ہوئیں۔ تین مسائل زیادہ سنگین ہیں، مسنگ پرسنز کا ایشو، تباہ شدہ عمارتوں کی زرتلافی، علاقے میں دفن بارودی سرنگیں جن کا نشانہ آئے روز کوئی نہ کوئی بچہ بن رہا ہے اور وہاں موجود چیک پوسٹوں کی تعداد میں کمی۔ عسکری قیادت نے اس حوالے سے خاصا کچھ کیا ہے اور کئی جگہوں پر بہتری آئی۔ اس بارے میں ابھی بہت کچھ ہونا باقی ہے۔ دراصل خیبر پختون خوا میں ہونے والے آپریشنز کے بعد سول انتظامیہ نے اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ وزیرستان ایجنسیوں میں بھی سول حکومت کو اپنی پوری توجہ مرکوز کر کے لوگوں کے مسائل حل کرنا ہوں گے، ورنہ مقامی سطح پر تلخی اور کشیدگی کی جو لہر موجود ہے، اس میں اضافہ ہی ہوگا۔ پختون تحفظ موومنٹ کے لیڈروں کو بھی تدبر اور دانشمندی سے کام لینا ہوگا، سرخ لکیر عبور کرنے سے ہرحالت میں گریز کریں، جبکہ ان کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ ستم رسیدہ قبائلی عوام کے دکھ درد ترجیحی بنیادوں پر بانٹنے چاہییں۔

اندرون سندھ کے بارے میں چینلز اور اخبارات میں جو بھی رپورٹس آتی ہیں، انہیں دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ سندھی عوام پچھلے چار عشروں سے بھٹو خاندان سے محبت کا دم بھر رہی ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی اور ان کے سفاکانہ قتل کے بعد ان کی قبر سے سندھی وفاداری نبھا رہے ہیں۔ اپنی شہید رانی کا نام لینے والی پارٹی کو وہ ہر بار ووٹ ڈالتے ہیں، مگر پیپلزپارٹی اور ان کی موجودہ قیادت نے اس کا بدترین صلہ دیا ہے۔ ہر سال سندھ کا کئی سو ارب کا بجٹ جانے کہاں اڑا دیا جاتا ہے، غریب سندھی بےچارہ آج بھی پہلے کی طرح تباہ حال اور تنگ دست ہے۔ تھر کے مظلوم عوام کے ساتھ جو ہو رہا ہے، اسے محسوس کر کے آدمی کانپ جاتا ہے۔ افسوس کہ سندھ کی صوبائی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔ آصف زرداری نے بھٹو کی پارٹی کے ساتھ بھٹو سے محبت کرنے والے سندھیوں کو بھی بری طرح مایوس کیا۔ زرداری صاحب کی شخصیت پر غورکریں تو شدید حیرت ہوتی ہے کہ آخر پیسے کی ہوس انسان کو کہاں تک لے جا سکتی ہے؟ قدرت کسی کو پوری طرح عیاں کیے بغیر اپنا حساب کتاب نہیں سمیٹتی۔ یہ بات سچ ثابت ہو رہی ہے۔لگتا ہے زرداری صاحب اس بار قدرت کی پکڑ میں آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ: میٹر رِیڈر سے رکن پارلیمان تک

رضا ربانی اور قمر زماں کائرہ جیسے لوگوں پر افسوس ہوتا ہے جب انہیں اپنے پارٹی لیڈر کے کرتوتوں کا دفاع کرنا پڑتا ہے۔ جناب رضا ربانی جن کی آنکھوں میں فوجی عدالتوں کے بل پر دستخط کرتے ہوئے آنسو آ گئے تھے، نجانے سندھ میں ہونے والی بے پناہ کرپشن پر ان کی آنکھیں بند کیسے ہیں؟ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہمارے بعض صحافی اور غیر صحافی دوست بھی زرداری صاحب کی حمایت میں آواز بلند کر رہے ہیں۔ ان لوگوں پر مجھے ہمیشہ حیرت ہوئی جو خود کرپٹ نہیں، مگر صرف کسی سیاسی، لسانی، برادری کی وابستگی کی بنا پر کرپٹ لوگوں کا دفاع کرتے ہیں۔ آخر کیوں؟ جو شخص اس کرپشن کا حصہ ہو، کرپٹ نظام کے ثمرات سمیٹ رہا ہو، اس کی ہمدردی اور حمایت تو سمجھ میں آتی ہے۔ عام آدمی کو تو ہمیشہ کرپشن کے مخالف کھڑا ہونا چاہیے۔ یہ یاد رکھیں کہ کرپشن کا سب سے زیادہ نقصان عام آدمی ہی کو پہنچے گا کہ سسٹم مضبوط نہیں ہو پاتا اور اس کا استحصال جاری رہتا ہے۔

زرداری صاحب اور پیپلزپارٹی کی حکومت سے یہ گلہ بھی ہے کہ کراچی جیسا جگمگاتا شہر انھوں نے تباہ کر دیا۔ پچھلے دس گیارہ برس سے انھی کی حکومت ہے اور کراچی شہر قومی تاریخ میں پہلی بار ایسا اجاڑ، گندا اور تباہ حال نظر آ رہا ہے۔ افسوس کہ پیپلزپارٹی کی قیادت کراچی میں مقیم تو رہی، مگر انہوں نے اس شہر کو اپنا نہ سمجھا۔ کراچی کے دکھ درد ابھی ختم نہیں ہوئے۔ اس بار انہوں نے تحریک انصاف کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے، لیکن مرکز میں حکمران بننے کے باوجود ابھی تک وزیراعظم عمران خان کراچی کے لیے کسی بڑے پیکیج کا اعلان نہیں کر سکے۔ شہر کے مسائل ویسے ہیں، لوگ بدستور تباہ حال اور ان کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ خان صاحب کو شاید اندازہ نہیں کہ جس والہانہ انداز سے انہیں کراچی والوں کا پیار ملا، اگر توقعات پر پورا نہ اترے تو ناراضی اور غصہ بھی اتنا ہی شدید ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   بلوچستان کے نوجوان اب بھی لائبریری کے لیے کوشاں ہیں - گہرام اسلم بلوچ

سرائیکی وسیب کی بات کیے بغیر کالم مکمل نہیں ہوسکتا۔ یہ حقیقت ہے کہ جنوبی پنجاب کے مسائل شاید ملک بھر سب سے شدید ہیں۔ سرائیکی ایسے بدنصیب ہیں کہ جن لوگوں کو وہ منتخب کرتے ہیں، وہ جیتنے کے بعد بےحسی، سردمہری اور نالائقی کی ایسی چادر اوڑھ لیتے ہیں جو اگلے الیکشن سے پہلے ہی اتر پاتی ہے۔ تب اپنی بدترین کارکردگی کی تلافی وہ ہاتھ جوڑ، معافیاں مانگ اور نئے دل خوش کن وعدوں سے کرتے ہیں۔ بھولے بھالے سرائیکی ہر بار دھوکہ کھا بیٹھتے ہیں۔ پچھلے تین عشروں میں وہ ہمیشہ پیپلزپارٹی پر اعتماد کرتے رہے اور ہر بار مایوسی مقدر بنی۔ 2013ء کے انتخابات میں انہوں نے ن لیگ کو مینڈیٹ دیا۔ الیکشن سے پہلے شریف برادران نے جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ الیکشن جیتنے کے بعد یہ مطالبہ سرے سے بھول گئے۔ پھر علیحدہ سیکریٹریٹ کا وعدہ کیا اور اسے بھی پورا نہیں کیا۔ شہباز شریف کا دور اس لحاظ سے سرائیکی وسیب کے لیے زیادہ تباہ کن اور برا تھا کہ انہوں نے چند ایک نمائشی کام کیے، نقصان زیادہ کر ڈالا۔ ملتان میں اربوں روپے خرچ کر کے بیکار میٹرو بس سروس شروع کی جو بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ ملتان میں نیا ہسپتال اور میڈیکل کالج بنانے کی اشد ضرورت ہے، وہ نہ کیا گیا۔ جنوبی پنجاب کے لیے مختص ترقیاتی بجٹ لاہور لے آئے، اگلے سال کے بجٹ سے ایڈوانس خرچ کر لیا اور سرائیکی علاقوں کے ادھورے پراجیکٹ ویسے کے ویسے کھڑے ہیں۔

تحریک انصاف نے علیحدہ صوبہ بنانے کا وعدہ کر کے مینڈیٹ لیا۔ اس حوالے سے ٹھوس پیش رفت نہیں ہو رہی۔ صوبہ بنانے میں اگر کچھ مسائل ہیں تو ملتان میں الگ سیکرٹریٹ تو بنا دیں، اس میں تاخیر کیوں؟ جنوبی پنجاب میں احمد پورشرقیہ، خان پور، جام پور، چشتیاں، تونسہ جیسے علاقوں کو ضلع کا درجہ کیوں نہیں دیا جا رہا؟ اس میں کتنا خرچ آ جائے گا؟ چلیں اگر کہیں پر فوری ممکن نہیں تو اعلان کر دیا جائے، چند ماہ بعد اگلے بجٹ میں اسے ضلع بنا دیں۔ تھل ڈویژن کے دیرینہ اور جائز مطالبے پر عمل درآمد کیوں ممکن نہیں؟ گزشتہ روز پنجاب کے میڈیکل کالجوں کی فہرست دیکھ رہا تھا، سترہ میڈیکل کالجوں میں سے چھ لاہور میں ہیں، حیران کن طور پر تین گوجرانوالہ ڈویژن (گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات) میں ہیں۔ یعنی لاہور اور گوجرانوالہ میں نو میڈیکل کالج موجود ہیں۔ اس کے برعکس لاہور گوجرانوالہ سے چار پانچ گنا بڑے جنوبی پنجاب میں صرف چار(ملتان، بہاولپور، رحیم یارخان، ڈی جی خان) میڈیکل کالج ہیں۔ اسے کیا کہا جائے؟ اس کے ذمہ دار شہباز شریف ہیں جو پچھلے دس برس پنجاب کے طاقتور ترین وزیراعلیٰ رہے۔ تحریک انصاف مگر اس حوالے سے تلافی کا کیا منصوبہ بنائے ہوئے ہے؟ وزیراعظم عمران خان اور ان کے پسندیدہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے پاس کچھ ہے تو اسے سامنے لے آئیں۔ محرومی صرف وعدے کرنے سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے دور ہوسکتی ہے۔ کپتان کو یہ بات جتنا جلد سمجھ آ جائے، اتنا ہی ان کے لیے مفید رہے گا۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.