میرے ناظم، میرے محسن - سید وقاص جعفری

میرے ایک عزیز دوست انسانوں کو دو اقسام میں شمار کرتے ہیں۔ مالی اور لکڑہارے، ان کے نزدیک کچھ لوگ طبعاً مالی ہوتے ہیں جن کے مزاج میں سلیقہ، ترتیب، نفاست، بدرجۂ اتم پائی جاتی ہے، اس کے مقابلے میں لکڑہارا، اس کیفیت کا نام ہے جس میں ایک فوری اور وقتی ضرورت کے تحت کوئی کام انجام دیا جاتا ہے۔ آؤ دیکھا نہ تاؤ، معصوم شاخوں اور گھنے درختوں سے ان کے وجود چھین لیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق مالی صفّت لوگ کسی بھی زندہ معاشرے کی پہچان ہوتے ہیں۔ یہ زمین کا نمک اور پہاڑی کا چراغ ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی تو اُن کی محنت، ان کی زندگی کے بعد پھل پھول دیتی ہے، اکثر ان کی مشقّت کا سرمایہ کسی اور کی ہتھیلی کا چراغ بن کر نمودار ہوتا ہے اور اس سے بھی زیادہ یہ کہ مالیوں (gardeners) کی صفاّت رکھنے والے انسان بہت کم معاوضے پر شادابی، زرخیزی، حسن، لطافت کی دولت دوسروں کو سونپ دیتے ہیں اور اپنے حصّہ میں قناعت کو پاکر شاد آباد رہتے ہیں۔ بہت قدیم کہانی ہے کہ ایک ضعیف شخص سے کسی نوجوان نے سوال کیا کہ اپنی آخری عمر میں تم جو درخت لگا رہے ہو، کیا اس کے پھلدار ہونے کے متعلق تمہیں یقین ہے؟ اس نے جواب دیا کہ ہمارے پُرکھوں نے درخت لگائے جس کا پھل ہم نے کھایا۔ میں نہ سہی میری اگلی نسل تو اس سے ضرور فائدہ اٹھائے گی۔

اسلامی جمیعت طلبہ میں گزارے گئے لمحات میں سے یہ جاننے کی کوشش کرنا کہ کون سا وقت اور لمحہ سب سے قیمتی تھا، شاید ایک ناآسودہ مشق (futile exercise) ہوگی کہ اس اجتماعیت کا ایک ایک پل یادگار، خوبصورت اور کارآمد ہوتا ہے۔ مگر وہ وقت بلاشبہ سب سے قیمتی ہوتا ہے جس لمحے آپ کو اپنی اہمیت کا احساس دلا دیا جائے، کچھ لوگوں کے نزدیک آپ اہم ہوجائیں اور کوئی آپ کو تقوی، تجربہ، علمیّت کی مار دینے کے بجائے آپ کے وجود کا حصہ بن کر آپ کو غیر محسوس انداز میں ایک ایسے سفر پر لے جائے جس کا نشّہ عمر گزرنے کے بعد بھی اترنے نہ پائے۔ یہ لوگ نہ منبر و محراب کے شعلہ بیان مقرر تھے، نہ ہی عقل و دانش کے ’بزر جمہر‘ نہ انہوں نے اپنے خاندانی اور معاشی پس منظر سے ہمیں مرعوب کرنے کی کوشش کی نہ ہی چھوٹے، بڑے منصب کا رعب جمایا۔ ہم اپنی زندگی میں اس لفظ ’ناظم‘ سے ایسے وابستہ ہوئے کہ آج بصارت میں کمی اور بالوں میں سفیدی آنے کے باوجود ہم انہیں ’ناظم صاحب‘ ہی کہتے ہیں۔ اس لفظ نے محبت، انسیت، رفاقت ، کے ایسے ایسے معانی ہم پر روشن کیے کہ سالوں کی جمی دھند اور کہر کے باوجود اس لفظ کی کشش برقرار رہے۔

گورنمنٹ کالج میانوالی میں 1983 کی خوشگوار سردیوں کے دن تھے جب اسلامی جمعیت کے طلبہ کے ساتھ عہد رفاقت استوار ہوا۔ غلام مصطفیٰ کاظمی، اسلامی جمعیت طلبہ میانوالی شہر کے ناظم تھے اور ظہور احمد اعوان (موجودہ لائبریرین پنجاب یونیورسٹی) میانوالی اور بھکر کی مشترکہ نظامت کا بوجھ اپنے توانا کاندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے۔ جب ہم نئے نئے متعارف ہوئے تو میانوالی جمعیت کی عظمتِ رفتہ کی بازگشت کہیں کہیں موجود تھی میانوالی ایک زمانہ میں مقامی جمعیت بھی رہی مگر ناساز گارئ حالات یہاں تک لے آئی کہ فیصل آباد ڈویژن میں یہ کہاوت عام ہوئی کہ ناظم ڈویژن فیصل آباد جب طول طویل سفر کر کے میانوالی پہنچے تو کارکنان کی عدم دستیابی کی بنا پر واحد خوشگوار مصروفیت میانوالی نہر کے ٹھنڈے اور رواں پانی میں غسل قرار پایا، جہاں سفر کی کُلفت اور تحریکی کام نہ ہونے کی شکایت کو دریا برد کردیا جاتا۔ (دروغ برگردنِ راوی) غالباً یہ تذکرہ ہے ہمارے محبوب ناظم ڈاکٹر سید احسان اللہ شاہ صاحب کا، جو ان دنوں پاکستان کے غالباً سب سے بڑے تنظیمی ڈویژن فیصل آباد کے ناظم تھے جو شور کوٹ (ضلع جھنگ)سے شروع ہوکر ضلع بنوں کے ہمسائیگی میں عیسیٰ خیل تک وسیع تھا، جمعیّت کے ناظمین نے اپنی محنت اور اخلاص سے شرق کو غرب سے ملانے میں اپنے دن رات ایک کردیے۔
ناظمین کی ایک کہکشاں ہے جس نے مجھ جیسے ان گھڑ کو زندگی کا شعور اور عمل کا جامہ عطا کیا۔ بہت سوں کے صالح عمل کامیں گواہ ہوں ، مجھے اس کا بھی یقین ہے کہ میں کئی ناظمین کی روابط کی فہرست، تنہائی کی دعاؤں اور مجالس کے ایجنڈے پر یقیناً موجود ہوں گا۔ ان میں وہ ناظمین بھی شامل ہیں جنہوں نے انگلی پکڑ کر سکھایا، ان میں ظہور احمد اعوان اور ڈاکٹر سرفراز شیخ سر فہرست ہیں۔ اور ایسے بھی کہ جن کے کردار کی مقناطیسیت میلوں کے فاصلوں کو پاٹتی ہوئی دل پر راج کرتی۔ ان کرداروں میں سید شبیر حسین شاہ، ڈاکٹر سید احسان اللہ شاہ اور اظہر اقبال حسن شامل تھے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سیکھنے کا عمل زندگی کی آخری سانس تک جاری رہتا ہے۔ 1983ء سے 1998ٰء تک تعلیم و تعلیم کا یہ سفر ایک عام کارکن سے لے کر ناظم اعلیٰ تک بلا انقطاع جاری رہا، علم کے امام حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ جس نے مجھے ایک لفظ سکھایا وہ میرا آقا ہے چاہے مجھ سے کام لے، چاہے مجھے فروخت کردے۔ یہاں محض لفظ نہیں بلکہ زندگی کے اسرار، اجتماعیت کی خُو، دوستی کے رمز، اختلاف کے آداب اور نہ جانے کیا کچھ سکھایا گیا۔

اسلامی جمعیت طلبہ کے لیے سرگرم ہونے میں میانوالی کے ناظمین و احباب کا غیر معمولی کردار تھا جس کے قافلہ سالار محترم قاضی نعمان احمد انصاری بھائی تھے جو میانوالی سے قدرے دور پپلاں میں ہونے کے باوجود جمعیت کے ایک ایک فرد سے اس طرح ملتے کہ گماں یہی ہوتا کہ وہ آج بھی جمعیت میں ہیں۔ بلاشبہ نعمان بھائی محبت، رابطہ، رہنمائی اور تعاون کی عملی تصویر تھے۔ میانوالی میں جمعیت کے نوواردان کے لیے نور احمد نورانی، محمد اقبال اور ابرار خان نیازی ہمارے پاور ہاؤس تھے، جن سے ہم بھرپور اجتماعیت کی حرارت کشید کرتے۔ یہ صرف درس، کتابیں اور اجتماعات نہیں بلکہ تفریح اور کھیل میں بھی ہمارے ساتھ ہوتے، ابرار خان نیازی اور محمد اقبال اگرچہ جماعت اسلامی سے قدرے فاصلہ پر تھے مگر جمعیت کے لیے ان کے دل اور گھر کے دروازے یکساں کشادہ تھے، اخوان بک سینٹر، طویل عرصہ ہمارا پوسٹل ایڈریس رہا، ملک بھر سے آنے والوں کا پہلا پڑاؤ بلو خیل روڈ پر یہی کتابوں کی دکان ہوتی جہاں دائمی مسکراہٹ اور خیر سگالی جذبات کے ساتھ گرما گرم چائے ہمہ وقت تیار ملتی، قریب ہی بنّوں سرائے کی دوسری منزل پر ایک کمرے پر مشتمل اسلامی جمعیت طلبہ کا دفتر تھا۔

جمعیت کے حاضر ذمہ داران میں ظہور احمد اعوان بھائی تھے جنہوں نے محبت، الفت، احترام اور رابطے کا ایسا سیرپ ہمیں پلایا کہ اس کی چاشنی آج بھی نہیں جاتی۔ وسط ایشیائی چہرے مہرے والے اَن تھک اور بہادر ظہور بھائی نے انفرادی ملاقاتوں کے ذریعے ہماری ٹیوننگ کا آغاز کیا۔ وہ ریڈیو جو ابھی تک کسی شارٹ ویو اور میڈم ویو کو کیچ نہیں کر پا رہا تھا، ظہور اعوان بھائی نے اسے ایک اسٹیشن پر فوکس کردیا، ظہور بھائی محبت، حلاوت اور شفقت کا مینارہ تھے تو اس کے ساتھ ساتھ احباب میں نعمان انصاری بھائی علم، حلم، تقویٰ، سادگی، اور تحریکی استقامت کا کوہِ بلند…… ان دونوں خوبصورت کرداروں نے ہم جیسے اَن گھڑ، اور غیر منظم زندگیوں کو ڈھب پر لانے کا کام کیا، نعمان انصاری بھائی کے گھر منعقد ہونے والے ارکان امیدواران اور منتخب رفقاء کے اسٹڈی سرکلز 35 سال گزرنے کے باوجود آج بھی مجھے انسپائریشن دیتے ہیں، مہینے کی سب سے اہم تربیتی سرگرمی جو ایک طرف ہمارے ذہن کے بند گوشوں کو وا کرتی تو دوسری جانب غیر رسمی انداز میں ہم جیسے نو آموز کارکنان کو با مقصد اور پاکیزہ اجتماعیت کا خوگر بناتی۔
ہر دم مسکراہٹ اوپر سے دل آویز لہجہ اور دل موہ لینے والی شخصیت والے ڈاکٹر سرفراز شیخ بھائی جب میانوالی وارد ہوتے تو کارکنان کے چہرے کھل اٹھتے۔ سرد راتوں کو شہر کی دیواروں پر پوسٹر لگانے سے کر روز و شب ڈائری کو فل کرنے کی مشق کروانے تک، سرفراز بھائی اپنے اور کارکنان کے درمیان کوئی فاصلہ نہ رہنے دیتے، وہ مختصر عرصے کے لیے ضلع میانوالی کے نگران لیکن طویل عرصہ تک سلطنت دل پر حکمران رہے۔ ڈاکٹر سرفراز شیخ پنجاب میڈیکل کالج کے منتخب صدر تھے، میڈیکل ڈگری کے آخری تقاضے کے طور پر وہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال سرگودھا میں ہاؤس جاب کر رہے تھے کہ ناظم فیصل آباد ڈویژن سید شبیر شاہ صاحب نے انہیں ضلع میانوالی کا نگران مقرر کردیا، سرگودھا سے وہ ہر ویک اینڈ پر میانوالی آتے۔ انفرادی ملاقاتیں، حلقہ جات کے دورے، تنظیمی پلاننگ اور دعوتی داؤ پیچ‘ ہم نے اُن ہی سے سیکھے۔ واللہ کیا شخصیت تھی۔ خلیق و شفیق، حکیم و متین، میانوالی کے انٹر اور بی اے کے کارکنان کو ایک ڈاکٹر ناظم میسر آیا تو ہمارا مرتبہ بھی بلند ہوتا محسوس ہوا۔ سرفراز بھائی کا دور اگرچہ مختصر تھا مگر میری ذاتی گرومنگ میں اُس نے بہت اہم کردار ادا کیا، حقیقت یہ ہے کہ میں نے کتابوں سے بھی پہلے اسلامی جمعیت طلبہ کی زندہ کتابوں (انسانی کردار) سے محبت، اخلاص، عمل صالح، ایثار و قربانی کو تلاش کرلیا تھا۔

شعوری زندگی کے ابتدائی سالوں میں انسان جو کچھ سیکھتا ہے وہ عمر بھر کی کمائی بن کر سامنے آتا ہے۔ اسی لیے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ انسان کی شخصیت کے بننے اور بگڑنے میں زندگی کے ابتدائی ایام اور ان میں ملنے والے مشاہدات و تجربات بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انسان کی تربیت اور انسان کے ذریعے تربیت کا کوئی متبادل نہیں لوگ کتابوں، نصابوں اور اداروں سے بلاشبہ سیکھتے ہیں مگر


کورس تو لفظ ہی سکھاتے ہیں

آدمی، آدمی بناتے ہیں


اسلامی جمعیت طلبہ نے تربیتِ انسان کا سب سے بہتر ماڈل متعارف کروایا ہے جدید تعلیمی دنیا میں اِسے peer group کہا جاتا ہے، لوگوں کی وہ اجتماعیت جو رضاکارانہ بنیادوں پر اپنے لیے ضابطے، قاعدے، اصول اور طریقے اپناتی ہے۔ جمعیت کے ناظمین نے اس خوبصورتی، سادگی سے ہمیں ایک نئی اجتماعیت کا خوگر بنا دیا کہ غیر محسوس انداز میں ہم اس کے اسیر ہوتے گئے۔

جن طالب علموں کو ان کے گھراور گلی سے باہر کم ہی لوگ جانتے ہوں انہیں دوستوں اور ناظموں کی اتنی بڑی اجتماعیت مل جائے انہیں اور کیا چاہیے۔ یہ ایسے مالی تھے جو شاخوں پر کلہاڑا چلانے کے بجائے بکھری ہوئی پتیوں کو جوڑ جوڑ کر پھول بنانے کے ماہر تھے۔غلطیاں کب نہیں ہوتیں، اس عمر میں تو سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ ان کی روش یہ تھی کہ غلطیوں پر توجہ بھی اس انداز میں دلاؤ کہ مخاطب خود اپنی اصلاح پر مائل ہوجائے۔ تعلیم پر توجہ دینے کا معاملہ ہو یا والدین کے ادب، آداب کی بات، نماز و مطالعہ جات کی پابندی جیسے مثبت کاموں کی تاکید ہو یا منفی اخلاقی رویوں سے اجتناب ، سارے کام ایک ماں کی شفقت، اُستاد کی حکمت اور مخلص دوست کی خیر خواہی والے انداز سے انجام پاتے۔

میانوالی جمعیت تنظیمی طور پر فیصل آباد ڈویژن کا حصہ تھی جو غالباً اپنے کام اور وسعت کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا تنظیمی ڈویژن شمار ہوتا تھا۔ فیصل آباد ڈویژن کی حد ود ضلع خانیوال سے ملنے والی شور کوٹ تحصیل سے شروع ہوکر صوبہ سرحد کے ضلع بنوں سے جا ملتی تھیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ کی طرف سے جو بھی فرد ناظم ڈیژن مقرر ہوتا وہ عموماً مرکزی و صوبائی شوریٰ کا رکن ہوتا۔ میرے یہ تمام ناظمین آفتاب صفت تھے۔ سید شبیرّ حسین شاہ صاحب، ڈاکٹر احسان اللہ شاہ صاحب، اظہر اقبال حسن صاحب ان میں نمایاں تھے۔ میانوالی جیسے دور افتادہ اور کمزور سے تنظیمی یونٹ اور اس سے وابستہ کارکنان کو ان ناظمین نے جو محبت اور رہنمائی فراہم کی اُسی نے یہ دن دکھائے کہ اس چھوٹے سے یونٹ سے تحریکی وابستگی اور تنظیمی پختگی حاصل کرنے والے ننھے پودے آگے چل کر جامعات، صوبہ اور مرکز کے ذمہ داران میں شمار ہوئے۔

سید شبیر حسین شاہ، سید احسان اللہ شاہ اور اظہر اقبال حسن بھائی کے دورِ نظامت میں پنجاب میڈیکل کالج اور جامعہ زرعیہ فیصل آباد سے محبتوں کے لشکر سال میں دو تین مرتبہ میانوالی کی سنگلاخ زمینوں کو فتح کرنے کے لیے ‘حملہ آور’ ہوئے۔ کبھی ان کا ہدف جامعہ زرعیہ اور میڈیکل کالج کے ان فرسٹ ائیر طلبہ کو خوش آمدید کہنا ہوتا جن کا تعلق ضلع میانوالی سے تھا اور کبھی وہ وفود کی شکل میں میانوالی کے طول و عرض میں دعوت کے بیج بکھیرتے ۔میانوالی کے نو آموز، سیدھے سادھے کارکنان فخر کے ساتھ اپنے ان بڑے بھائیوں کے ہمراہ ہوتے جن کی رفاقت میں ‘‘چھوٹے’’ بھی اپنے آپ کو ُبڑا’ محسوس کرنے لگتے۔ یہ تھا وہ خود کار اور نظر نہ آنے والا نظام جو محبت کے سہارے، پر خلوص رشتوں کو پروان چڑھاتا اور صلاحیتوں سے مالا مال کرتے آگے بڑھتا چلا جاتا۔ دور سے بڑے نظر آنے والے ناظمین قریب آنے پر اور بھی ‘بڑے’دکھائی دیتے۔ چند لمحوں کی وابستگی اور کچھ لفظوں کی مٹھاس نے رشتوں کو وہ دوام بخشا کہ تین دہائیاں گزرنے کے باوجود وجود پر سرشاری کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے فقیر منش راشد نسیم بھائی (میرے ناظم اعلیٰ) سے لے کر منخی وجود میں کوہ ہمالیہ جیسا ایمان رکھنے والے یعقوب اعوان بھائی جو طیب شاہین بھائی کی رخصت کے دوران صوبہ پنجاب کے قائم مقام مقرر ہوئے۔ ہونٹوں سے نکلے الفاظ سے دل کی دنیا زیرو بم کرنے والے اسلامی جمعیت طلبہ سرگودھا کے ناظم اشتیاق گوندل بھائی سے لے کر دلائل کی دنیا میں کسی سے مات نہ کھانے والے لاہور جمعیت کے ناظم عاصم اسد بھائی تک، جمعیت کے سنہری دور میں ان سیماب صفت افراد سے تعلق کہیں اجتماعات کے دوران چند غیر رسمی مجالس میں قائم ہوا تو کہیں سفر کی خوبصورت ساعتوں میں پروان چڑھا ۔ مگر جب ایک مرتبہ قائم ہوگیا تو پھر انمول و انمٹ رشتوں میں ڈھلنے میں اس نے کچھ دیر نہ کی۔

ہم نے اپنے ناظمین سے اجتماعات اور تقریروں سے کہیں زیادہ سیر و سفر اور غیر رسمی گفتگو ؤںمیں سیکھا۔ لوگ کتابوں سے نظریات اخذ کرتے ہیں ہم نے کرداروں سے عمل کشید کیا۔


جن سے مل کر زندگی سے عشق ہوجائے وہ لوگ

آپ نے دیکھے نہ ہوں شاید مگر ایسے بھی ہیں


استاد صرف وہ نہیں ہوتا جو کمرہ ٔجماعت میں کتاب کے ذریعےآپ کو کمرہ ٔامتحان کے لیے تیار کرے۔ زیست کی راہ پر ہر وہ فرد ’استاد‘ ہے جو آپ کے علم، عمل، کردار، صلاحیت کو پروان چڑھائے۔ ان معنوں میں میرے سارے ناظمین، میرے استاد ہیں۔ میں آج جو کچھ بھی اور جہاں بھی ہوں اللہ کی توفیق کے بعد ان ہستیوں کا مرہونِ منت ہوں جنہوں نے مجھ میں وہ چیزیں آشکارا کیں جن کا شاید خود مجھے بھی علم نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کو شاد آباد رکھے۔ آخرت کے سفر پر روانہ ہونے والوں کے حق میں ہماری گواہی کو قبول کرے اور ہمارے اچھے عمل کا صلہ ہمارے اُن ناظمین تک پہنچائے جنہوں نے ایک ‘مالی’ کی طرح اپنے چمن کے پودوں کی حفاظت، نگہداشت اور پرداخت کی۔