عدالتوں میں انصاف یا انصاف میں عدالت - سید یاسین عالم

عدالتوں میں انصاف نہیں ہوتا بلکہ عدالتیں صرف قانون کی تکمیل کرتی ہیں۔ اب جس نظریہ اور عقائد سے بنا ہوا قانون ہوگا عدالتیں اسی کے لحاظ سے فیصلہ سنانے پر قادر ہونگی۔ انصاف ایک بہت بڑی چیز ہے جس کا موقع ہر کسی کو ملتا ہے، اسلیے اس بات کو سمجھنا اہم ہے کہ عدالتیں انصاف نہیں قانون کی تکمیل کرتی ہیں، انصاف اور استحصال اس نظریہ میں پوشیدہ ہوتا ہے جس کے تحت تمام نظام کام کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اکثر عدالتوں میں کیا گیا فیصلہ عوام کے نزدیک انصاف کا معیار نہیں رکھتا کیوں کہ جس نظام میں ہم رہ رہے ہیں اس کی بنیاد میں انسان کے ساتھ انصاف کرنا شامل ہی نہیں۔ بلکہ سرمایہ درانہ نظام کی بنیادی فکر سرمایہ کے گرد گھومتی ہے اور قوانیں بھی اسی سیاسی و معاشی نظام کو نظر میں رکھ کر انسانی عقل سے بنائے جاتے ہیں۔ عوام انسان کی سطح پر دیکھتے ہوئے جبلتی بنیادوں پر ہی کئی فیصلوں کو عدل و انصاف کے کٹہرے سے باہر سمجھتے ہیں۔

انسان کے سوچنے سمجھنے کا معیار الگ ہوتا ہے مگر اپنی جبلت کے اعتبار سے سب انسان برابر ہوتے ہیں۔ اسی طرح سے معاشروں کی فطری اور بنیادی ضروریات بھی الگ نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتوں میں کیا گیا فیصلہ جب خود کسی پر گزرتا ہے تو وہ اسے انصاف کی بنیادوں سے علیحدہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ عدالتیں انفرادی طور پر نہیں بلکہ یہ پورا نظام ہے جو انسانی عقل سے بنا ہوا ہے۔ جس میں آزادی کا تصور بنیادوں میں ہے اور سرمایہ کہ گرد گھومتے رہنا اس کی اولین ترجیح ہے۔ اسی لیے اس کے قوانین مکڑی کے جالے کی طرح ہیں جس میں صرف چھوٹے کیڑے ہی پھنستے ہیں، بڑے اور طاقتور اسے توڑتے ہوئے نکل جاتے ہیں۔ اس نظام میں ریاست اپنے ذمہ کے کام بھی افراد پر ڈال کر خود ہاتھ جھاڑ لیتی ہے اور ریاست کے کھینچے گئے دائرے سے تجاوز کرنے والے کے خلاف کاروائی کرتی ہے، مگر یہ سوال کون کرے کہ مواقع کی فراہمی بھی تو ریاست کی ذمہ داری تھی۔

انسان کی عقل اس قابل ہی نہیں کہ وہ اپنے لیے قوانین بنا سکے۔ یہ بات عقلی بھی ہے کہ انسان اور انسانی معاشرہ جس نے بنایا ہے وہی اسکے قوانین بنا سکتا ہے۔ اس کے لیے اس خالق کا ادراک عقلی بنیادوں پر بہت ضروری ہے۔ اسلام کا عقیدہ ہی مبنی بر عقل ہے۔ اسلام کے تقریباً تمام قوانین انسانی بنیادوں پر سب کے لیے برابر ہوتے ہیں اور یہ غور طلب بات بھی ہے کہ نظام انصاف کے معاملے میں کبھی کسی بنیاد پر تفریق نہیں کرتا۔ امیر غریب آقا غلام کالے گورے ہر بنیاد پر انصاف اور عدل کو یقینی بناتا ہے۔

اسلام کا نظامِ خلافت اپنے قوانین کو معاشرے سے الگ نہیں سمجھتا۔ اس لیے قوانین کے نفاذ سے پہلے معاشرے میں ان مسائل کے حل لیے مواقع فراہم کرنا بھی ریاست اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ معاشرے میں برابری کبھی نہیں آسکتی تو معاشرے کے قوانین میں عدل اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ قوانین سب کے لیے برار ہوں۔ اسکی کئی مثالیں ہمیں نظر آتی ہیں، جب ایک امیر اور عزت دار عورت نے چوری کی تو رسولِ خدا ص نے نہ صرف اسے سزا دی بلکہ اپنی بیٹی کی مثال بھی دی کہ اگر فاطمہ بنتِ محمد بھی چوری کرتی تو اس پر بھی یہی سزا واقع ہوتی۔

معاشرے میں عدل و انصاف کا بول بالا اگر چاہتے ہیں تو پہلا سوال نظام پر کرنا ہوگا۔ یہ دیکھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے کہ اس موجودہ نظام میں کس کس طرح استحصال یقینی بنایا جاتا ہے۔ عدالتوں کو علیحدگی سے دیکھنا مسئلہ کا حل نہیں بلکہ نجات اس بات میں ہے کہ ہم اس نظام کی کوشش کریں جس کی بنیاد میں عدل و انصاف ہو۔ اللہ کا بنایا ہوا نظامِ خلافت اپنی بنیاد میں اس چیز کی فراہمی یقینی بناتا ہے۔ جس کے قوانین سرمائے کے گرد نہیں بلکہ اللہ کے حکم کے گرد گھومتے ہیں جن سے انسانی بنیادوں پر قوانین ملتے ہیں جو انصاف کے تقاضوں پر پورے اترتے ہیں۔ تو بہتری اسی میں ہے کہ اس نظام میں رہتے ہوئے عدالتوں کو بہتر بنانے کی ناکام کوشش کرنے کے بجائے ہم اللہ کے بتائے ہوئے اور نبی پاک ص کے سکھائے ہوئے طریقہ سے اس نظام کی کوشش کریں جس کا وعدہ ہے۔