قومی اسمبلی میں شراب پر پابندی کے قانون کا مسئلہ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

پشتو مقولہ ہے کہ سچ کے آتے آتے جھوٹ نے کئی گاؤں برباد کیے ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر شور برپا ہے کہ قومی اسمبلی میں شراب پر پابندی کے قانون کو روک لیا گیا۔ کئی لوگ "اسلامی ریاست" کا نوحہ پڑھنے لگے ہیں۔ پھر کئی سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر ذمہ داری عائد کرنے لگی ہیں۔ اصل معاملہ کیا ہے، شاید ہی کوئی اس پر بات کررہا ہو۔ میں چند نکات میں اس کو واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

1۔ دستورِ پاکستان 1973ء کی دفعہ 29 سے 40 تک "ریاستی پالیسی کے رہنما اصول" ہیں۔ ان اصولوں میں ایک اصول دفعہ 37 ، ذیلی دفعہ ایچ ، میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ریاست الکحل کے استعمال کو روکے گی، سواے دو صورتوں کے: طبی مقاصد کےلیے یا غیرمسلموں کے مذہبی مقاصد کےلیے۔ واضح رہے کہ دستور کی یہ دفعات عملاً غیرمؤثر ہیں کیونکہ دفعہ 30 ، ذیلی دفعہ 2، میں قرار دیا گیا ہے کہ ریاست کے کسی اقدام یا قانون پر اس بنیاد پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا کہ یہ اقدام یا قانون ریاستی پالیسی کے ان اصولوں کے خلاف ہے۔ اس لیے اس دستوری دفعہ کے باوجود پاکستان میں شراب کا کاروبار جاری رہا۔ 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی حکومت نے شراب کی پابندی کا قانون (Prohibition Act) منظور کیا جس میں ان دو استثناءات کے سوا دیگر صورتوں میں شراب کی خرید و فروخت پر پابندی لگادی گئی اور اسے قابلِ سزا جرم بنادیا گیا۔

1979ء میں جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک آرڈر (Prohibition Order) کے ذریعے اس پر حد کی سزا بھی نافذ کی۔ تاہم انھوں نے بھی ان دو استثناءات کو برقرار رکھا۔ اس قانون میں طبی یا غیرمسلموں کے مذہبی مقاصد کےلیے شراب کی خرید و فروخت کے طریقِ کار کے بھی بنیادی خدوخال وضع کیے گئے ہیں۔ پھر اس کے ذیلی قانون کے تحت لائسنس وغیرہ کےلیے تفصیلی قواعد دیے گئے ہیں۔

2۔ غیرمسلموں کو مذہبی مقاصد کےلیے شراب کے استعمال کی جو استثنا دی گئی ، اس پر پاکستان کے غیرمسلموں کی جانب سے بھی مسلسل تنقید کی جاتی رہی ہے۔ یہ تنقید ہندوؤں کی جانب سے بھی ہوتی آئی ہے اور مسیحیوں کی جانب سے بھی۔ سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے میرے ایک مسیحی سٹوڈنٹ اس وقت میری سپروژن میں ایل ایل ایم ہیومن رائٹس کا مقالہ لکھ رہے ہیں اور ان کا بنیادی دعوی یہ ہے کہ اس استثنا کے ذریعے مسیحیت کی بدنامی ہورہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے مذہب کو بنیاد بنا کر شراب کا کاروبار نہ چلائیں۔ اسی نوعیت کا احساس جناب رمیش کمار کا بھی ہے اور اسی وجہ سے وہ برسوں سے اس کوشش میں ہیں کہ غیرمسلموں کے مذہبی مقاصد کے اس استثنا کو ختم کرایا جائے۔

3۔ اکتوبر 2016ء میں سندھ ہائی کورٹ نے سندھ میں شراب کی فروخت کے لائسنس اس بنیاد پر منسوخ کرادیے کہ قانون میں دیے گئے استثنا کی بنیاد پر نہیں بلکہ دیگر غیرقانونی مقاصد کےلیے شراب کی فروخت کے ذریعے بن گئے تھے۔ شراب فروشی کے لائسنس یافتہ لوگ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں گئے تو نومبر 2016ء میں سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو ختم کرکے کیس واپس سندھ ہائی کورٹ کو از سر نو سماعت کےلیے بھیجا۔ فیصلہ جسٹس ثاقب نثار صاحب نے لکھا (جو اس وقت چیف جسٹس نہیں تھے) اور انھوں نے ریمارکس بھی دیے کہ ہم شراب فروشی کی اجازت نہیں دے رہے بلکہ سندھ ہائی کورٹ سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ دیکھے کہ کیا قانون میں جو اجازت جن بنیادوں پر اور جن حدود میں دی گئی ہے، ان کو واقعتاً پامال کیا گیا ہے یا نہیں کیونکہ اس تحقیق کے بغیر محض اندازے یا مفروضے پر وہ لائسنس منسوخ نہیں کیے جاسکتے جن کی اجازت قانون میں ہے۔ اس کیس کی سماعت کے دوران میں بھی جناب رمیش کمار نے بات کرنے کی کوشش کی لیکن ان کو خاموش کیا گیا۔

4۔ اس وقت جناب رمیش کمار مسلم لیگ نون کے رکن اسمبلی تھے اور انھوں نے قومی اسمبلی میں ایک دستوری ترمیمی بل پیش کرکے دستور میں غیرمسلموں کو دی گئی استثنا کو ختم کرانے کی کوشش کی لیکن یہ بل مسترد کیا گیا (اور اس وقت کسی نے "اسلامی ریاست" یا "فلاحی ریاست" کا نوحہ نہیں پڑھا)۔ اب جناب رمیش کمار پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی ہیں اور انھوں نے ایک دفعہ پھر دستوری ترمیمی بل پیش کرکے دستور کی دفعہ 37، ذیلی دفعہ ایچ، میں غیرمسلموں کے مذہبی مقاصد کےلیے شراب کی اجازت دینے کے استثنا کو ختم کرانے کی کوشش کی۔ اس بل پر حکومت کی جانب سے قانو ن اور انصاف کی پارلیمانی سیکرٹری محترمہ ملیکہ بخاری کا موقف یہ تھا کہ حکومت اس بل کے پیش کرنے کے خلاف نہیں ہے اور انھوں نے تجویز کیا کہ اسے قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی کی طرف بھیجا جائے۔ اس پر بعض دیگر ارکان نے اعتراض کیا کہ جب ایک دفعہ یہ بل (2016ء میں) مسترد ہوچکا ہے تو دوبارہ اسے اسمبلی میں نہیں پیش کیا جانا چاہیے۔ اس پر ڈپٹی سپیکر صاحب نے راے شماری کی کہ اس بل کو سٹینڈنگ کمیٹی کی طرف بھیجا جائے یا نہیں تو موقع پر موجود ارکان کی اکثریت نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ یوں یہ بل سٹینڈنگ کمیٹی کی طرف نہیں بھیجا جاسکا۔

5۔ اب ایک تو یہ نوٹ کرلیں کہ قومی اسمبلی میں جو بل پیش کیا وہ شراب پر پابندی کےلیے نہیں تھا بلکہ ایک ایسی دستوری دفعہ میں ترمیم کےلیے تھا جس کے ہونے یا نہ ہونے سے عملاً کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ میری سمجھ سے یہ چیز بالاتر ہے کہ جناب رمیش کمار نے اس غیرمؤثر دستوری دفعہ میں ترمیم کے بجاے 1979ء کے عملاً نافذ شدہ قانون میں ترمیم کا بل کیوں پیش نہیں کیا؟ دستور میں ترمیم کےلیے دونوں ایوانوں میں تمام ارکان کی کل تعداد کی دو تہائی اکثریت کا ووٹ درکار ہوتا ہے جبکہ قانون میں ترمیم کےلیے دونوں ایوانوں میں موقع پر موجود ارکان کی سادہ اکثریت درکار ہوتی ہے۔ یہ آسان راستہ اور عملاً مؤثر راستہ اختیار کرنے کے بجاے انھوں نے وہ مشکل اور عملاً تقریباً غیرمفید راستہ کیوں چنا؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ پہلے بھی وہ حکومتی رکن تھے (نون لیگ کی حکومت میں) اور اب بھی وہ حکومتی رکن ہیں (پی ٹی آئی کی حکومت میں) ، لیکن دونوں دفعہ انھوں نے یہ بل پرائیویٹ ممبر کے طور پر پیش کیا اور حکومتی بل کے طور پر وہ اسے نہیں لاسکےتو اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا دونوں پارٹیوں کے اندر اس معاملے میں ان کی مخالفت پائی گئی یا دونوں دفعہ انھوں نے پارٹی سے بالا بالا کام کرنے کی کوشش کی؟ اس کا بہتر جواب خود جناب رمیش کمار یا متعلقہ پارٹیوں کے ترجمان ہی دے سکتے ہیں۔

6۔ حامد میر کے پروگرام میں فواد چودھری نے اس موضوع پر جو بات کی ہے اس کےلیے ہلکے سے ہلکا لفظ "بکواس" کا ہے۔ یہ کیا بکواس ہے کہ جس نے پینی ہے وہ پیتا ہے اور جس نے نہیں پینی وہ نہیں پیتا۔ کیا یہی کچھ زنا ، چوری اور قتل سمیت کسی بھی دوسرے جرم کے متعلق وہ کہہ سکیں گے؟

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.