سقوط ڈھاکہ اور جماعت اسلامی کی غداری - عالم خان

سقوط غرناطہ کے بعد سقوط ڈھاکہ ایک ایسا اندوہناک سانحہ ہے جس کی یاد دسمبر آتے ہی دلوں کو گھائل کرتی ہے دونوں المیوں کے حوالے سے دو خواتین کے طنز یہ جملے بھی تاریخ کا حصہ ہیں یہ وہ طنز ہے جو ہماری مرتی ہوئی اجتماعی غیرت کے منہ پر طمانچہ ہے سقوط غرناطہ کے بعد آخری اموی خلیفہ ابو عبد اللہ جب پہاڑ کی چوٹی سے غرناطہ پر آخری نظر ڈال کر رونے لگا تو اس کی ماں نے کہا “ اس کے لیے عورتوں کی طرح مت رو جس کی حفاظت تو مرد بن کر نہ کرسکا ایک اور طنز کا زہریلا تیر سقوط ڈھاکہ کے بعد اندرا گاندھی نے بھی چلایا تھا کہ آج ہم نے نظریہ پاکستان خلیج بنگال میں ڈبو دیا .

جی ہاں ! وہی نظریہ جس کی حفاظت کے لیے جماعت اسلامی کے کارکنوں اور اسلامی جمعیت کے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا، جن پر آج لوٹ مار اور عصمت دری کے بے ہو دہ الزامات لگائے جاتے ہیں، حالانکہ یہ وہی لوگ تھے جو فوج کے شانہ بشانہ”البدر” اور “الشمس” کی صورت میں اپنے بنگالی بھائیوں کے خلاف کھڑے تھے، جس کی گواہی آج بھی ہمارے جرنیلز دیتے ہیں۔

ایک طرف اگر سونار بنگلہ کا نعرہ لگتا تھا تو دوسری طرف پاکستان زندہ باد کے نعرے لگتے تھے ایک طرف اگر بنگالیوں کے خون کو گرمانے کے لیے قومی ترانے بجتے تھے تو دوسری طرف بنگال ہی کے نوجوان پاکستان سے محبت کے ترانے گاتے تھے اور پاکستان کو تقسیم کرنے کے لیے ہندوستانی سازش کو ناکام بنانے میں مصروف تھے۔
یہی وجہ تھی! کہ یہ نوجوان اپنے ملک وقوم میں اجنبی بن گئے ان کی حب الوطنی کو غداری قرار دے کر ان پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑے گئے، سقوط ڈھاکہ کے بعد ملک کے محافظین سمجھوتہ کرکے اپنے محسنوں اور شانہ بشانہ لڑنے والوں کو انتہائی بے مروتی سے تنہا اور بے سروسامان چھوڑ کر واپس اگئے. خود یہاں آکر ہیرو ٹھہرے اور وہ وہاں غدار، بچارے جاتے تو کہاں جاتے؟ ان کی رگوں میں محب وطن بنگالیوں کا خون دوڑتا تھا وہ اس سرزمین کے باسی تھے لیکن پاکستان سے محبت کے جرم میں ان کے سینوں میں سنگینیں گھونپی گئیں، ان کی لاشوں کو مسخ کیا گیا، عجیب لوگ تھے کہ سنگینوں اور خنجروں سے ان کا قتل عام جاری تھا اور وہ اس حال میں بھی “پاکستان زندہ باد ” کا نعرہ مستانہ لگاتے رہے اور اپنے لہو سے حریت کی داستانیں رقم کرتے رہے.

افسوس ! کہ وطن عزیز سے محبت کے دعویداروں نے نہ اس وقت ان کا ساتھ دیا اور نہ ہی بعد میں کبھی ان کی قربانیوں کا اعتراف کیا. اس لیے وہ وہاں تو غدار ٹھہراۓ ہی گئے، یہاں پاک سرزمین میں بھی اجنبی ٹھہرے. ان گمنام شہیدوں کے نام الفاظ یا اعزازات کی صورت میں احسان شناسی کی کوئی علامت تو در کنار، ان کو اپنانے سے ہی انکار کر دیا گیا۔ہندوستان نواز بنگالی حکومت نے مولانا مطیع الرحمن نظامی اور پروفیسر غلام اعظم جیسے جماعت کے قائدین کو پیرانہ سالی میں بھی تختہ دار پر لٹکاتی رہی، ان کا گناہ یہ تھا کہ جب (۱۹۷۱) میں پاکستان دو لخت ہورہا تھا تو بنگالی ہوتے ہوئے بھی ان کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑک رہے تھےاس محبت اور وفاداری کی سزا پہ نہ صرف حکومت پاکستان خاموش رہی بلکہ نظریہ پاکستان سے انکاری طبقہ ان گمنام محبت وطن پاکستانیوں پر انگلیاں بھی اٹھاتے رہے تاریخ حقائق کو مسخ کرتے ہوے ان کو قتل عام اور عصمت دری کے زمہ دار قرار دیتے رہے جن کا یہ خود شکار ہوتے چلے آرہے ہیں۔

افسوس! کہ ہم نے اپنے حقیقی محسنین کو پہچانا نہ اپنی تاریخ سے سبق سیکھا اور یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ جو قوم اپنی تاریخ فراموش کردیتی ہے وقت اس کا جغرافیہ بدل دیتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی عالم اسلام اور وطن عزیز کو سقوط غرناطہ و ڈھاکہ جیسے مزید کسی سانحے سے محفوظ رکھے۔ آمین

Comments

عالم خان

عالم خان

عالم خان گوموشان یونیورسٹی ترکی، میں فیکلٹی ممبر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں۔ اسلام اور استشراقیت ان کی دلچسپی کا موضوع ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.