میں ایک لڑکی ہوں - منیبہ شیخ

میں ایک لڑکی ہوں۔ وہ ذات جسے اسلام نے رحمت قرار دیا۔ اللّٰہ رب العزت کے صادق وامین پیغمبر نے رب کی خوشنودی کا اظہار کہا۔
دورِ جہالت میں انہیں (بیٹیوں کو)جب زندہ درگور کردیا جاتا تو ماں باپ کے سر کوئی بات، کوئی گناہ، کوئی فکر، کوئی خطرہ نہیں ہوتا تھا۔ وہ تو جیسے اپنے فرض سے سبکدوش ہوجاتے۔ ایسے سرخرو ہوتے گویا کوئی قلعہ فتح کر لیا ہو۔ بالکل! یہ جنگ ہی تو ہوتی تھی۔ جہاں کوئی زندگی کے لیے لڑتا تو دوسرا زندگی میں سکون کے لیے۔ آخر زندگی کے لیے لڑنے والے کو ہمیشہ شکست ہوتی تو فاتح اپنی عزت و آبرو اور وقار کو مالِ غنیمت سمجھ کر لے اڑتا۔ تمام جنگوں کی طرح شکست خوردہ کو خالی ہاتھ نہ بھیجا جاتا بلکہ اسے شکست کھانے پر موت انعام میں دی جاتی تھی۔ یہ وہ سرٹیفکیٹ ہوتا جس کے بعد انہیں کسی اور جنگ میں حصہ لینے کا اہل نہ تسلیم کیا جاتا۔ ماں باپ کو بیٹی سے کوئی اور گلہ نہ ہوتا سوائے اس کے کہ وہ ایک لڑکی ہے۔ انہیں اُن(بیٹیوں) کی زندگی کی بقا میں اپنی عزت، اپنے نام کی فنا نظر آتی۔ سو وہ خطرے کے نمودار ہونے سے پہلے ہی اسے ختم کر دیتے تھے۔ شاید وہ معاشرے کے ان تلخ رویوں کی وجہ سے ایسا سوچنے اور کرنے پر مجبور تھے۔
چلو جو بھی تھا، اچھا نہ تھا۔ ۔۔
لیکن جو آج ہے کیا وہ اچھا ہے؟؟؟؟

انسان کی فطرت میں عزت کی بھوک شامل ہے۔ لالچی کتے کی طرح جہاں عزت ملتی نظر آئے وہیں دم ہلانے لگتا ہے۔ آج بھی یہ بھوک وہیں اپنی جگہ پہ قائم ہے۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے لڑکی سے زندگی چھین کر جنگ بندی کا اعلان کر دیا جاتا تھا۔ اور قرب و جوار میں امن کی بحالی کے لیے کوشش کی جاتی۔ لیکن اب زندگی تو نہیں چھینی جاتی بہرحال جینے بھی کسی طور نہیں دیا جاتا۔ "جیسے کسی شاعر کو ایک نقطے نے محرم سے مجرم اور اس کی ہمدردی بھری دُعا کو دغا بنا دیااسی طرح بیٹی کو اس قوم نے رحمت سے زحمت بنا دیا"۔ کل لڑکا ہوا تو سارے اپنے پرائیوں کو مبارکباد دی گئی انہیں خبر دی کہ نعمت نازل ہوئی ہے۔ آؤ اس کا سواگت کریں۔ اس کی آرتی اتاریں۔ اس کی زندگی کے لیے دیے جلائیں۔ دوسری جانب لڑکی ہوئی تو اگر کسی نے مبارکباد یا خبر دی تو اس کا شکریہ یوں ادا کیا جاتا ہے۔ کل موہی پاگل ہو گئی ہے تو اس کمزور، بےبس کی مبارکباد دے رہی ہے جس کے بارے میں کچھ نہیں پتہ کل کس کی ملکیت ہو۔ بابے کی بیٹیاں بابے سے اور بابا اپنی بیٹیوں سے خوش تھا۔ ایک دن بابے نے کہا "پتر! اللّٰہ سے بیٹی نہیں مانگا کرتے۔ لیکن اگر وہ دے تو شکر ادا کرتے ہیں".
لڑکیوں کا سوال تھا۔ "ابا جی! کیوں؟"۔
بابے کی خاموشی اس کے دل میں موجود ڈر اور فکر کے باعث چیخ رہی تھی۔ اور یہ چیخیں سنائی نہیں دی جا سکتی تھیں انہیں سمجھا جاسکتاتھا۔

کیوں؟ ہر سوال کے بعد، ہر جواب کے بعد ایک سوال پھر سے کھڑا تھا۔ اور وہ تھا"آخر کیوں؟". آخر کیوں ایسا ہے کہ بابا جی یہ کہنے پر مجبور ہوئے۔ کس خوف نے انہیں ایسا سوچنے پر مجبور کیا۔ میں بتاتی ہوں۔ معاشرے کے خوف نے۔ اس میں بسنے والے ہر درندے کے خوف نے۔ اس خوف نے کہ "لوگ کیا کہیں گے". اور سب سے بڑھ کر عزت کے خوف نے۔ میرے نزدیک یہ سب درست نہیں۔ میرا یہ پیغام ہے لوگوں کو جو بیٹیوں والے ہیں۔ ان کے لیے جو بیٹوں والے ہیں۔ ان کے لیے جو ان کی عزت کرتے ہیں اور ان کے لیے بھی جو ان کی تذلیل کرتے ہیں .اللہ رب العزت نے اس جہاں میں ہر شے کو بڑا حساب لگا کے بڑے احتیاط سے ترتیب دیا ہے۔ ہر چیز کی تعداد کو بڑے غور وفکر سے بڑھایا یا کم رکھا ہے۔ اسی طرح مرد وعورت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے کسی کو بیٹی دی تو کسی کو بیٹا۔

جب کسی کمپنی میں کسی مشکل اور پیچیدہ اور توجہ طلب پراجیکٹ کا معاملہ آتا ہے تو بوس اس کے لیے کسی قابل، سمجھدار، ایماندار اور محنتی شخص کا چناؤ کرتا ہے کیونکہ وہ اس زمہ داری کو بخوبی ادا کرنے کا اہل ہوتا ہے۔ اسی طرح بالکل اسی طرح جب خدا کسی کو بیٹی سے نوازتا ہے تو وہ اس میں وہی قابلیت اور احساسِ زمہ داری دیکھتا ہے جو کمپنی کامالک اپنے ملازم میں دیکھتا ہے۔ کیونکہ ہر شخص اس قابل نہیں کہ اس "صنفِ نازک" کا خیال رکھے اور اس زمہ داری کو احسن طریقے سے انجام دے جو خدا نے اسے دی ہے۔ شاید بیٹیاں زیادہ حساس ہوتی ہیں۔ انہیں کچھ نہیں بس آپ کی بے لوث محبت اور اعتماد کی ضرورت ہے۔

اگر آپ بیٹی والے ہیں تو کچھ شک نہیں کہ آپ سا خوش نصیب کوئی اور ہو۔ جسے اللّٰہ نے اپنی رحمت دی اور اپنے تمام ملازمین (بندوں)میں سے محبوب اور قابل وذمہ دار پایا۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ کسی کو بیٹیاں بری نہیں لگتیں بس ان کے نصیب سے ڈر لگتا ہے۔ فکر نہ کریں جو اللّٰہ انہیں پیدا کر سکتا ہے وہ ان کی خوشی اور سلامتی کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔

ٹیگز