’’ہم کہ ٹھہرے اجنبی۔۔۔‘‘ - احسان کوہاٹی

’’اس میں سوچنے والی کیا بات تھی، پاکستان ہمارے لیے مسجد کی طرح ہے، کوئی مسجد پر حملہ کرے تو کون سوچنے بیٹھے گا اور کون جمع تفریق میں وقت لگائے گا؟ ہمارے آباؤ اجداد نے یہ مسجد بنائی تھی اور ہمیں فخر ہے کہ ہم نے اس مسجد کی حفاظت کی کوشش کی، یہ دکھ اپنی جگہ کہ ہم اس مسجد کو بچا نہ سکے۔‘‘ حیدر علی حیدر کے لہجے میں جذبات کی آنچ بھی تھی او ر دکھ اورافسردگی کا کھولاؤ بھی،حیدر علی حیدر پاکستان میں ان پاکستانیوں کی آواز ہیں جنہیں پاکستان پاکستانی ماننے سے انکاری ہے یہ وہ پاکستانی ہیں جو اس پر حملے کے وقت جارح کے سامنے آکھڑے ہوئے غدار کہلائے مار کر پھینک دیئے گئے اور آج بھی سفید داڑھیوں ناتواں جسموں کے ساتھ پھانسی کے پھندوں پر جھول رہے ہیں ،اکہتر کے سقوط کے بعد جنہوں نے بنگلہ دیش پر پاکستان کو ترجیح دی انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر مختلف شہروں کے مضافات میں بنائے گئے مہاجرکیمپوں میں دھکیل کر خاردار تاریں لگا دی گئیں کہ جاؤ پاکستان کو آواز دو کہو تمہیں آکر لے جائے اورآج تک ان کیمپوں میں جانوروں کی سی زندگی گزارنے والے یہ پاکستانی پاکستان پاکستان پکار رہے ہیں۔

حیدر علی حیدر محصورین پاکستان کے لئے آواز اٹھاتے رہتے ہیں تن تنہا آدمی ہیں جانے کس طرح پیٹ کاٹ کر یہاں وہاں سے چندہ کرکے گورنر ہاؤس کے سامنے ایک ہال میں سقوط ڈھاکہ پر سمینار منعقد کراتے ہیں جہاں پاکستان کے اس بازو کا ذکر ہوتا ہے جسے کاٹ کر علیحدہ کر دیا گیا، سولہ دسمبر کی اس منحوس شام کی بات ہوتی ہے جس کی نحوست دنیاکے سب سے بڑے اسلامی ملک کو آدھا کرگئی ،ڈھاکہ کے پریڈ گراؤنڈ میں شکست تسلیم کر لی گئی اور بنگلہ دیش کا جھنڈا لہرا دیا گیا،حیدر علی حیدر کی یہی بڑی خدمت ہے کہ وہ سقوط کی شام غریباں تومنا لیتے ہیں ورنہ لوگوں کے پاس ایسے کاموں کے لئے وقت کہاں۔

گردش و ایااور ماہ و سال کا پیمانہ کلینڈر جب اپنے آخری ورق پر پہنچ کر 16کے ہندسے کی طرف بڑھتا ہے تو سیلانی کے دل کی عجیب کیفیت ہونے لگتی ہے بے چینی اضطراب بڑھنے لگتا ہے اندر کی پاکستانیت پاکستان کے نصف ہونے کا سوال اٹھانے لگتی ہے اور سیلانی قلم اٹھا کر یہ سوال سب کے سامنے رکھ دیتا ہے آج بھی ایسی ہی کچھ کیفیت تھی اس نے چاہا کہ ڈھاکہ میں محصورین پاکستان کے بزرگ راہنما عبدالجبارخان صاحب کو کال کرلے لیکن سچی بات ہے ہمت نہیں ہوئی سال بھر پہلے بھی جب سیلانی کی خان صاحب سے بات ہوئی تو انہوں نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا جو بالکل بجا تھا پاکستان کی آس میں ان کا توانا وجود سفر کرتے کرتے جھریوں بھرا کمزور بدن بن چکا ہے، سینتالیس برس ہو رہے ہیں، نصف صدی ہونے کو ہے اور انکا انتظار ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا،بحیثیت پاکستانی سیلانی میں ہمت نہ تھی کہ ان سے بات کرتا لیکن کسی سے بات تو کرنی تھی جی کا بوجھ بھی تو ہلکا کرنا تھا اب سوال یہ تھا کہ کس سے بات کی جائے کون ہے جو اس پامال موضوع پر بات کرتا حال میں الجھے ہوئے بے حال لوگوں میں کس کے پاس گڑے مردے اکھاڑنے کا وقت ہے وہ کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر حیدر علی حیدر صاحب کا نمبر ڈائل کرنے لگاانہوں نے دوسری کال پر ہی فون اٹھالیا کچھ دیر رسمی گفتگو ہوتی رہی، پھر سیلانی نے عرض کیا ’’سر! وہی دسمبر اور وہی تاریخیں۔۔۔۔‘‘

’’ہاں! وہی دسمبر اور وہی تاریخیں‘‘ پھرٹھنڈی سانس بھر کر کہنے لگے ’’کاش کہ یہ سولہ دسمبر کی تاریخ نہ آئی ہوتی۔ مجھے اس ہندسے سے نفرت سی ہے، زہر لگتا ہے یہ سولہ کا ہندسہ۔ اتفاق کی بات ہے کہ میں اس وقت سولہ برس کا ہی تھا اور وہیں ڈھاکہ میں تھا، اب بھی میری آنکھوں کے سامنے یہ سارے مناظر کسی فلم کی طرح گھوم رہے ہیں آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ میری اس وقت کیا کیفیت ہے۔‘‘ وہ خاموش ہو گئے جیسے لفظ ترتیب دے رہے ہوں یا سوچ رہے ہوں کہ کہاں سے شروع کروں، تھوڑی دیر بعد ان کی آواز سنائی دی:

یہ بھی پڑھیں:   مایوس تو نہیں امید سحر سے ہم - نگہت فرمان

’’میں رضاکار تھا۔ جو پاک فوج کے ساتھ مل کر لڑ رہے تھے انہیں رضاکار کہا جاتا تھا۔ میں کمپنی کمانڈر بھی تھا، میرے ساتھ دو سو سے زائد محب وطن بنگالی بہاری نوجوان تھے، ان میں اکثریت کا تعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے تھا، ہم وہاں فوج کی آنکھیں اور کان تھے، مقامی فوجی نے بغاوت کر دی تھی، وہ مکتی باہنی والوں سے مل گئے تھے، غدار اور محب وطن کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا، ایسے میں ہم نے فوج کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور ان کے کیمپوں میں پہنچ گئے۔ ہمیں مقامی حالات کا بھی علم تھا اور راستوں، علاقوں، مقامات کا بھی، ہمیں وہ رضاکار کے نام سے پکارتے تھے یا البدر کے نام سے، یہ نام اب وہاں گالی بن گیا ہے، کسی پر پھبتی کسنی ہو، گالی دینی ہو تو اسے رضاکار کہہ دیا جاتا ہے، ہم مکتی باہنی اور قوم پرست بنگالیوں کے نزدیک غدار، دلال اور رضاکار تھے لیکن ہمیں اس کی پرواہ کب تھی؟ پرواہ ہوتی تو پاکستان کا جھنڈا پکڑ کر فوج کے ساتھ کھڑے ہوتے؟ ہم نے فوج کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملا کر آپریشن کیے۔ میں کمپنی کمانڈر تھا، مجھے جو حکم ملتا وہ جیسے میرے لیے فرض ہوجاتا اور ہم ویسے ہی عمل کرتے جیسے فوج کے ڈسپلن میں عمل کیا جاتا ہے۔ فوج کی انٹیلی جنس کا بھی ہم پر ہی بڑی حد تک انحصار تھا، مقامی ہونے کی وجہ سے ہمارے ہاتھ بڑی اہم اطلاعات لگتی تھیں، آپ یقین نہیں کرو گے البدر میں ایسے ایسے محب وطن بھی تھے کہ جنھوں نے مکتی باہنی میں اپنے سگے رشتہ داروں کو پکڑوا دیا، انہیں پتہ چلا کہ فلاں فلاں جگہ مکتی باہنی کی میٹنگ ہونے والی ہے اور وہاں کسی کارروائی کی پلاننگ کی جائے گی تو وہ سیدھا فوجی کیمپ پہنچ گئے، ان کی اطلاعات پرفوج کارروائی کرتی، گرفتاریاں ہوتیں جن میں ان کے رشتہ دار بھی ہوتے تھے۔ انہوں نے پاکستان کے لیے رشتوں کی قربانی بھی دے ڈالی‘‘۔

حیدر علی حیدر کوئی افسانوی قصہ گھڑ رہے تھے نہ کوئی فرضی کہانی سنا رہے تھے۔ سلیم منصور خالد کی کتاب ’’البدر‘‘ ایسے ہی دلدوز واقعات سے بھری ہوئی ہے جس میں ایک بھائی نے سگے بھائی کو اس لیے گرفتار کرا دیا کہ وہ جئے بنگلہ کا نعرہ لگا کر مکتی باہنی والوں سے جا ملا تھا اور تخریبی گوریلا کارروائیوں میں مصروف رہتا تھا۔ انہوں نے پاکستان کے لیے خون کا رشتہ بھی قربان کر دیا۔ سولہ دسمبر کے بعد مکتی باہنی کے بھارتی تربیت یافتہ ’’آزادی کے سپاہیوں‘‘ نے ان ’’غداروں‘‘ کو چوکوں چوراہوں پر لے جا کر سڑکوں پر لٹا لٹا کر سینوں میں سنگینیں گھونپیں۔ بھارتی نژاد امریکی مصنفہ شرمیلا بوس کی کتاب Dead Reckoning: Memories of the 1971 Bangladesh War پڑھ لیجیے، آنکھیں کھل جائیں گی۔

کمپنی کمانڈر حیدر علی حیدر بتانے لگے ’’ہمیں تو سقوط پاکستان کا علم ہی نہ تھا، ہم سے تووائرلیس پر یہ کہا گیا کہ فائر بندی ہوگئی ہے، وہ تو بعد میں جب ہماری پکڑ دھکڑ شروع ہوئی تو پتہ چلا کہ ہتھیار ڈال دیے گئے، مشرقی پاکستان اب بنگلہ دیش ہو چکا ہے اور ہم غدار قرار دیے جاچکے ہیں، ہمیں پکڑ کر کیمپ میں ڈال دیا گیا دو سال تو قیدی رہے، میرے ساتھ ظہیر خان بھی تھے جو بعد میں پاکستان ٹیلی وژن کے جنرل منیجر ہوئے‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستانی جھنڈے کی کہانی - راحت جبین

سقوط کے بعد حیدر علی حیدر کی کہانی سننے کے لیے بڑا دل چاہیے۔ مکتی باہنی اور بھارتی فوج کے سر چڑھے بنگالی قوم پرستوں نے کس طرح پاکستان سے محبت کرنے والوں کا صفایا کیا، ان کے گھر بار لوٹے، ان کے باعصمت بیٹیوں کو اٹھا اٹھا کر لے گئے، اور پھر جی بھرنے کے بعد کاٹ کاٹ کر کیچڑ میں پھینک دیا گیا۔ غلط پالیسیوں اور کمزور حکمت عملی کا نتیجہ ایسا ہی نکلنا تھا، بدمست فاتح شہر فتح کرنے کے بعد ایسا ہی کرتے ہیں۔

حیدر علی حیدر نے بتایا کہ وہ سولہ دسمبر کو کراچی میں سقوط پاکستان پر سمینار کرنے جا رہے ہیں، جس میں پاکستان سے محبت کے جرم میں دو برس قید کاٹنے والے ظہیر خان بھی آ رہے ہیں۔ یہ وہ ظہیر خان ہیں جو ان کے ساتھ جنگی قیدی بنائے گئے اور بعد میں وطن پہنچنے پر پاکستان ٹیلی وژن کے جنرل منیجر رہے۔ انہوں نے سیلانی کو بھی شرکت کی دعوت دی۔ وہ کراچی میں ہوتا تو ان سچے اور پاکستان کے لیے کچھ کر گزرنے والوں کی محفل میں ضرور شریک ہوتا اور اسے باعث سعادت سمجھتا لیکن وہ شہر اقتدار میں ہے جہاں رہنے والے حاکم وقت کو سرحد پار کی سکھ اقلیت تو یاد رہ جاتی ہے لیکن سابقہ مشرقی پاکستان کے مہاجر کیمپوں میں پروان چڑھنے والے پاکستانیوں کی پانچویں نسل یاد نہیں۔ حاکم وقت پڑوسیوں کے لیے کرتار پور کی سرحد کھول دیتا ہے اور صلاح دیتا ہے کہ ماضی سے آگے بڑھ کر شیر وشکر ہو جائیں، جب فرانس اور جرمنی یونین بنا سکتے ہیں تو بھارت اور پاکستان ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟ وزیر اعظم صاحب کا یہ بیان اکھنڈ بھارت کے نظریے سے کتناقریب اور کتنے فاصلے پر ہے، اس سے قطع نظر روشن دن کی طرح سچ یہ ہے کہ بھارت کا مسئلہ پاکستان نہیں اسلام ہے۔ انتہاپسندہندو اس پاکستان کو کبھی ماننے کے لیے تیار نہیں وہ تو اپنی سرحدوں میں اسلامی شہروں کے نام تک برداشت نہیں پارہا۔ جس بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے سولہ دسمبر کے بعد فخر، غرور اور خوشی سے بھرے ایوان میں نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبونے کا اعلان کیا تھا، آج اسی بھارت میں اسلامی ناموں کے شہروں کی شناخت بدلی جا رہی ہے۔ 1583عیسوی میں اکبر بادشاہ کے دور میں آباد ہونے والے شہر الہ آباد کا اسلامی نام تبدیل کر کے پریاگراج رکھنے کا اعلان کیاجا رہا ہے اور بات یہیں تک نہیں رک رہی، اب اعظم گڑھ اریام گڑھ ہونے جا رہا ہے۔ برصغیر کی عظیم درسگاہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے لفظ مسلم بھی کھرچنے کی تیاری کر لی گئی ہے۔ پڑوسیوں کی یہ انتہاپسندآنہ سوچ صاف بتا رہی ہے کہ وہ ہمیں اک اور ’’سولہ دسمبر‘‘ دینا چاہتے ہیں، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقوں میں قوم پرستی کے لبادے میں دراصل چانکیہ کا فلسفہ کام کر رہا ہے۔ خدا نہ کرے کہ کسی اور فیض احمد فیض کو ’’ہم کہ ٹھہرے اجنبی ۔۔۔‘‘ کہنی پڑے اور سیلانی کبھی کسی اور حیدر علی حیدر کو کال کرے اور وہ افسردگی سے اسے کسی سمینار میں شرکت کی دعوت دے رہا ہو۔ اللہ ہمیں عقل دے دشمن کی چالیں سمجھنے اور جالوں سے بچنے کی حکمت دے۔ سیلانی یہ سوچتے ہوئے اپنے لیپ ٹاپ پر ڈھیروں افسردگی لیے سولہ دسمبرکی شام بنگلہ دیش میں پاکستانی پرچم اترتے دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.