سقوط دلی سے سقوط ڈھاکہ تک - نصراللہ گورایہ

برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ سقوط دلی اور سقوط ڈھاکہ اس کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ہیں۔ اگر دلی کا سقوط وقوع پذیر نہ ہوتا تو ڈھاکہ نہ ڈوبتا اور برصغیر کی تاریخ کچھ اور ہوتی، لیکن ہم تاریخ کی اس تلخ حقیقت سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ اس میں ’’اگر‘‘ ’’مگر‘‘ کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی، جو ہوا صرف وہی حقیقت ہوتی ہے، چاہے تلخ ہو یا شیریں۔

یہ حقیقت ہے کہ انگریز برصغیر میں ایک وبا کی شکل میں پھیل چکے تھے۔ 1857ء کی جنگ آزادی سے بہت پہلے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر عملاً اپنے محل تک محدود ہو کر رہ گیا تھا۔ ایسے میں جنرل بخت خان روہیلہ مسلمانوں کی مزاحمتی تحریک کا استعارہ بن کر سامنے آیا، جو اپنے عزم و ارادہ میں بےپناہ صلاحیتوں کا مالک تھا، مگر بہادر شاہ ظفر اپنی عمر اور ارادے دونوں کے اعتبار سے بڑھاپے کا شکار ہو گیا تھا۔ جنرل بخت خان نے بہادر شاہ ظفر سے قلعے میں ایک عام سپاہی بن کر ملاقات کی اور یہ باور کروایا کہ پورا ہندوستان آج بھی آپ کے ساتھ ہے، آپ باہر نکلیں اور مزاحمتی تحریک کی قیادت کریں تو امید واثق ہے کہ ہم انگریزوں کو شکست فاش سے دوچار کر دیں گے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بہادر شاہ ظفر نے جنرل بخت خان کی بات سے نہ صرف اتفاق کیا بلکہ اس کی مدد کا وعدہ بھی کیا لیکن یہاں پر تاریخ کا ایک اور جبر ہمارے سامنے آتا ہے کہ بہادر شاہ ظفر کا وزیراعظم تک انگریزوں سے ملا ہوا تھا۔ اس نے بہادر شاہ ظفر کو یقین دلایا کہ انگریزوں کی طرف سے آپ کے لیے اماں ہی اماں ہے۔ انگریز آپ کو فلاں فلاں مراعات دینے کے لیے تیار ہیں، لہذا آپ بخت خان کا ساتھ نہ دیں۔ صدموں سے نڈھال بوڑھا شاعر ان تمام محلاتی سازشوں کا شکار ہوا جو تاریخ میں بالعموم ہوتی چلا آ رہی ہیں۔ یوں برصغیر پر انگریزوں کی حکومت بلا شرکت غیر قائم ہوگئی، جس کا تسلسل آج تک جاری ہے۔ اگرچہ حکمرانی کے طور طریقے بدل چکے ہیں اور بدیسی انگریزوں کی جگہ دیسیوں نے لے لی ہے لیکن عملاً انگریز کی ہی حکومت آج بھی برصغیر پہ قائم و دائم ہے۔

تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں کہ انسان بھوک برداشت کر لیتا ہے لیکن جب اس پر ذلت و رسوائی مسلط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ مزاحمت کرتا ہے۔ اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی بھارت کی مدد کے بغیر ممکن نہ تھی لیکن بھارت نے پاکستان کو تسلیم کب کیا تھا؟ تاریخ کا وہ کون سا لمحہ ہے کہ جب بھارت نے پاکستان کے خلاف سازش نہ کی ہو، چاہے آزادی کے وقت باؤنڈری کمیشن کا معاملہ ہو، کشمیر کا مسئلہ ہو، چاہے مہاجرین کی ہجرت ہو یا پاکستان کے تزویراتی تعلقات، پچھلے ستر سال کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ پاکستان کو نیچا دکھانے کے معاملے میں دنیا بھر میں بھارت ہمیشہ اول نمبر پر ہی آتا ہے۔ لیکن اگر یہ کارگزاری ساری بھارت کے حصے میں آتی تو شاید معاملہ اتنا تکلیف دہ نہ ہوتا۔ لیکن کیا کیا جائے کہ پیچھے مڑ کر جب دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان میں بہت سارے چہرے اور کردار ایسے ہیں کہ جو اس وقت بھی دشمن کو ہی مضبوط کر رہے تھے اور آج بھی اپنے ہی ملک و قوم کو فتح کرنے کی دھن میں سوار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم آئین سے فٹبال کھیلیں؟چیف جسٹس

مشرقی پاکستان ہماری تاریخ کا وہ اہم حصہ ہے کہ جس کو ہم جتنا بھولنے کی کوشش کرتے ہیں، موجودہ دور کے حکمرانوں کے کرتوت اور کارنامے ہمیں اتنا ہی یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیں کہ نہیں، ہم نے آج بھی تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے۔ دسمبر کا مہینہ آتے ہی ان زخموں کو پھر سے تازہ کر دیتا ہے، اور اپنوں کے نشتر ان زخموں کو بھلا کب بھرنے دیتے ہیں۔ مشرقی پاکستان کی آبادی 54 فیصد اور مغربی پاکستان کی آبادی 46 فیصد تھی، مگر اہل بنگال سے کیا گیا کہ وہ وسائل کی تقسیم میں ’’مساوات‘‘ کا اصول اپنائیں۔ یعنی اپنے قومی وسائل کے 4 فیصد حصے سے دستبردار ہو کر اسے مغربی پاکستان کو ہدیتاً تحفتاً پیش کر دیں ۔ 1954ء میں مشرقی پاکستان کی اسمبلی میں ایسی تقاریر ریکارڈ کی گئیں کہ جن سے اگر سبق حاصل کیا جاتا تو شاید تاریخ مختلف ہوتی۔ پاکستان کی فوج میں بھرتی کے لیے مارشل ریس کا نظریہ ایجاد کیا گیا اور یہ دنیا کا انوکھا فلسفہ بلکہ فلسفے کی چٹنی تیار کی گئی کہ فوج میں شمولیت کے لیے قد انتہائی اہم اور ناگزیر پہلو ہے۔ لہذا دماغ بےشک خالی ہو، قد لازماً خوبصورت اور دراز ہونا چاہیے۔ 1970ء میں بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر ہونے والے انتخابات میں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے مجموعی طور پر اکثریت حاصل کی، لہذا اصول، قاعدے، قانون اور ضابطے کے مطابق یہ ضروری تھا کہ اقتدار مجیب الرحمن کے حوالے کیا جاتا لیکن ایسانہ کیا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ’’اُدھر تم، اِدھر ہم‘‘ کا نعرہ لگا کر مشرقی اور مغربی پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ جنرل یحییٰ اور جنرل ٹکا خان کا خیال تھا کہ وہ بنگالیوں کو فتح کر لیں گے، جنرل نیازی فرما رہے تھے کہ ہم بنگالیوں کی نسل بدل ڈالیں گے۔ قبلہ صدیق سالک جو خیر سے خود بھی فوجی تھے، اپنی تصنیف ’’میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘‘ میں بنگالیوں کی تذلیل کے کئی واقعات درج کیے ہیں۔

سقوط ڈھاکہ کا تعلق صرف ہمارے ماضی سے نہیں بلکہ حال سے بھی ہے اور اس سے زیادہ مستقبل سے، لیکن ہمارے چلن اور لچھن بتاتے ہیں کہ ہم آج بھی اسی روش پر قائم ہیں۔ آج نصف صدی گزرنے کے بعد بھی پاکستان سے محبت میرا جرم ہے اور مجھے آج بھی محب وطن کا سرٹیفیکیٹ لینے کے لیے کچھ اداروں کی تصدیق چاہیے ہوتی ہے۔ 1970ء کے الیکشن کی طرح 2018ء میں عوامی خواہشات اور مینڈیٹ کا جس طرح مذاق اڑایا گیا، وہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔ بالخصوص نظریہ پاکستان اور اسلام سے محبت کرنے والوں کو پارلیمنٹ سے باہر رکھنے کے لیے جو ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، وہ آج طشت از بام ہو چکی ہے اور جن کو بڑے تزک و احتشام کے ساتھ اقتدار میں لائے تھے، وہ جس بری طرح ناکام ہوئے ہیں، وہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ اسلام جو کہ 1973ء کے آئین کے مطابق ہماری سیاسی و فکری سوچ کا مرکز و محور ہونا چاہیے تھا، کو ’’آئین کا قید خانہ‘‘ بنا کر رکھ دیا ہے اور وطن عزیز میں شعائر اسلام کا جس طرح مذاق اڑایا جا رہا ہے، وہ بہت تکلیف دہ عمل ہے۔ پارلیمنٹ عملاً ایک ناکارہ کارخانہ کی شکل اختیار کر چکی ہے کہ جس کے ممبران کو ملکی صورتحال سے قطعاً کرنی دلچسپی نہیں ۔ اختیارات کا منبع اور محور آج بھی چند خاندان اور چند ادارے ہیں کہ جن کے اشاروں پر چشم زدن میں لوگ غائب ہو جاتے ہیں۔ جن کی پسند اور ناپسند کی بنیاد پر اقتدار کا فیصلہ ہوتا ہے۔ یہی وہ طرز عمل تھا کہ جس کی بنیاد پر ایک ملک ٹوٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا، 90 ہزار فوج نے دشمن کے سامنے ہتھیار پھینکے، لیکن سیکھا کچھ بھی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر یہ نام سنتے ہی دل غم سے پھٹ پڑتا ہے۔-علی رضا

آج بھی غربت کے سائے میرے دیس کی عوام کا تعاقب کرتے ہیں، آج بھی میرے دیس کے آئین کا رکھوالا جب پانی کی رکھوالی کے لیے کشکول لے کر نکلتا ہے تو میں سوچنے لگتا ہوں کہ ہم نے تاریخ سے کیا سیکھا؟ جب میرا وزیراعظم انڈے اور مرغی کی معیشت کرنا چاہتا ہے تو دنیا ڈالر کو مزید مہنگا کر کے میری طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھتی ہے تو میں اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ ہم نے تاریخ سے کیا سیکھا؟ جب میرا وزیراعظم کاسۂ گدائی لے کر دربدر پھرتا ہے اور جو دے اس کا بھی بھلا جو نہ دے اس کا بھی بھلا، تو میں سوچتا ہوں کہ ہم نے تاریخ سے کیا سیکھا؟ تاریخ لکھنے والے، تاریخ بنانے والے، تاریخ کی نوک پلک سنوارنے والے اور تاریخ کی شان و شوکت بڑھانے والے آج اتنے بے بس! کہ نظریں آسمان کی طرف اٹھ جاتی ہیں اور اشکوں کی ایک لڑی ہے کہ جو رکنے کا نام نہیں لیتی۔ 16دسمبر کی ایک ایسی ہی شام تھی کہ جب 90 ہزار فوج نے شکست کو اپنے ماتھے کا جھومر بنایا اور نظریہ اسلام کی بنیاد پر بننے والی دنیا کی دوسری مملکت (پہلی ریاست مدینہ ہے) کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ لیکن تایخ کا پہیہ چلتا رہتا ہے اور تاریخی عوامل اور حادثات سے سیکھنے والے دنیا کی امامت و قیادت پر فائز ہو جاتے ہیں، اور نفس اور ذات کی گمراہیوں سے ہی آگے نہیں بڑھ پاتے تو یقینا وہ تایخ کی دھول میں گم ہو جاتے ہیں۔

(نصراللہ گورایہ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے سابق ناظم اعلی ہیں)