موت کی پرواز - عزیر سرویا

جواں عمری کی موت، بہت اندر، روح کے کسی پوشیدہ، تاریک، سنسان اور پُر سکوت گوشے میں ایک شور سا برپا کر دیتی ہے۔ جیسے خالی کمرے میں ایک چیخ کی گونج بہت دیر تک کانوں سے ٹکراتی رہتی ہے۔ ہم (ڈاکٹر) روز موت کو اپنے سامنے رقص کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، ایک ایک مرحلہ جس سے ہو کر انسانی جسم زندگی سے موت کی وادی میں اترتا ہے ہمیں بار بار کے مشاہدے سے ازبر ہو چکا ہوتا ہے۔

کچھ انسان یک دم آسانی سے چلے جاتے ہیں، یونہی باتیں کرتے کرتے، اللہ کی نعمتوں کا لطف لیتے ہوئے، یا بس خاموش لیٹے ہوئے۔ ایک لمحہ پہلے جو جسم زندہ تھا وہ مردہ ہو جاتا ہے۔ جیسے کوئی بٹن دبا کے بلب بجھا دیتا ہے۔ مگر کچھ انسان ہچکیاں لے لے کر، ہانپتے ہوئے، واضح اذیت کے آثار آنکھوں میں لیے درد کے ساتھ سسکتے ہوئے آہستہ آہستہ دم توڑتے ہیں، جیسے ایک ایک خلیے کو لیموں کی طرح نچوڑ نچوڑ کر اس میں سے زندگی کا رَس کشید کیا جا رہا ہو۔ موت ان پر مرحلہ وار وارد ہوتی ہے، ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ شاید آدھا پونا گھنٹا موت اور زندگی کی اس درمیانی کیفیت میں گزارے گا۔ ہم اس کے پاس کھڑے عزیزوں کو تفصیلاً بتاتے بھی ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔

ساتھ ہی ساتھ دیکھتے رہتے ہیں کہ کیسے بے دھیانی اور بغیر کسی کاوش کے غیر ارادی طور پے ایک خودکار عمل کے تحت ساری زندگی سانس لینے والا آدمی اب آکسیجن کے ایک ایک ذرے کو فضا میں سے اس طرح کھینچ کر اندر پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے جیسے جانور کی کھال کو ہاتھوں سے اُدھیڑ کر گوشت تک پہنچنے کی سعی کی جاتی ہے۔

اس ساری روزمرہ کی کہانی میں ٹویسٹ تب آتا ہے جب جانے والا / والی نوجوان ہو۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ ہم ایک ایسا جسم دیکھ رہے ہوتے ہیں جو پہلے ہی سے کمزور، لاغر یا کئی سالوں کی ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہ ہو بلکہ بناوٹ کے اعتبار سے اس وقت (یعنی جوانی میں) اپنی بہترین پرفارمنس کے لیے ڈیزائن ہوا ہو۔ ایک برانڈ نیو ڈبا بند آئی فون جس کا تقریباً سارا ہارڈویئر ٹھیک ہو پر کسی معمولی سافٹ ویئر خرابی کی وجہ سے وہ آن نا ہو پائے۔ وہ تمام ممکنات جو انسانی زندگی میں ہوتے ہیں: سکول، وہاں کے دوست، اساتذہ، پڑھائی، کارٹون ویڈیو گیمز، پھر کالج، دل کی دھڑکنیں جنس مخالف کو دیکھ کر بڑھنے کا دور، یونیورسٹی، اچھی ڈگری کا خمار، پہلی تنخواہ، والدین کی آنکھوں میں اپنی محنت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ناز و محبت کی جھلک، عشق، رفیق حیات، اپنے جسم سے ایک نئے جسم کی تخلیق ہوتے دیکھنا اور اپنی ہستی کا حصہ دار دنیا میں آتے دیکھنا، پھر یہی سب دور اس پے گزرتے دیکھنا.

ان تمام ممکنات کو کسی ایک اسٹیج پر موت کا فُل اسٹاپ لگتے آپ اپنے سامنے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کبھی کوئی آٹھ سال بچہ، کوئی پندرہ سال کی لڑکی، تو کوئی پچیس سال کا نوجوان، اوپر کی کسی ایک اسٹیج پر اس سے آگے کی ساری لذتیں تمام کرنے موت آ دھمکتی ہے۔ شعر کا مصرعہ ادھورا رہ جاتا ہے۔ شاہکار تصویر میں فقط جزوی رنگ۔ دھن درمیان میں ٹوٹی ہوئی۔ پھر اس کے بعد سے ڈائننگ ٹیبل پے ایک خالی کرسی، ایک خالی بستر، ایک خالی کمرہ، ایک الماری جس میں بھرے تمام کپڑے اب کسی کے جسم پر نہیں سجیں گے۔ موت اور زندگی کے بیچ کی ان گھڑیوں میں کیا کیا جھکڑ ہیں جو دماغ میں چلتے ہیں۔ رات کے کسی پچھلے پہر ڈیتھ سرٹیفیکیٹ پر سائن کر کے میت حوالے کر چکنے کے بعد بستر پر لیٹ کر خلا میں کیسی کیسی موویز آنکھوں کے سامنے چلتی ہیں۔ اور پھر کسی وقت آنکھ لگتی ہے، جاگنے کے بعد روح کی عمارت میں ایک نئی دراڑ کے ساتھ ہم دوبارہ کاروبار زیست کی جانب آ مُڑتے ہیں، اگلی دراڑ اور اگلی چیخ تک۔۔۔۔

“دیکھو جب جان گلے تک پہنچ جائے۔ اور کہا جائے کہ کون ہے علاج کرنے والا۔ اور (جاں بلب) سمجھ لے کہ یہ وقت جدائی ہے۔ اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹنے لگے۔ اس دن تجھ کو اپنے پروردگار کی طرف چلنا ہے۔”
القرآن (سورہ 75)

ٹیگز