زندہ لاشیں - احسان کوہاٹی

سیلانی این جی اوز اور سرحد پار کے پروپیگنڈے کے شکار ایک نوجوان صحافی کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ اتنا آسان نہیں ہے اور ایسا ہرگز نہیں ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ قرار دیے جانے والوں کو حساس اداروں نے گھر سے اٹھا کر اپنا مہمان بنا لیا ہو۔ سیلانی نے اسے چینی قونصل خانے پر بلوچ لبریش آرمی کے حملے کی مثال دیتے ہوئے مارے جانے والے تین میں سے ایک عبدالرزاق کا نام لیا تو وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔ سیلانی نے کہا کہ اب ادھر ادھر کی بات نہیں ٹو دی پوائنٹ بات کرو کہ یہ صاحب بھی تو لاپتہ قرار دیے جاتے تھے ناں، یہ کہاں سے کلاشنکوف لے کر چینی قونصل خانے کی طرف دوڑ پڑے ؟ یہ کہاں تھے کس کے پاس تھے اور کون اسے ٹریننگ دے رہا تھا؟ اس اللہ کے بندے نے الٹا سیلانی سے یہی سوال دوہرا دیے کہ آپ الزام لگا رہے ہیں تو آپ ہی بتا دیں۔ سیلانی نے جل کر کہا یہ وہیں تھے جہاں دس دسمبر کو حیربیار مری جا رہا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے دہلی اسٹڈی گروپ کوانسانی حقوق کے عالمی دن پر سمینار نئی دہلی میں سمینار سے خطاب کے لیے بلوچ لبریشن آرمی کے راہنما حیر بیار مری کے سوا کوئی دوجا دنیا میں نہیں ملا تھا۔ سیلانی کی اس بات پر دوسری طرف سے ایسی خامشی چھائی کہ پھر لائن ہی کٹ گئی۔

سیلانی نے فون ایک طرف رکھا اور بڑبڑاتے ہوئے لیپ ٹاپ گود میں لے لیا اور ابھی اپنی ای میل کھولی ہی تھی کہ اسے فیس بک کے میسنجرپر سمندر پار سلیمہ صاحبہ کا پیغام موصول ہوا۔ سیلانی کو یاد آگیا کہ اس نے سلیمہ صاحبہ کو کال کرنی ہے اور وہ اس کی منتظر ہیں۔ اس نے ایک بار پھرلیپ ٹاپ ایک طرف رکھ دیا اور کال ملا کر سلیمہ صاحبہ سے بات کرنے لگا۔ سلیمہ صاحبہ نے اسے زندہ درگور ہونے والے ایک انسان کی کہانی سنانی تھی اور اب وہ کہانی سیلانی کے گوش گزار کر رہی تھیں:

’’آپا ہمارے خاندان کی سب سے خوبصورت لڑکی تھیں، سرخ و سپید رنگت، بڑی بڑی آنکھیں، پتلی سی کھڑی ناک، صراحی دار گردن اور پھر یہ موٹی سیاہ چٹیا جو بھی آپا کو دیکھتا دیکھتا ہی رہ جاتا۔ ذرا دیر کو جو دھوپ میں کھڑی ہو جاتیں، ان کے گال تمتمانے لگ جاتے۔ آپا کے ہاتھ پاؤں بہت خوبصورت تھے، لانبی لانبی مخروطی انگلیاں اور پاؤں تو ایسے جیسے کبھی زمین پر رکھے ہی نہ ہوں، گلابی گابی اور بے داغ جیسے کسی نوزائیدہ بچے کے ہوں، ایک بار امی نے انہیں حیدری کی مارکیٹ سے کالے مخمل کے سینڈل دلا دیے، شاید خاندان میں کسی کی شادی تھی آپا وہ سینڈل پہن کر کیا گئیں کہ سب مڑ مڑ کر ان کے پاؤں دیکھنے لگے، کیا لڑکیاں اور کیا لڑکے، خاندان کی بڑی بوڑھیوں نے بہانوں بہانوں سے اپنے بیٹوں بھائیوں کو بلانا شروع کر دیا کہ ایک نظر آپا کو دکھا کر رشتے کی بات ڈال دیں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب شادی بیاہ میں مردانہ اور زنانہ انتظام علیحدہ ہوا کرتا تھا، آج کل کی طرح نامحرم منہ اٹھا کر گھرمیں نہیں گھستے تھے۔‘‘

افسردگی اور یاسیت لیے یہ کہانی سننے سے پہلے سلیمہ باجی کے بارے میں تھوڑا سا جان لیں۔ یہ سیلانی کی خاموش قارئین میں سے ہیں، سات سمندر پار انگلستان میں رہتی ہیں اور فیس بک پر سیلانی کے حلقہء احباب میں شامل ہیں۔ سیلانی کے بلاگز پر کبھی کبھار تبصرہ کر کے اپنی موجودگی کا احساس بھی دلاتی رہتی ہیں۔ ایک دن کہنے لگیں، سیلانی بھائی! ایک تجویز ہے کہ آپ ان خواتین اور مردوں پر کالموں کی سیریز لکھیں جن کی ان کے خاندان اور سماج کی وجہ سے شادی نہیں ہو پاتی، وہ کس طرح کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، ایسے لوگ یا تو نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا برائیوں اور خرابیوں کی طرف چلے جاتے ہیں، آپ ان کے بارے میں ضرور لکھیے گا۔‘‘

اس تجویز کے جواب میں سیلانی نے سلیمہ صاحبہ سے پوچھا ’’یقیننا آپ کے پاس بھی کوئی کہانی تو ہوگی جبھی آپ نے مجھ سے کہا بھی، ویسے آپ خود کیوں نہیں لکھ لیتیں؟‘‘
’’مجھے لکھنا کب آتا ہے۔‘‘ انہوں نے جان چھڑا لی، لیکن اس تجویز کا پس منظر جاننے کے لیے سیلانی کا اصرار اس وقت تک جاری رہا ،جب تک سیلانی کا آپا سے غائبانہ تعارف نہیں ہوا۔ سلیمہ باجی آپا ہی کی چھوٹی بہن ہیں جو آج کراچی میں بستر پر محتاجگی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کی دکھ بھری زندگی سلیمہ باجی کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ تقدیر انہیں سات سمندر پار لے جا چکی ہے لیکن یہاں سے جاتے ہوئے بھی یہاں کے دکھ ان کے ساتھ گئے ہیں۔ کاش زائد سامان کا کہہ کر کوئی یہ دکھ بھی اتار لیتا۔ سیلانی کے اصرار پر سلیمہ صاحبہ نے وقت طے کیا اور کہا کہ وہ اس وقت ان کی کال کی منتظر رہیں گی۔ حسب عادت سیلانی بھول گیا جس پر انھوں نے خود ہی کال کر لی اور اب آپا کی کہانی سنا رہی تھیں جو شاید ہر تیسرے اور چوتھے گھر کی کہانی ہے، جہاں ایسی آپائیں حسرت و یاس کی تصویر بنی کسی کونے میں پڑی رہتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عورتوں میں ڈیپریشن: وجوہات اور علاج - حافظ محمد زبیر

سلیمہ صاحبہ کی آواز آئی:
’’ہم مڈل کلاس گھرانے سے ہیں، ہم پانچوں بہنیں تھیں، بھائی کوئی نہیں تھا۔ والد صاحب نے جو کمایا تھا بس اس سے ہمیں پڑھایا لکھایا اور اتنا کیا کہ گھر لے لیا، جہاں عزت سے گزر بسر ہو رہی تھی۔ وقت پر لگا کر اڑنے لگا، ہم بچپن کی حدود سے لڑکپن کے آنگن میں آگئے اور سمجھ دار بھی ہونے لگے۔ اس وقت آپا کالج پڑھتی تھیں، ہم سب بہنیں آگے پیچھے کی تھیں اور سب ہی اسکول کالج جاتی تھیں۔ آپا نے انٹر کیا اور پھر بی اے میں داخلہ لے لیا، اسی دوران ان کے رشتے کی بات ٹھہر گئی۔ یہ ہمارے دور پار کے جاننے والے تھے، لڑکا ملک سے باہر ہوتا تھا، مالی لحاظ سے ہم سے اچھے تھے، ہر لحاظ سے مناسب رشتہ تھا، انکار کی کوئی وجہ نہ تھی سو ہاں کر دی گئی۔ ہمارے گھر کی پہلے خوشی تھی، اس لیے محدود بجٹ کے ساتھ خوب ہلا گلا کیا گیا، ساری رسمیں ہوئیں، خوب رونق رہی۔ ہمیں دولہا بھائی بھی اچھے لگے، چپ چپ سے خاموش طبع تھے، مگر مجھے جانے کیوں ان کی چپ کچھ عجیب سی لگی، میں نے بہنوں سے ذکر بھی کیا کہ شادی بیاہ پر تو سب ہی چہکنے لگتے ہیں، ہمارے دولہا بھائی تو مجال ہے ذرا مسکرا جائیں، میری بہنیں میری بات کا کیا جواب دیتیں یا کیا نوٹس لیتیں، بات آئی گئی ہوگئی اور خیر سے شادی بھی ہو گئی۔

آپا اپنے گھر کی ہوگئیں، ولیمے اور دعوتوں سے فراغت کے بعد آپا پہلی بار میکے آئیں تو لگا کہ دولہا بھائی کی چپ انھوں نے لے لی ہے، ان کے چہرے پر وہ رونق نہیں تھی جو دولہنوں کا خاصہ ہوتا ہے، وہ چپ چپ سی تھیں، ان کی یہ چپ مجھے عجیب سی لگی، میں نے کریدنا چاہا تو اور بہنوں نے مجھے وہاں سے بھگا دیا۔ بعد میں دھماکا ہوا کہ شادی میں لڑکے کی مرضی شامل نہیں تھی، وہ کہیں اور شادی کرنا چاہتا تھا لیکن گھر والوں نے زبردستی یہاں شادی کرا دی اور آپا کی خوبصورتی، ان کا حسن، سلیقہ ان کا جرم ہو گیا۔ ان کی ماں نے یہ سوچ کر آپا سے شادی کرا دی کہ حسین و جمیل دولہن پاس ہوگی تو بیٹے کے سر سے عشق کا بھوت اتر جائے گا، لیکن بھوت اترتا کیسے، بھوت تو وہیں رہتا تھا، ان کے ساتھ ان کے فلیٹ میں، جہاں دولہا بھائی ملازمت کرتے تھے۔ یہ تو ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ وہ تو ایک ساتھ ایک اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں، وہ کچھ دن یہاں گزار کر چلے گئے اور ان دنوں میں بھی ماں باپ سے لڑتے ہی رہے کہ انہوں نے مرضی کے بغیر شادی کیوں کردی۔ آپا نے روتے روتے یہ بات گھر میں بتائی تو سب سر پکڑ کر بیٹھ گئے، لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔ کسی بہن نے وظیفے کے لیے تسبیح پکڑ لی، کسی نے منت مان لی، کسی نے جائے نماز بچھا لی، جو جو کر سکتا تھا وہ وہی کرنے لگا، ہم نے اپنی بہن کی خوشیوں کے لیے مالک دوجہاں کے سامنے ہاتھ پھیلا دیے۔ امی نے بھی باجی کو حوصلہ دیا، سمجھایا کہ شوہر کا دل جیتنے کی کوشش کرو، پردیس میں ایسی بلائیں پیچھے پڑ ہی جاتی ہیں، لیکن یاد رکھو کہ صبح کا بھولا شام کو گھر ہی پلٹتا ہے اور اسے بھولا نہیں کہتے۔ آپا اس وقت کا انتظارکرنے لگیں جب ان کے شوہر کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا اور وہ لوٹ آئیں گے۔

سیلانی بھائی! اس سارے قضیے میں ان کا تو کوئی قصور نہ تھا، انھیں خواہ مخواہ ہی بھینٹ چڑھا دیا گیا تھا اور ایسا ہمارے یہاں عام ہے، اب بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ کوئی لڑکا نشہ کرتا ہو، جواری ہو، بری صحبت کا ہو، تو اس کا علاج شادی میں ڈھونڈا جاتا ہے۔ منطق یہ دی جاتی ہے کہ سر پر ذمہ داری پڑے گی تو خود ہی ٹھیک ہوجائے گا۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی کیا گیا لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا۔ ہوتا یہ کہ وہ کچھ دنوں کے لیے پاکستان آتا اور اسی بات پر جھگڑتا رہتا کہ میری وہاں شادی کیوں کرائی۔ میری بہن بیچاری اپنے کمرے میں بیٹھی یہ سب سنتی رہتی اور اپنی قسمت پر آنسو بہاتی رہتی۔ پھر ایک دن عجیب بات ہوئی۔ صبح صبح خلاف توقع آپا گھر کے دروازے پر اس طرح دکھائی دیں کہ ان کی آنکھیں خوشی سے چمک رہی تھیں، لبوں پر مسکراہٹ تھی اور چہرہ بھی مسرت شادمانی سے گلابی گلابی ہو رہا تھا۔ ہم سب بہنیں خوشی سے ان سے لپٹ گئیں، ہم سب ہی اس تبدیلی کی وجہ جاننا چاہتے تھے، ہم آپا کو لے کر کمرے میں آگئے۔ آپا بتانے لگیں کہ ’’انہوں‘‘ نے خود مجھ سے بات کی، کہا کہ بہت دن ہوگئے تم امی کے گھر نہیں گئی ہو، چلو میں تمھیں گھر چھوڑ آتا ہوں اور وہی مجھے یہاں چھوڑ کر گئے ہیں اور یہ دیکھو کہ انہوں نے مجھے خرچے کے لیے پیسے بھی دیے ہیں۔ انھوں نے ایک سفید لفافہ سامنے کر دیا۔ میں نے جھٹ سے جھپٹا مار کر آپا کے ہاتھ سے وہ پیسوں والا لفافہ چھین لیا اور نوٹ گننے کے لیے کھولا تو اس میں سفید کاغذ پر تین سطریں لکھی ہوئی تھیں: میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   حجاب کا مسئلہ، مرد و خواتین کیا کریں؟ محمد عامر خاکوانی

’’طلاق۔۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے۔‘‘ سیلانی کے افسردہ لہجے میں بے یقینی تھی۔
’’کاش نہ ہوتا لیکن ایسا ہی ہوا، وہ ہمارے گھر میں قیامت کا دن تھا، ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی کی میت اٹھی ہے۔ چولہا جلا نہ کسی نے کوئی لقمہ زہر مار کیا، سب سرخ سرخ آنکھیں لیے ایک دوسرے کو دیکھے جا رہے تھے، کوئی ایک کے گلے لگ کر روتا اور کوئی دوسری کے، اس صدمے کے بعد آپا نفسیاتی مریضہ ہو گئیں، ہر وقت چپ چپ رہتیں، کسی خوشی میں نہیں جاتیں، ہنسنا بولنا ہی جیسے بھول گئی ہوں، ایک دو بار انہیں زبردستی کہیں لے کر بھی گئے لیکن لوگوں کی باتوں اور دیکھنے کے انداز سے اندازہ ہوگیا کہ آپا کو لا کر غلطی کی ہے، پھر آپا نے خود کو گھر کی چار دیواری میں قید کرلیا۔۔۔‘‘

’’آپ لوگوں نے دوبارہ گھر بسانے کی کوشش نہیں کی؟‘‘
’’ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ ہم نے بہت کوشش کی لیکن وہی مسئلہ کہ ہمارے یہاں طلاق یافتہ عورت کو کون پوچھتا ہے، جوڑ کا رشتہ نہ ملتا بےجوڑ ہی ہوتا، مگر ڈھنگ کا تو ہوتا، جو رشتے آتے ان میں کوئی ابا کی عمر کا بیمار بوڑھا ہوتا جسے بیوی کی شکل میں نرس درکار ہوتی، کوئی جہیز میں مکان کا متمنی ہوتا اور کوئی چاہتا کہ ہمارے والد کاروبار جما دیں، ہم یہ سب کہاں سے لاتے۔ ہمارے خالہ زاد بھائی نے دبے لفظوں میں اپنے گھر والوں سے ذکر کیا کہ میری شادی خالہ کے گھر کر دیں مگر وہاں کہرام مچ گیا کہ ہمارے گھر میں طلاق یافتہ عورت بہو بن کر کیسے آئے گی؟ گھر میں جوان بہنیں ہیں، ان کے رشتے آنے ہیں، لوگ سو سو باتیں بناتے ہیں، ہم کس کس کا منہ بند کریں گے؟‘‘

’’اوہ، بہت افسوس ہوا،بہت افسوس، اب آپا کہاں ہیں؟‘‘
’’اب وہ میری ایک بہن کے پاس رہتی ہیں، کراچی میں میرا مکان ہے، وہ میں نے اپنی بہن بہنوئی کو رہنے کے لیے اس شرط پر دے رکھا ہے کہ آپا بھی ساتھ رہیں گی۔ میں اب یہاں سے ان کی ضرورت کی رقم بھیج دیتی ہوں، ساتھ ساتھ بہنوئی صاحب کی بھی مدد کرتی رہتی ہوں تاکہ آپا کو مسئلہ نہ ہو، وہ نفسیاتی مریضہ ہوگئی ہیں، اور اب تو ان کی ایک ٹانگ بھی کٹ گئی ہے، بس بستر پر پڑی رہتی ہیں، کتنا ظلم ہوا ہے ناں ان کے ساتھ، انہیں تو جیتے جی مار دیا گیا، ان کا حال یہ ہے کہ زندوں میں ہیں نہ مردوں میں‘‘۔

سلیمہ صاحبہ کی آواز بھرا گئی اور کیسے نہ بھراتی، ان کی آنکھوں کے گوشے کیوں نہ نم ہوتے، یہ دکھ ان کی ماں جائی کا تھا، بڑی بہن کا تھا جسے جیتے جی مار دیا گیا تھا۔ ہمارے معاشرے میں کہنے کو بڑی تبدیلیاں آچکی ہیں، شراروں غراروں کی جگہ جینز ٹی شرٹ اور برقعوں کی جگہ پی کیپ نے لے لی ہے لیکن آج بھی ہماری سوسائٹی بیواؤں، مطلقہ خواتین کے لیے بڑی ہی سنگدل ہے۔ آج بھی یہاں خواتین کا اسٹیٹس کسی کھونٹے میں بندھے جانور سے زیادہ نہیں، کاش ان آپاؤں کے لیے بھی کہیں کوئی تحریک اٹھے، کوئی ان کے لیے بھی لکھے، کوئی ان کے لیے بھی آواز اٹھائے کہ انہیں بھی جینے کا حق ہے، زندگی کی خوشیاں ان کے لیے بھی ہیں، انھیں بھی جینے دو زندہ انسان کی طرح رہنے دو۔ سیلانی یہ سوچتے ہوئے چشم تصور میں مسہری پر ایک بوڑھے بیمار وجود کو دروازے کی طرف خالی خالی نظروں سے دیکھتا رہا، دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.