اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے - مفتی منیب الرحمن

اسکول کے زمانے میں ہم روزانہ صبح اسمبلی میں علامہ اقبال کا ترانہ بعنوان’’بچے کی دعا‘‘ مل کر پڑھتے تھے:


لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہوجائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہوجائے

ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب

ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا

مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو

علامہ اقبال نے جوابِ شکوہ میں لکھا ہے:


دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے

پَر نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

قُدْسِیُ الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہے

خاک سے اُٹھتی ہے، گردُوں پہ گزر رکھتی ہے

فارسی شاعر نے کہا ہے:


گر زِ دل برآرم آہی، آتش از دِلَم رَیزد

چون ستارہ از مُژگانم اَشکِ آتشین رَیزد


ترجمہ:’’ اگر دل سے آہ نکالتا ہوں تو دل سے آگ کے شعلے نکلتے ہیں ،جیساکہ میری آنکھوں سے آتشیں آنسو ستارے کی مانند ٹپکتے ہیں ‘‘۔

شاید علامہ محمد اقبال مرحوم کا اخلاص اور دردِ دل ہی تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان اشعار میں اتنی تاثیر پیدا فرمائی کہ دل ودماغ میں اتر کرجذب ہوجاتے ہیں، آج بھی چلتے پھرتے وقتاً فوقتاً یہ اشعار بے اختیار زبان پر آجاتے ہیں۔کاش کہ واقعی یہ ہمارے وطن کے ہربچے کی آرزو بن جائیں اورروز پرائمری سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک یہ ترانہ ہمارے تعلیمی اداروں میں پڑھا جائے ۔اس میں حب الوطنی ، انسانیت سے محبت ، علم سے بے پایاں عشق کا پیغام ،اپنی ذات کو پورے عالَم کے لیے فیض رساں بنانے کی تمنا اور اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعاہے ،گویا اسلام کے ہرفرزند کو جیسا ہونا چاہیے، اس نظم میں اس کی ذہنی اور فکری ساخت کا سارا سامان موجود ہے۔اس کے علاوہ یہ دواشعار بھی ہر وقت ہماری زبان پر رہتے تھے :


اسلام زمانے میں، دبنے کو نہیں آیا

تاریخ سے یہ مضموں، ہم تم کو دکھا دیں گے

اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے

اُتنا ہی یہ ابھرے گا، جتنا کہ دبا دیں گے


ناصر زیدی نے لکھا ہے کہ دوسرے شعر کا اصل مصرع یہ ہے:’’اس دین کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے‘‘، اس میں تصرف کر کے ’’اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے ‘‘کردیا گیا ہے، واللہ اعلم بالصّواب۔

ہمیں شاعر کا نام معلوم نہیں تھا ، انٹرنیٹ میں تلاش کیا تو بعض محققین نے لکھا ہے کہ یہ صفی لکھنوی کی غزل ’’رَجزِ مسلم‘‘کے اشعار ہیں ، پوری غزل ہمیں دستیاب نہیں ہوسکی۔میدانِ جنگ میں مجاہدین کے جذبۂ جہاد کو ابھارنے کے لیے پڑھے جانے والے اشعار کو رَجز کہاجاتاہے،رسول اللہ ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے(1): ’’اور ہم نے انہیں شعر (کہنا) نہیں سکھایااور نہ یہ اُن کے شایانِ شان ہے،(یٰس:69)‘‘،(2): ’’اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے، (مگر) تم بہت کم ایمان لاتے ہو، (الحاقہ:41)‘‘۔ رَجزیہ اشعار بعض اوقات نبی کریم ﷺ بھی پڑھتے تھے ، حضرت انس بیان کرتے ہیں: ’’غزوۂ خندق کے موقع پرجب صحابۂ کرام ایک صبح شدید سردی کے موسم میں خندق کھود رہے تھے ،ان کویہ کام کرنے کے لیے خادمین دستیاب نہیں تھے ، پس جب سید المرسلین ﷺ نے ان کی بھوک اور تھکاوٹ کو دیکھا تو ان کی حوصلہ افزائی کے لیے فرمایا:


اللَّہُمَّ إِنَّ العَیْشَ عَیْشُ الآخِرَہ

فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالمُہَاجِرَہْ


ترجمہ: ’’اے اللہ!حقیقی زندگی تو آخرت کی زندگی ہے ،تو ازراہِ کرم انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما‘‘،تو صحابۂ کرام نے اس کے جواب میں عرض کیا :


نَحْنُ الَّذِینَ بَایَعُوا مُحَمَّدَا

عَلَی الجِہَادِ مَا بَقِینَا أَبَدَا


ترجمہ: ’’ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمدرسول اللہ ﷺ کے دستِ مبارک پرزندگی کے آخری سانس تک جہاد کرنے کی بیعت کی ہے، (صحیح البخاری: 2834)‘‘۔اسی طرح مسجدِ نبوی کی تعمیر کے موقع پر بھی آپ ﷺصحابہ ٔ کرام کے ساتھ اینٹیں اٹھاتے اور یہ رجزیہ اشعار پڑھتے:


اَللّٰھُمَّ اِنَّ الْاَجْرَ اَجْرَ الآخِرَۃ

فَارْحَمَ الْاَنْصَارَ وَالْمُھَاجرَۃ


ترجمہ: ’’اے اللہ !حقیقی اجر توآخرت ہی کا اجر ہے ،تو اپنے کرم سے انصار اور مہاجرین پر رحم فرما،(سبل الھدیٰ والرشاد، ج: 3،ص:336)‘‘۔اسی میں آگے چل کر بیان ہوا:ایک صحابی اُسَید بن حُضَیر نے آپ کو اینٹیں اٹھائے ہوئے دیکھا ، تو عرض کیا: یارسول اللہ! یہ میں اٹھالیتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ’’تم جاکر دوسری اٹھالو، تم مجھ سے زیادہ اللہ کی رضا کے محتاج نہیں ہو‘‘۔

الغرض مندرجہ بالا دواشعار بھی بلاشبہ لازوال ہیں اور اسلام کی فطرت کے عکاس ہیں، اسی لیے میں نے ان کے ایک مصرعے کو اپنے کالم کا عنوان بنایا ہے۔ اس کا سبب یہ بنا کہ ایک بزرگ نما ہمارے لبرل کرم فرما نے اپنا بغض نکالتے ہوئے مجھ سے نفرت کا اظہار کیا اور وہ وقتاً فوقتاً ایسا کرم فرماتے رہتے ہیں، اسی لیے میں اپنے طلبہ سے کہتا ہوں :’’اگر ہمارے کسی کلمۂ حق یا شِعار سے کسی بھی باطل کو تکلیف نہ پہنچے، تو ذرا رک کر سوچو کہ ہمارے نظریے یا قول وفعل میں کوئی جھول یا نَقص تو نہیں ہے کہ باطل کو اس کی مطلقاً پروا نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حق کی پہچان ہی یہ بتائی ہے کہ باطل پر وہ گراں گزرتا ہے، میرے نزدیک یہ میرے لیے اعزاز ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’وہ اپنی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ اپنے نور کو پورا کرنے والا ہے، خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو، وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے، خواہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو، (الصف:8-9)‘‘۔ یہ آیاتِ مبارکہ دین اسلام کی اَبَدیَّت اور حتمی غلبے کے بارے میں بطور استشہاد نقل کی ہیں، کوئی اسے کسی کے بھی خلاف فتویٰ نہ سمجھے، قرآن کے کلمات میں ردّوبدل ممکن نہیں ہے۔

اس پس منظر کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ میں نے اپنی پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم پاکستان ، چیف آف آرمی اسٹاف اورجناب چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی تھی کہ ناموسِ رسالت کا مسئلہ پاکستان کے لیے ایک انتہائی حساس مسئلہ ہے، اس سے حکمت وتدبر کے ساتھ عہدہ برآ ہونے کی کوشش کی جائے۔ تحریک لبیک پاکستان کے ایک سربراہ سے اظہارِ جذبات میں بےاعتدالی ہوئی، جس کا دفاع نہیں کیا جاسکتا، ہمیں اس پر نہایت افسوس ہے اور ریاست کی طاقت کا بھی ہمیں بخوبی اندازہ ہے، لیکن مذہبی حساسیت اور جذباتیت کے مسئلے کو طاقت سے کچلنے کے بجائے اس سے حکمت وتدبر کے ساتھ نمٹا جائے تاکہ بند گلی سے نکلنے کی کوئی صورت پیدا ہو اور ان حضرات کے اعتذار کو قبول کرتے ہوئے ان کی بےاعتدالی سے درگزر کیا جائے۔ ریاستی طاقت سے نشانِ عبرت بنانا تو آسان کام ہے، لیکن نفرت کی چنگاری کہیں نہ کہیں سلگتی رہتی ہے اور وقت آنے پر وہ شعلۂ جوّالہ بن جاتی ہے اور اس کے دیرپا نتائج ملک وملت کے حق میں بہتر نہیں ہوتے۔ تحریکِ لبیک کی تاسیس سے لے کر آج تک ان کے جماعتی نظم سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے، نہ ان کی قیادت کے ساتھ کوئی باقاعدہ روابط ہیں، علامہ خادم حسین رضوی سے صرف دو مرتبہ کئی افراد کی موجودگی میں ملاقات ہوئی ہے، کبھی ون آن ون ملاقات نہیں ہوئی اور نہ میراعملی سیاست سے کوئی تعلق ہے۔ لیکن اس کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ نفسِ مسئلہ پر ملک کے تمام دینی طبقات متفق ہیں اور انہیں گردِ راہ سمجھنا عقل مندی کی بات نہیں ہے۔ اسلام کی تاریخ میں مشکل مراحل آتے رہے ہیں، برصغیر میں انگریزوں کا سو سالہ اقتدار اور سوویت یونین میں کمیونزم کا پچھتر سالہ اقتدار اسلام کو نہ جڑ سے اکھاڑ سکا ہے اورنہ مٹا سکا ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ملک میں اسلام کی اساس کی نفی کی جائے۔ یہ پریس کانفرنس ہم نے خیر خواہی کی بنا پر کی تھی اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ’’دین خیرخواہی کا نام ہے ،صحابہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! کس کی خیر خواہی،آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ ، اس کی کتاب، اس کے رسول ،مسلمانوں کے حکمرانوں اور عام مسلمانوں کی خیرخواہی (دین ہے)،(صحیح مسلم:55)‘‘۔

ہماری یہی بات بزرگِ موصوف کو ناگوار گزری ہے، ان سے مجھے ہمدردی ہے، لیکن ان کی تکلیف کا ازالہ میرے بس کی بات نہیں ہے، ان کی خواہش تو یہ ہے کہ پاکستان کے دستور سے مذہب کا نام و نشان مٹا دیا جائے اور پاکستان کے منظر سے اہلِ دین کو خاکم بدہن نیست و نابود کردیا جائے۔ لیکن وہ خاطر جمع رکھیں، ان شاء اللہ تعالیٰ! اُن کی اور میری زندگی میں یہ سانحہ رونما نہیں ہوگا، حالات میں زَیر و بم آتے رہتے ہیں، لیکن پاکستان ان شاء اللہ تعالیٰ اپنی نظریاتی اساس پر قائم رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’سو رہا جھاگ! تو وہ پھَک سے اڑجاتا ہے اور وہ چیز جو لوگوں کو نفع پہنچائے ،وہ زمین میں قرار پاتی ہے، اللہ اسی طرح مثالیں بیان فرماتا ہے۔ (الرعد:17)‘‘۔میں تحریکِ لبیک کی قیادت اور کارکنان کو بھی تحمل اور آئین وقانون کے دائرے میں رہنے کی تلقین کرتا رہا ہوں۔ جائز مطالبات پر احتجاج آئین و قانون کی رُو سے ہر پاکستانی کا حق ہے اور قانون شکنی اچھی روش نہیں ہے، مگر اپنے اپنے وقت میں ہر سیاسی جماعت یہی کچھ کرتی رہی ہے، کسی کے لیے کوئی روش اعزاز اور کسی کے لیے گردن زدنی قرار پائے، یہ امتیاز درست نہیں ہے۔ آپ لوگوں کی آنکھوں پر پٹی نہیں باندھ سکتے اور نہ لوگوں کی سوچ پر پہرے لگاسکتے ہیں، سوشل میڈیا آنے کے بعد آج کل ہر ایک کی ہر ادا اور ہر لفظ کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہے۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.