گناہ ٹیکس اور میرا پرانا خواب - عظیم الرحمن عثمانی

سگریٹ پینا گناہ ہے یا نہیں؟ یہ آج ہمارا موضوع نہیں مگر اس بحث نے مجھے اپنا ایک سالوں پرانا خواب ضرور یاد دلا دیا ہے۔ خواب ہر عام و خاص انسان دیکھتا ہے اور بحیثیت مسلم ہم واقف ہیں کہ بعض اوقات ان خوابوں میں دیکھنے والے کی ذات کیلئے کوئی تنبیہہ یا پیغام چھپا ہوتا ہے۔ یہ خواب میں نے انگلینڈ بسنے کے بعد ابتدائی سالوں میں دیکھا تھا۔ دیکھتا ہوں کہ ۔۔۔

میں ایک سڑک پر چل رہا ہوں، میں نے کسی شال میں کچھ چھپا رکھا ہے اور کچھ تاریک سائے دبے پائوں میرا پیچھا کررہے ہیں۔ شال میں چھپی شے کسی نومولود بچے جیسی محسوس ہورہی ہے مگر میں خود نہیں جانتا کہ میں نے چھپا کیا رکھا ہے؟ اور یہ گھناونے سائے مجھے کیوں پکڑنا چاہتے ہیں؟ ان سایوں کی آہٹ بھانپ کر میں تیز قدموں سے چلنے لگتا ہوں مگر وہ سائے بھی میرے تعاقب میں اپنی رفتار بڑھا دیتے ہیں۔ اب میں گھبرا کر بھاگتا ہوں، وہ بھی میرے پیچھے بھاگتے ہیں۔ میں سرپٹ دوڑتا ہوں مگر وہ مجھے دبوچنے کے لئے قریب ہوتے جاتے ہیں۔ اچانک مجھے سامنے ایک چلتی ہوئی بس نظر آتی ہے تو میں تیزی سے اس کے جنگلے پر چڑھ جاتا ہوں۔ سوچتا ہوں کہ بچت ہوگئی۔ مگر پیچھے دیکھ کر اوسان خطا ہوجاتے ہیں کہ ان سایوں کی رفتار تو بس سے بھی زیادہ ہوتی جارہی ہے۔ اب دل میں خیال ابھرتا ہے کہ جب تک میں وہ چیز نہ پھینک دوں گا جسے میں اب تک چھپائے بیٹھا ہوں تب تک یہ سائے مجھے نہیں بخشیں گے۔ بالآخر میں ایک زور سے اس شال کو ہوا میں جھاڑ دیتا ہوں۔ ارے مگر یہ کیا ؟ اس میں سے تو "بینسن اینڈ ھیجز" کے دو ڈنڈے (پیکٹ) نکل کر زمین پر جاگرتے ہیں۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ میں نے کبھی زندگی میں سگریٹ نہیں پی مگر ان دنوں جب بھی پاکستان جاتا تھا تو "بینسن اینڈ ھیجز" کے دو ڈنڈے خرید لاتا تھا اور پھر انگلینڈ میں انہیں مہنگے داموں فروخت کردیتا تھا۔ اس سے خاصی بچت ہوجاتی تھی اور یہ طریقہ یہاں عام ہے۔ خیر خواب کی جانب واپس آتے ہیں، میں ایک لمحے کیلئے زمین پر کراس کی صورت پڑے بینسن کے ان سنہرے پیکٹس کو گھورتا ہوں اور پھر مطمئن ہوجاتا ہوں۔ وہ سائے تھم جاتے ہیں۔ بس کی رفتار مدھم ہونے لگتی ہے اور پھر ایک مسجد کے سامنے رک جاتی ہے۔

احساس ہوتا ہے کہ جماعت کھڑی ہونے والی ہے اور بس سے سب لوگ ادائیگی کیلئے جارہے ہیں۔ میں بھی پرسکون ہوکر مسجد میں داخل ہوجاتا ہوں۔ صفوں کو چیرتا ہوا پہلی صف میں جاپہنچتا ہوں۔ دائیں بائیں دیکھتا ہوں تو نہایت نیک صورت پروقار لوگ موجود ہیں۔ میں خوش ہوتا ہوں مگر اچانک امام جماعت میرے پاس آتے ہیں اور پیار سے کہتے ہیں کہ بیٹا ابھی تمہاری جگہ یہاں نہیں ہے اور وہ مجھے پچھلی و آخری صفوں میں کھڑا کردیتے ہیں۔ میں ایک بار پھر اپنے دائیں بائیں دیکھتا ہوں تو پہلی صف جیسے باوقار لوگ تو نہیں پاتا مگر بھلے انسان نظر آتے ہیں۔ پھر نماز جماعت کیساتھ ہوتی ہے، میں ادائیگی شروع کرتا ہوں یا شائد مکمل کرتا ہوں اور میری آنکھ کھل جاتی ہے۔

اس خواب میں مجھے اپنی ذات کیلئےکئی پیغامات ملے مگر ان میں سے ایک بڑا پیغام ان سگریٹ کے پیکٹس کے حوالے سے بھی تھا۔ گویا یہ مجھے تنبیہہ لگی کہ میں ان کو پاکستان سے لاکر بیچنے کا کام بند کردوں۔ وہ دن ہے اور آج کا دن، میں نے پھر یہ کام کبھی نہیں کیا۔

(نوٹ: سچے جھوٹے خواب ہم سب انسانوں کو آتے ہیں۔ ان کی حیثیت نہ شرعی حجت کی ہے اور نہ ہی اس سے کوئی فضیلت کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ البتہ اس میں پنہاں پیغام بعض اوقات دیکھنے والے کی 'اپنی' ذات کیلئے سمجھ کا نیا دروازہ کھول دیتے ہیں۔)

Comments

عظیم الرحمن عثمانی

عظیم الرحمن عثمانی

کے خیال میں وہ عالم ہیں نہ فاضل اور نہ ہی کوئی مستند تحقیق نگار. زبان اردو میں اگر کوئی لفظ ان کا تعارف فراہم کرسکتا ہے تو وہ ہے مرکب لفظ ’طالب علم‘. خود کو کتاب اللہ قرآن کا اور دین اللہ اسلام کا معمولی طالب علم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.