اقبال اور آج کا نوجوان - عزیر جمال

نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔یہ نوجوان ہی ہوتے جو قوموں کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں،جو کسی قوم کو زوال سے عروج تک کا سفر کرواتے ہیں۔جو قوم دولتِ نوجوان سے محروم ہوتی ہے اس قوم کا مستقبل اندھیرے کی مانند تاریک ہوتا ہے۔ اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آج تک دنیا میں جتنے بھی انقلاب برپا ہوئے ہیں ان کے پیچھے ایک نوجوان سوچ ہی کارفرما تھی۔ چاہیے وہ انقلاب ِفرانس ہو یا انقلاب ِمدینہ۔

دنیا میں آج تک جتنی بھی عظیم فتوحات ہوئی ہیں ان کی کمان بھی محمد بن قاسم،ٹیپو سلطان،برہان وانی اور سکندر اعظم جیسے نوجوان سپہ سالاروں کے ہاتھوں میں تھی۔
دنیا میں آج تک جتنے بھی بڑے نام پیدا ہوے ہیں ان کی بھی کامیابی کا راز ان کی جوانی میں کی گئی محنت و مشقت میں چھپا ہوا ہے۔ چاہیے وہ بل گیٹس ہو یا محمد علی کلے، چاہیے وہ سٹیو جابز ہو یا مائیکل اینجلو۔ چاہیے وہ جیک ما ہو یا محمد علی جناح۔ مختصراً یہ کہ نوجوانوں ہی کی بدولت ترقی کی سیڑھی پر قدم رکھا جا سکتا ہے۔ اگر یہی نوجوان ظلمت، پستی اور اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوں تو یہ قوموں کی ترقی کے بجائے ان کے لیے ایک ناسور بن جاتے ہیں اسی لیے ان نوجوانوں کی جسمانی، ذہنی اور روحانی نشونما کے لیے کوئی نظام موجود ہونا چاہیے۔

ارضِ پاک پر اللہ تعالی کا ایک احسان ہے کہ یہ دولتِ نوجوان سے مالا مال ہے اور آبادی کا 65 فیصد نوجوانوں کے ساتھ دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی ہماراالمیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے پاس اتنی بڑی یوتھ کو استعمال کرنے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔نہ ہی حکومتی سطح پر کوئی تنظیم موجود ہے اور نہ ہی کوئی غیر سرکاری تنظیم اس قابل ہے کہ وہ بیک وقت لوئر مڈل کلاس سے لیکر اپر ایلیٹ کلاس کے نوجوانوں کی مرد و زن کی تفریق سے بالاتر ہو کر ذہنی،فکری،جسمانی اور معاشی تربیت کر سکے۔کوئی تنظیم ذہنی تربیت کر رہی ہے تو کوئی فکری آبیاری۔ کوئی جسمانی تربیت دے رہی تو کوئی معاشیات سمجھا رہی ہے۔کوئی روحانی تربیت دے رہی تو کوئی مرد و زن کی تفریق میں مبتلا ہے۔

مختصر اً یہ کہ ہر تنظیم یا سوسائٹی اپنے محدود دائرے میں کام کر رہے ہیں۔ مگر اب ایسا لگتا ہے کہ اللہ نے پاک سر زمین پر اپنا کرم کر دیا ہے۔لاہور کے چند نوجوانوں نے ایک ایسی مومنٹ کی بنیاد رکھ دی ہے جو بیک وقت نوجوانوں کی ذہنی نشونما بھی کر رہی ہے اور جسمانی تربیت بھی۔جو بیک وقت نوجوانوں کے معاشی مسائل کا حل بھی پیش کر رہی اور ان کی فکری آبیاری بھی۔ جو بیک وقت نوجوانوں کی سکلز ڈویلپمنٹ کا کام بھی کر رہی اور ان کےانتخابِ کیرئیر میں بھی معاون ثابت ہو رہی ہے۔ تین لوگ اور ایک سوچ کے ساتھ شروع ہونے والا یہ قافلہ دیکھتے ہی دیکھتے چند مہینوں میں ہی سینکڑوں تک پہنچ گیا ہے۔
میں اکیلا ہی چلا تھا منزل بجانب
لوگ ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا

نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہونے والی اس سوسائٹی کا نام YOUTH EMPOWERMENT SOCIETY ہے۔ اس کا مقصد روشن پاکستان اور منزل مستحکم پاکستان ہے۔ اسی مقصد کو جاری رکھتے ہوئے یہ سوسائٹی 11 سے 13 دسمبر کو ایوانِ اقبال میں پاکستان کا خواب دیکھنے والی ہستی علامہ محمد اقبال کو زندہ کرنے کے لیے جشنِ اقبال کے نام سے ایک نہایت ہی خوبصورت انٹرنیشنل فیملی فیسٹیول کا انعقاد کرنے جا رہی ہے۔اس فیسٹیول کی خوبی یہ ہے کہ اس میں 7 سے 70 سال کی عمر کے مرد و عورت خواہ وہ کسی بھی فرقہ،گروہ،مذہب اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہوں سب کے لیے دلچسپی کا سامان موجود ہوگا۔ سکول سیشن، یونیورسٹی سیشن، وومن ایپماورنمنٹ اور انٹلیکچوؤل سیشن پر مشتمل اس تین روزہ فیسٹیول میں ڈاکٹر اقبال پر تقریری،تحریری،مصوری اور کلامِ جیسے مقابلہ جات، مشہورِ زمانہ سپیکرز کی موٹیویشنل گفتگو،علمی و ادبی محافل، بزنس فورم، محفلِ مشاعرہ،شکوہ جوابِ شکوہ پرفارمنس،ڈرامہ جات اور غزل نائٹ جیسے پروگرامات حاضرین کی دلچسپی کا مرکز رہیں گے۔

پاکستان کی مشہور علمی، ادبی، سیاسی، سماجی، مذہبی اور سرکاری شخصیات بطور سپیکرز اور مہمانان شریک ہوں گے۔ ان نوجوانوں کے عزائم اور منصوبہ بندی دیکھ کر لگتا ہے کہ پاکستان کا مستقبل یہی نوجوان ہیں۔اگر انہیں حکومت مالی طور پر سپورٹ کرے تو مجھے یقین ہے اقبال کے یہ شاہین ملت کے مقدر کا ستارہ بن سکتے ہیں۔