نظام ِعدل کے کھیل - وقاص احمد

ایسا لگ رہا ہے کہ مملکتِ خداداد پاکستان میں ماضی قریب میں ناموس ِرسالت ﷺ کے حوالے سے کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں ہے۔ ہر کوئی اپنے اپنے خانے میں فٹ ہو کر ویسے ہی بیٹھ گیا ہے جیسے فیصلہ آنے سے پہلے بیٹھا ہوا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ معاملہ اتنا زیادہ حساس ہے کہ اسے منطقی انجام تک پہنچانا بےانتہا ضروری ہے۔ خدارا ! اس معاملے کو، اس مقدمے کو کسی عام مقدمے کی طرح نہ چلا یا جائے۔ یہ بہت نازک مقام ہے۔ جس طرح چیف جسٹس صاحب نے ایک نہیں بلکہ دو عدالتوں کے فاضل ججز کی قانونی سمجھ بوجھ اور شہادتوں کی عقلی جانچ کی صلاحیت پر شک کرتے ہوئے اِن عدالتوں کے فیصلوں میں موجود بعض تضادات کو اپنے فیصلے میں اجاگر کیا، بالکل اُسی طرح چیف جسٹس کے فیصلے پر بھی خالص قانونی اور منطقی نقطۂ نظر سے تنقید کی گئی ہے۔ سارے ججز ہی رسول اللہ سے محبت کرنے والے ہیں۔ باقی کون کتنا بڑا عاشق رسول ہے یا کوئی ہے کہ نہیں، اس کا عقدہ تو روزِ حشر ہی کھلے گا۔

پاکستانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ سیشن اور ہائی کورٹ میں سزا پانے کے بعد کسی کیس کی اپیل سپریم کورٹ میں قابلِ سماعت قرار دی جائے۔ ایسا تب ہی ہوتا ہے جب کیس تفتیش سے لیکر سماعت اور فیصلے تک شکوک اور بدنیتی سے بھرا ہوا ہو یا پھر کیس کے پیچھے کچھ قوتیں ہوں جن کے کچھ مقاصد ہوں۔ راقم یہاں جذبات بالکل الگ رکھ کر بتانا چاہتا ہے کہ اگر سیشن اور ہائی کورٹ کے فیصلوں میں قانونی سقم تھے، لاہور ہائی کورٹ میں تعینات فاضل ججز کی قانونی سمجھ بوجھ میں کوتاہی تھی تو جناب چیف جسٹس صاحب نے کیس دوبارہ ہائی کورٹ ٹرائل کے لیے کیوں نہیں بھیجا؟ جہاں ایک نیا بنچ بنا دیا جاتا جہاں تفتیش کا پھر جائزہ لے لیا جاتا، سماعتیں پھر ہوجاتیں۔ کیس ختم کرکے ملزمہ کو بری کرنے کی ایسی کیا جلدی تھی؟

قانونی ماہرین جانتے ہیں کہ ریویو پٹیشن یعنی نظرثانی درخواست، عام اپیل کی طرح کا کیس نہیں ہوتا۔ اس میں کسی فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ نظرثانی کی سماعت وہی بنچ کرتا ہے جس نے فیصلہ دیا ہوتا ہے جس کے سامنے سارے دلائل اور شواہد پہلے ہی موجود ہوتے ہیں۔ یہ تو سود کی شرعی حرمت کے متعلق ہی کیس تھا جو بدقسمت نکلا ورنہ کئی ہزار میں میں ایک آدھ کیس ہی ہوتا ہے جو نظرثانی پٹیشن میں کالعدم ہوتا ہے۔ یہ تو افسوس صد افسوس انسداد ِسود کا کیس تھا جس پر ریاست پاکستان کے مقتدر حلقوں نے کمال چابک دستی سے بنچ توڑا، پھر نئے ججز ڈال کر فیصلہ کالعدم قرار دیکر کیس کو پھر وفاقی شرعی عدالت بھجوا دیا اور آج یہ کیس اٹھارہ سالوں سے لٹکا ہوا ہے۔ تبھی راقم کا تجزیہ یہ ہے کہ تحریک لبیک نے مطالبات انتہائی کمزور رکھے۔ نظرثانی کا حق تو ویسے بھی مل جاتا۔ دھرنوں اور احتجاج کے بعد ضروری اور قانونی مطالبہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ کیس دوبارہ نچلی عدالت میں بھیجا جائے۔ یا اگر حکومت یہ نہیں منوا سکتی تو پھر نظرثانی سماعت میں چار سے پانچ ججز کا اضافہ کیا جائے۔ گو کہ قانوناً حکومت ان دونوں معاملوں میں عدالت عظمیٰ سے صرف درخواست ہی کرسکتی ہے کیونکہ یہ پورا اختیار چیف جسٹس کے پاس ہے۔ لیکن پاکستان میں مقتدر حلقوں کے دباؤ پر کیا نہیں ہوتا رہا ہے۔ اور جبکہ یہ معاملہ انتہائی اہم اور ایمانی ہے۔ بات صرف عمل کرنے یا نہ کرنے والی ہے۔

انسدادِ سود کے حوالے سے مشہور کیس میں تو ریاست پاکستان کے مقتدر اشرافیہ نے حد ہی کردی تھی۔ آسمانِ پاکستان نے یہ بھی دیکھا کہ جب سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بنچ نے وفاقی شرعی عدالت کے انسداد و ممانعتِ سود کے فیصلے کو طویل، عرق ریزی اور ذہنی مشقت کے بعد درست قرار دیتے ہوئے اسے برقرار رکھا اور حکومت پاکستان کو حکم دیا کہ ملک کے معاشی نظام کو سود سے پاک کریں تو کس طرح ایک ریویو پٹیشن دائر کی گئی اور کس طرح بنچ کو توڑ کر من پسند ججز کو بنچ میں شامل کرکے ایک طویل جدوجہد اور جان گسل محنت کو صفر کیا گیا۔ کس طرح نظام کے ذریعے پر امن آئینی اور قانونی ذریعے سے شریعت کے احکامات کی تنفیذ کا راستہ روکا گیا۔ اگر شریعت کے کسی حکم کو نفسانی خواہش اور کسی دباؤ کی وجہ سے نہ کرنے کا ارداہ ہو تو پھر آپ لاکھ یہ بات اسلام سمجھنے والے پاکستانیوں کو سمجھائیں کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے تو یہ صرف سادہ لوح مسلمانوں کو بےوقوف بنانے کے مترادف ہے۔ آئین میں بلاشبہ اللہ، اس کے رسول ﷺ اور اسلام کو فوقیت دینے کے الفاظ درج ہیں لیکن ان کی حقیقی اور عملی حیثیت کیا ہے؟ وہ تو نظام چلانے والوں، حکومت اور ریاستی اداروں کی صدقِ نیت اور عمل پر ہی منحصر ہے۔ فقہی حساسیت اور شرعی نزاکتوں کے ضروری اہمیت کے پیش نظر علماء کرام بےشک پاکستان کو اسلامی ریاست قرار دے سکتے ہیں لیکن ایمان ِحقیقی کے لحاظ سے ابھی پاکستان کو طویل سفر طے کرنا ہے۔ اور اگر ایک قلیل مقتدر حلقہ بیچ میں روڑے نہ اٹکائے تو پاکستان بنیادی اور محکم شرعی قوانین کی جانب تیزی سے سفر کرسکتا ہے۔ میرا یہ تجزیہ اور تاثر اگر ٹھیک نہیں ہے تو چیف جسٹس صاحب کو چاہیے کہ وہ اپنی روایتی سرعت اور تیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انسدادِ سود کیس پر از خود نوٹس لیکر سپریم کورٹ کے شریعت ایپلٹ بنچ کا فیصلہ بحال کرا دیں جس کو کالعدم قرار دینے میں انتہائی درجے کی بدنیتی کا مظاہرہ کیا گیا۔

مفتی رفیع عثمانی صاحب نے اپنے کھلے خط اور وفاق المدارس العربیہ نے اپنے مشترکہ بیان میں انتہائی متوازن موقف اختیار کیا ہے جس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر مطلق تنقید کے بجائے بعض پہلؤوں کوغور طلب قرار دیا گیا اور اس کا انتہائی قانونی، زیرک اور متوازن حل پیش کیا ہے کہ لارجر بنچ بنا کر کیس کو حل کیا جائے اور اس کے بعد جو بھی فیصلہ ہو اسے تہہ دل سے قبول کیا جائے اور کسی اندرونی، بیرونی اور غیر ضروری جذبات کے دباؤ سے خود بھی نکلا جائے اور قوم کو بھی نکالا جائے۔ اس میں دینی، سیاسی رہنماؤں اور عدالتی نظام کے منتظمین کو بہت اہم اور ناگزیرکردار ادا کرنا ہوگا۔ ملک میں انتہاپسندی صرف دستاویزات اور بیانات پر مہریں لگانے سے نہیں اربابِ اختیار کے نظر آنے والی احساسِ ذمہ داری اور عملی اقدامات سے کم ہوں گی۔ اللہ پاکستان کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانے میں ہر کسی کو اپنی ذمہ دار ی بہ کمال و احسان ادا کرنے کی توفیق و ہمت دے۔ آمین۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.