ناکام پلاننگ کے راز اور ان کا حل - سید یاسین عالم

چائے کی جسکیاں لیتے ہوئے ایک دوست نے سوال کیا کہ آخر کیا بات ہے کہ وہ اپنی پلاننگ پر عمل نہیں کرپاتا ۔ میں نے ان سے سوال کو واضح کرنے کی درخواست کی اور پورا پس منظر سننے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ ان کے پلاننگ میں ناکام ہونے کے راز منصوبہ بندی میں سنجیدگی کی عدم موجودگی، ترجیحات کا واضح نہ ہونا، خود پر قابو کی کمی، پلاننگ کے وقت کے پورا ہونے پر خود احتسابی نہ کرنااور ان سب سے اوپر تدبیر کا مبہم ہونا ہے۔

اکثر ہماری پلاننگ کی ناکامی کی وجوہات بھی یہی ہوتی ہیں۔ ان کو بروقت درست کرلیا جائے تو ہم بھی کامیاب منصوبہ بندی کر پائیں گے۔ پلاننگ کے بغیر ہمارے سامنے کسی بھی کام کی مکمل تصویر واضح نہیں ہوپاتی کہ ہم کتنے اہداف حاصل کرچکے ہیں اور منزل ابھی مزید کتنی دور ہے۔ اس لیے پلاننگ کرتے ہوئے مقصد کا تعین کرتے ہوئے اسے چھوٹے چھوٹے اہداف میں توڑنا نہایت اہم ہے۔ان اہداف کا اپنے اندر مکمل طورپر واضح ہونا نہایت ضروری ہے۔ جیسے کوئی استاد پڑھاتے ہوئے یہ ضرور جانتا ہے کہ چھ مہینے یاسال میں کونسی کتاب کتنی ختم کروانی ہے . لیکن اگر وہ اسے مہینے اور ہفتوں کے اہداف میں نہیں توڑے، جس میں اسے پتا ہوکہ کب اسے کتنا پڑھادینا ،تو وقت کے اختتام پر ایک اضطرابی کیفیت سے دوچار رہے گا۔ انسان کو اپنی ذاتی زندگی میں بھی ان کا تعین کرنا چاہیئے لیکن یہ اہداف شفاف ہوں جس میں کسی قسم کا کوئی ابہام موجود نہیں ہو۔ پلاننگ میں سنجیدگی کے لیے کام کی نوعیت اور اس کی صحیح قیمت کا اندازہ ہونا بہت ضروری ہے۔

کسی بھی کام کو سر انجام دینے کا انحصار اس کام سے حاصل ہونے والی قیمت کا پر ہوتا ہے جس کا ادراک پلاننگ کرتے ہوئے کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ قیمت کبھی مادی ہوتی ہے کبھی روحانی اور کبھی انسانی۔ اگر کسی کو اپنے فعل سے حاصل ہونے والی قیمت کا صحیح ادراک نہیں ہو تو وہ اس عمل میں خود کو سنجیدہ نہیں کرپاتا ہے۔اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ ہم اپنی پلاننگ میں نوکری کے حوالے عمومی طورپر کوئی کوتاہی نہیں کرتے ۔ کیونکہ ہمیں اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ نوکری کے اوقات سے حاصل ہونے مادی قیمت کتنی اہم ہے۔ اب کوئی شخص صرف مادی قیمت کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہی پلاننگ کرے تو وہ ان تمام اعمال میں سنجیدہ نہیں ہو پاتا جس سے اسے مادی قیمت حاصل نہیں ہورہی ہو۔ یہ مسئلہ عمومی طور پر ذاتی پلاننگ کرنے میں آتا ہے کیونکہ انسان خود صرف ایک جگہ ایک ہی قیمت کے حصول کے لیے اپنا کردار ادانہیں کرتا بلکہ وہ کئی ایک جگہ مختلف قیمتوں کے حصول کے لیے موجودہوتا ہے۔اسلیے انسان کی اپنی پلاننگ کے لیے ضروری ہے کہ اسے اپنے اعمال کی قیمت کا مکمل ادراک ہو .

ورنہ وہ اس فعل میں خود کو سنجیدہ نہیں کرپائے گا۔ اس کے بعد پلاننگ کرنے میں ترجیحات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس کی سب بڑی وجہ تو یہی ہے کہ وقت محدود ہے اور اس محدود وقت میں کئی افعال کو سمیٹنا ہے۔ اس لیے پلان کو ترجیحی بنیادپر مرتب کرنا بھی کامیاب پلانگ کے لیے ضروری ہے۔ ترجیح کا صحیح تعین وقت اور نظریہ کرتے ہیں ۔ مثال کے طورپرکسی طالبعلم کا اگلے روز امتحان ہو تو اس کا جتنا بھی قریبی دوست کیوں نہ بلائے ، وہ نہیں جائے گا۔ اکثرلوگ اپنے بچوں کے امتحانات کے موقع پر تقریبات میں بھی جانے سے گریز کرتے ہیں ۔ اسکی وجہ یہی ہوتی ہے کہ ابھی وقت امتحان کا ہے ، تو ترجیح پڑھائی کو دی جائے گی۔ دوسرا نظریہ ہے جو کسی بھی کام کے اہم اور غیر اہم ہونے کا تعین کرتا ہے۔ انسان اپنی ذاتی پلاننگ میں اپنی نظریاتی بنیادوں پر ہی ترجیح کا تعین کرتے ہیں ۔ ایک شخص جو اسلامی نظریات کا حامی ہے اس کی ہفتہ وار پلاننگ میں ایسی محفلیں ، اجتماع اور ملاقاتیں اہم ہونگی جو اس کے نظریاتی تقویت کا باعث ہوں۔

اس کی پلاننگ میں عبادات کا خاص خیال رکھا گیا ہوگا اور اسے اپنے کاندھوں پر پڑی ذمہ داریوں کا بخوبی اندازہ ہوگا اسلیے اس کی نوکری اور تمام کام مکمل ترجیحات پر طے کیے گئے ہونگے۔ اس کے برعکس سیکولر نظریے کا حامی انسان اپنی ترجیحات میں بالکل مختلف سوچ رکھتا ہوگا۔ خود پر قابوایک ایسا معاملہ ہے جس میں پہلے کی گئی کچھ گفتگو کے ساتھ انسان کی ذاتی فطرت کابھی گہرا عمل دخل ہوتا ہے۔ اکثر لوگ یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہماری پلاننگ نیند کی وجہ سے خراب ہوجاتی ہے۔ صبح سے پلاننگ کا آغاز کرناہوتا ہے مگر منصوبے سے کب پیار ہے، ہاں نیندتمہیں پیاری ہے۔ یا پھر ایک مسئلہ یہ بھی آتا ہے کہ انسان اپنی ترجیح کاتعین کرتے ہوئے پلان بنا لیتا ہے لیکن جب اس پرعمل کی باری آتی ہے تو ترجیح سے ہٹ کر کوئی اور کام سرانجام دیتا ہے۔اس کے حل کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے کہ انسان خودپر قابو پانے اورایسے تمام عوامل ختم کرنے کی کوشش کرے جو اس کی پلاننگ کو ناکام بنارہے ہیں ۔

جب تک وہ ایسا نہیں کر پا رہا تب تک بالخصوض وہ ایسے کام کرے جس سے وہ فطری طور پراپنے منصوبے کوپوراکرنے میں کامیاب ہوجائے۔جیسے اکثر لوگ خصوصاً نوجوان جو اپنی نیندکی وجہ سے اپنے کام نہیں کرپاتے وہ اپنے سونے کے اوقات درست کرنے کے ساتھ اٹھنے کے لیے دوسرے افرادکاسہارالیں اورغیر یقینی تعداد میں الارم سے مستفید ہوں۔ اپنے دائرہ احباب میں صرف ایسے افرادکو رکھیں جوآپ کی ترجیحات کا تعین کرنے اور اس پرقائم رہنے میں آپ کی مدد کریں۔یہ سارے کام کرنے بعد آپ ایک بہتر منصوبہ بندی کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ لیکن بہتر پلاننگ کوکامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ جتنی مدت کے لیے پلاننگ کی گئی ہے اس کے اختتام پر ایک احتساب کیا جائے اور پرکھا جائے کہ منصوبہ بندی کتنی کامیاب ہوئی اورکتنی ناکام۔ ناکامی کی صورت میں دوبارہ سے تمام نکات پر غور کیا جائے ۔ یہاں ذاتی پلاننگ کی بات کی گئی ہے تو احتساب بھی خود ہی کیاجائے گا۔ طے شدہ مدت میں پلاننگ پر مکمل عمل کرلیا گیا تو پلاننگ کامیاب رہی لیکن اگراس میں کسی قسم کمی موجود ہے تو اپنی کوتاہی تو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */