پہاڑوں کا بیٹا - واصف بٹ

دل اب بھی اس گمان سے خود کو بہلا رہا ہے کہ وہ کہیں دور، دشمن کی نظر سے محفوظ و مامون ہے. وہ شخص ہی ایسا تھا کہ اس کے کوچ کر جانے کی خبر کا عین الیقین ہو چکنے کے باوجود بھی قلب کی اتھاہ گہرائیوں سے اس کی سلامتی کے لیے دعائیں بےاختیار نکل رہی ہیں.

وہ شخص شوق کا عنوان تھا. سچ جانو اس کی مفارقت نے اس شوق میں کئی گنا اضافہ ہی کیا ہے. وہ شادابی دل اور تفریحِ نظر کا سامان تھا. ظلم کی سیاہ شب میں بھٹکے دل فگاروں اور رنجیدہ خاطروں کے درد کا وہ درماں بننے لگا تھا. وہ مجبوروں کے درد سے معمور دلوں میں مدفون کچھ حسین خوابوں کی تعبیر نو تھا. وہ امیدوں اور آرزوؤں کا مرکز و محور بنتا جا رہا تھا. وہ فرد کے دائرے سے خراماں خراماں نکل کر ایک تحریک کا روپ دھارتا جارہا تھا. وہ اک متاعِ بےپایاں اور مظلوموں اور مقہوروں کی ایک مشترکہ جاگیر کی حیثیت سے موسوم ہوا جارہا تھا. وہ سیاہ شب میں اپنی مشعلِ قلم جلائے افسردہ قلب جگمگانے آیا تھا. وہ دورِ خزاں میں بہارِ لازوال کی ایک خوش کن نوید تھا. وہ بجھی اور ویران و پریشان بزم میں چراغاں کرنے آیا تھا. وہ ٹوٹی طنابیں اپنے سریلے نغموں سے جوڑنے آیا تھا. افسوس کہ انجم کے جھرمٹ میں یہ ٹمٹماتا ستارہ ابھرنے سے پہلے ہی غروب ہو گیا. 4 جنوری سے 11 اکتوبر تک کا سفرِ مسعود مصائب و مشکلات سے بھرپور وادی لولاب میں مرگ و حیات سبھی اسرار و رموز اپنے ساتھ سمیٹے اپنے اختتام کو پہنچا.

وہ خوبصورت اور خوش اندام نوجوان اپنے وطن کے ہر باسی کو عزیز تھا. کیوں نہ ہوتے کہ وہ علی گڑھ میں اپنی ڈاکٹریٹ چھوڑ کر اپنی مادر وطن کو بھارتی طوق و سلاسل سے چھٹکارا دلانے ہر چیز ترک کر کے اپنا حصہ ڈالنے آیا تھا. وہ 'شاید' اپنے حصے کا کام کر گیا. 'شاید' اس لیے کہ یہاں ہر ایک کی حسرت ہے کہ وہ اور بھی بہت کچھ کرتا، اگر محیی و ممیت کی طرف سے اسے چند اور ساعتیں عطا ہوتیں.

وہ عجیب و غریب نوجوان تھا. اس کے خون میں آگ کی سی حرارت تھی. اس کا دل جذبہ صادق سے معمور تھا. اس کے کلام میں بلا کی تاثیر تھی. اس کے نطق میں غضب کی طاقت تھی. وہ دشمن کی سازشوں اور اس کے مقامی سہولت کاروں کی منافقت کا پردہ خوبصورتی سے چاک کرتے ہوئے ان کے اندرون ہمارے سامنے رکھتے ہوئے بہت سوں کی نیندیں حرام کر بیٹھا تھا. وہ بہت بظاہر 'غیر جانبدار' نظر آنے والوں کی آنکھوں میں چشم زدن کھٹکنے لگا تھا. اس کی تحریریں ان کے شریر اور دل و دماغ کو چبھنے لگیں تھیں. اس بےچینی میں وہ کروٹیں بدلتے دیکھے گئے. لیکن ان کی نادر عقل و دانش کے سامنے اس کی زبانیں گنگ ہو گئی تھیں. ان کے قلم کی سیاہی خشک پڑ گئی تھی. خاموشی اتنی دراز ہوگئی کہ اس مرد حر کی شہادت کے ساتھ ہی ان کے قلم رطب و یابس اور زبانیں پاگلیات بکنا شروع ہوگئیں.

یہ بھی پڑھیں:   تالے میں بند کشمیر کی کوئی خبر نہیں - رویش کمار

وہ جرات و ہمت کا ایک بھرپور خزینہ تھا. وہ فکر و عمل سے ایک آزاد روح تھی. تبھی تو اتنے بڑے اور طاقتور اسٹیٹ سے لڑائی مول لی. اس غیر معمولی شجاعت و غیرت کی مظہر ان کی یہ سطریں ہیں جو آبِ زر سے لکھے جانے کی قابل ہیں: "جب قابض غیر مہذب اور وحشی ہو، اس کا اجتماعی ضمیر خوں آشام ہو، اس کی اخلاقیات دھوکہ اور فریب ہو، اس کی ذہنیت غالبانہ، توسیع پسندانہ ہو اور وہ بندوق کی نالی سے سوچتا ہو تو ایسے میں پرامن مذاکرات حل نہیں ہو سکتا. ضروری ہے کہ اس کا گھمنڈ اور غرور توڑا اور کچلا جائے."

میری ان سے کوئی خاص شناسائی نہیں تھی. ہاں البتہ یہ رشتہ ضرور تھا کہ وہ بھی میری طرح ایک وسیع و عریض زنداں کا ایک اسیرِ بےتقصیر تھا. محصوری کی کڑی اس ساری محبت کی بنیاد تھی. اس ناطے کو چھوڑ کر سوشل میڈیا پر اکثر ان کی تحریریں آنکھوں سے ٹکرا کر قلب کی تاروں سے لمس کرتیں. ان کی خودکلامیاں ان کی دانائی اور بینائی کی آئینہ دار ہوتی تھیں. ان کی ہم کلامیاں حالات و واقعات کا صحیح فہم لیے انسان کو سوچ و بچار پہ مجبور کر دیتیں. برصغیر کے مسلمانوں کی حالت زار بالخصوص اور مسلمانان عالم کی زبوں حالی بالعموم اکثر ان کے دردمند قلم کو حرکت دینے پر مجبور کرکے اظہارِ غم کا موقع ڈھونڈ لیتا. قصہٌ سازشِ اغیار کا ذکر کرتے ہوئے شکوہ یارِ طرحدار کو بھی فراموش نہیں ہونے دیتے. تقریر و تحریر کی صلاحیت سے لیس آہنی کلیجہ رکھنے والا ایک ہردم متحرک نوجوان تھا.

انہیں ظلم کے چھاوں کی زندگی راس نہیں آئی. انہیں راہِ مفر نہیں سوجھی. انہیں آدابِ غلامی کا پابند ہونا نہیں بھایا. میدان کا رخ کرنے والے سرفروشوں پہ طنز و مذاق کی بارشیں کرنے والے بظاہر آزادی پسند مگر حقیقتاً غلامی پہ قانع لوگوں کی پبھتیوں کا جواب محاذ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے خط میں یوں دلنشیں انداز میں دیتے ہیں: "مزاحمت مزاحمت ہوتی ہے. یہ کبھی پرامن اور پرتشدد نہیں ہو سکتی. دراصل تشدد یہ نہیں ہے کہ ہم نے بندوق (بھارتی) تسلط یا قبضہ کے خلاف اٹھائی ہے، بلکہ تشدد 12 لاکھ بھارتی فوج کی کشمیر میں موجودگی ہے. تشدد فوجی چھاؤنیوں، بنکروں، چوکیوں کی یہاں موجودگی ہے، اور قبضہ بذات خود بڑا تشدد ہے. اس لیے قبضہ و تسلط کی وکالت کرنے والوں کو "تشدد" اور "مدافعت" میں فرق کو سمجھ لینا چاہیے."

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ: کیا ہونے جا رہا ہے؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اس راہی نے اس راہ کا انتخاب کر کے اپنے خوں پا سے اسے عظیم تر اور کریم تر کردیا. ان نشانوں کی لٹے قافلے کے لیے تیرگی شب میں منزل تک پہنچنے کے لیے چراغوں کی حیثیت ہے. ان کے لوٹ کر جانے نے جو غم دیا ہے، یہی غم ان شاء اللہ سحر کا یقین بنے گا. آزادی کا عشق و جنون دل میں سمائے اسلام کی رہبری کے سائے تلے انہوں نے اپنے اختیار میں ہر طاقت کو استعمال میں لا کر بازی لگالی. حالات ناموافق تھے لیکن یہ دل و جان کی متاع بیچ آئے. میدان وفا میں لہو کے آخری قطرے اس امید پر بہائے کہ چند خارِ مغیلاں ہی سہی مگر سیراب تو ہوں گے. ان کے ہجر سے گویا چمن پر برق سی گرگئی لیکن کمال یہ کہ رونقِ خاکِ وطن دوبالا ہوتی محسوس ہو رہی ہے.