جمہوری نظام ہے یا مکڑی کا جالا - نصیر اللہ خان ایڈووکیٹ

سابقہ حکومتوں کے کارستانیوں پر ملک کے مختلف عدالتوں میں سیاسی پارٹیوں نے ایک دوسرے کے خلاف کرپشن اور ناجائز اختیارات استعمال کرنے کے مقدمات بنائے۔ اس قسم کے مقدمات کو پولیٹیکل وکٹمائزیشن بھی کہتے ہیں۔ یہ مقدمات سیاسی بغض و عناد، سیاسی فائدے، انتقام، نظریاتی و فکری بنیادوں پر قائم کئے گئے۔ مقدمات کا اصل مقصد یہ تھا کہ ہم ہی ملک میں اصل تبدیلی لا سکتے ہیں۔ جبکہ سیاسی مخالف اس کا روادار ہی نہیں، انہوں نے اس ملک کو تباہ و برباد کیا۔ اپنے آپ کو جمہور پر مقدم رکھا۔ ذاتی فائدے اٹھائے اور محلات بنائے۔ کرپشن کی اور اپنا کاروبار بنایا۔ اداروں کو آپس میں ملی بھگت کر کے چلایا۔ اپنی کرسی اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ ان جیسے دیگر الزمات ہر نئی حکومت لگاتی رہتی ہے۔

حکومت کے چار ستون ہیں۔ میڈیا کو چھوڑ کر دراصل حکومت، مقننہ، عدالت اور ایگزیکٹو پر مبنی ہوتی ہے۔ اس کو یوں سمجھیے کہ مقننہ قانون بناتی ہے، عدالت اس قانون کی تشریح کا فریضہ نبھاتی ہے اور ایگزیکٹو اس پر عملدرآمد کرواتی ہے۔ نیز میڈیا عوامی مسائل اور آگاہی کا پرچار کرتا ہے۔ دوسری طرف ریاست حکومت، عوام، زمین اور ہوا پر مشتمل ہوتی ہے۔ فی زمانہ ریاست زمین کے ٹکڑے کا نام ہے جہاں عوام حکومت بناتے ہیں۔ اس ریاست میں عوام کو معاہدوں کے زور پر ایک دوسرے کے ساتھ پیوست رکھا جاتا ہے۔ قانونی کارفرمائی مقتدر قوتوں کے اقتدار اعلی پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ طاقت عوام بخشتی ہے اور خود کو اس کا پابند گردانتی ہے۔ مقتدر طبقات حاکم بھی کہلائے جاتے ہیں۔ ان کے منہ سے نکلا ہوا لفظ قانون کا درجہ رکھتا ہے۔ قانون کو نافذ العمل بنانے کے لیے جیسے بتایا گیا کہ ادارے عمل میں آتے ہیں اور وہی اس کو نافذ کرتے ہیں۔

اب ہوتا کیا ہے؟ سب جانتے ہیں کہ مروجہ پاکستانی ڈھانچے میں جمہور کا نظام نام نہاد جمہوریت کہلاتی ہے۔ اصل حکمرانی عوامی نمائندگان کو حاصل ہوتی ہے۔ یہ وہی نمائندگان ہیں جو اصل میں سیم و زر کے مالک ہوتے ہیں۔ بالفاظ دیگر اس کو اشرافیہ بھی کہتے ہیں۔ ملک کی آزادی سے لیکر تاحال یہی مقدر طبقہ حکمرانی کے مزے لوٹ رہا ہے۔ ایک دوسرا طبقہ بھی ہے جو بادشاہ گری کرتا ہے یعنی کنگ میکر ہوتا ہے، یہ کون ہے وہ آپ سب کو پتہ ہے۔ عملاً پاکستان پر بیس خاندانوں کی بادشاہت ہے جو حکومت و ریاست کے کرتا دھرتا اور عوام کے نگہبان قرار پاتے ہیں۔ عوام ہی ان بادشاہ گروں کو پارلیمنٹ اور سینٹ میں بھجواتے ہیں، کوئی اور چارہ بھی تو نہیں ہے۔ یہی صاحبان اپنے آلہ کار اور خواص کو منصب اور اختیارات دے کر اداروں میں من پسند ذمہ داریاں دیتے ہیں۔ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے قانون بناتے اور عوام کا خون چوسنے کے لیے ٹیکس عائد کرتے ہیں۔ میرٹ کی دھجیاں اڑانا ان کا شیوہ ہوتا ہے۔ رشوت اور سفارش ان کے خصلتیں ہیں۔ عوامی نمائندگی حاصل کرنے کی خاطر سرمایہ داری و جاگیرداری ہی اس کی اہلیت ٹھہرتی ہے۔ کسان اور مزدور کو اس دوڑ سے باہر رکھنا ہی نمائندگان اور کرتا دھرتاؤں کے پیش نظر ہوتا ہے۔ خوش کن نعروں اور تبدیلی کی نام نہاد دعویداری کرتے ہوئے عوام کو ورغلانا ان کا مشغلہ ہے۔ سفید جھوٹ کو بھی سچ بنانے کے ماہر ہوتے ہیں۔ عوام کو بھیڑ اور بکریاں سمجھتے ہیں۔ یہی نمائندگان باریاں لینے کے لیے معاہدے کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے برخلاف کام کرنےوالے کو غدار ٹھہراتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو جیل میں بند کرتے ہیں۔ ان پر ریاستی رٹ چیلنج ہونے کا دباؤ ڈال کر ان کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔ جو بہت بڑی کرپشن میں میں پکڑے جاتے ہیں، وہ قانونی سقم کا فائدہ اٹھا کر جیل سے باہر آجاتے ہیں۔ بعض اس پسماندہ و مجبور محض نظام کو چلانے کے لیے مذہب کی آڑ لیتے ہیں اور مذہبی نمائندگان کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہ سب باہمی رضامندی کے ساتھ کیا جاتا ہے تاکہ کسی طرح عوام کو اقتدار سے باہر اور مسلسل دھوکے میں رکھا جا سکے۔

یہ جمہوری نظام مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں صرف عوام ہی پھنستے ہیں۔ کارپوریٹ اور سرمایہ داروں سے اس کی گارنٹی لی جاتی ہے۔ انسانوں میں تفاوت کو درست مانا جاتا ہے۔ درحقیقت جمہوریت جو لبرل ازم اور سیکولر ازم کے پیروں پر کھڑا نظام ہے، اس میں مذہب کو ثانوی درجہ پر رکھا جاتا ہے۔ بلکہ مذہب کو بھی سرمایہ داری و جا گیر داری کے تابع رکھا جاتاہے۔ البتہ عوام میں ایک "ہوا" کھڑا کیا جاتا ہے کہ مذہب ہی اس ملک و آئین کا اصل الاصول ہے۔ اس سب کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ سماج میں بے چینی، بےروزگاری، گرانی اور افراط زر بڑھتی جا رہی ہے۔ امن و امان کے مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ مذہب بیزاری جبکہ دوسری طرف شدت پسندی کا عنصر عفریت کی طرح جڑیں پکڑنے لگتا ہے۔ مال و جان کی ذمہ داری ریاست کے بجائے افراد کی اپنی صوابدید پر ہوتا ہے۔ رشوت ستانی، اقربا پروری، سفارش، میرٹ کی پامالی عوام کا مقدر اور دل کا روگ بن جاتا ہے۔ ادارے دوسرے اداروں کے کام میں ٹانگیں اڑانا اپنا صوابدیدی حق مانتے ہیں۔ اس طرح کے معاشرے میں دھوکہ و فریب، تن آسانی، لالچ و حسد ثانونی خصلتیں روز بروز ترقی کرتی ہیں۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ جب ملکی نظام کے بنیادی نقائص اور مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے جاتے تو لامحالہ ان مشکلات سے سیاسی پارٹیوں سمیت عوام بھی متاثر ہوتے ہیں۔ ان حالات میں ہر کوئی دوسرے پر الزام لگاتا ہے۔ خرابی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹکہراتا ہے۔ سچائی اور کرپشن سے پاک شخصیت کا ہم نے کیا کرنا ہے۔ یہ نکتہ لیڈر کے ساتھ عام عوام کے ساتھ بھی نتھی کیا جا سکتا ہے۔ جب کسی لیڈر کے پاس وہ بصیرت، ویژن، ڈائریکشن نہ ہو اور نہ ہی منزل کا تعین ہی ہو۔ اس طرح کی سچائی اور کرپشن فری شخصیت کا اچار تو بن سکتا ہے لیکن اس ملک اور انفرادی معیشت کے لیے کوئی خاطرخواہ نتیجہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ معیشت، اقتصاد، زراعت، ٹیکنالوجیکل ترقی، قومی اتحاد، قومی وسائل، کنفیڈریشن، بنیادی حقوق اور پرنسپل پالیسی جیسے موٹے موٹے کام اور باتیں جدید جمہوری نظام کے وہ خالی خولی نعرے ہیں جس سے کسی کا پیٹ نہیں بھرا جا سکتا ہے۔ عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر ترقی کرنی ہے تو کم ازکم معاشرہ میں روزگار، تعلیم، صحت کی سہولت دی جائے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے بعد دوسرے مسائل کا نمبر آتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */