پیپلز پارٹی نے کبھی یوٹرن نہیں لیا؟ آصف محمود

بلاول بھٹو زرداری، مسند ارشاد جنہیں میراث میں آئی ہے، کس تجاہل عارفانہ سے فرماتے ہیں: پیپلز پارٹی نے کبھی یوٹرن نہیں لیا۔ قائم علی شاہ صاحب کے زمانوں کے بیان کا تو شاید محل نہ ہو جب ڈکٹیٹر ڈیڈی ہوا کرتا تھا اور قائد عوام صدارتی انتخابات میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کے مقابل ایک ڈکٹیٹر کے چیف پولنگ ایجنٹ کے منصب جلیلہ پر فائز ہوا کرتے تھے، لیکن یہ دیکھ لینے میں تو کوئی مضائقہ نہیں ہوگا کہ پیپلز پارٹی دور جدید میں کوئی یوٹرن لیے بغیر سیاست کے صراط مستقیم پر کس استقامت سے گامزن ہے۔

بے نظیر بھٹو شہید ہوئیں تو تیسرے ہی روز جناب آصف زرداری نے کہہ دیا کہ الیکشن میں فتح کی صورت میں مخدوم امین فہیم وزیر اعظم ہوں گے۔ لیکن پھر ایک روز زرداری صاحب نے مخدوم صاحب کو یاد فرمایا۔ معتبر راوی روایت کرتے ہیں کہ زرداری صاحب کے لیے مخدوم امین فہیم کا سامنا کرنا اس روز مشکل ہو رہا تھا۔ انہوں نے ملاقات میں اپنی ہمشیرہ فریال تالپور کو بھی بٹھا لیا اور امین فہیم سے کہا کہ وہ انھیں وزارت عظمی کے لیے نامزد نہیں کر سکتے، اس لیے بہتر ہے کہ وہ خود ہی دستبردار ہو جائیں۔ امین فہیم نے یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا، اور کہا آصف زرداری خود وزارت عظمی کے امیدوار بننا چاہتے ہیں تو ابھی دستبردار ہونے کو تیار ہوں لیکن کسی اور کو بنانا چاہتے ہیں تو دستبرداری ممکن نہیں۔ بلاول بھٹو صاحب کیا فرماتے ہیں بیچ اس مسئلے کے، یہ یوٹرن نہیں تھا؟ ہاں یوٹرن نہیں، شاید یہ اباؤٹ ٹرن تھا جو اتنی تیزی سے لیا گیا کہ کہنی امین فہیم کی پسلیوں میں جا لگی۔

اس فیصلے کی شان نزول بھی کمال کی تھی۔ مخدوم صاحب سے کہا گیا ہم تو آپ کو وزیر اعظم بنانا چاہتے ہیں لیکن نواز شریف اس کے لیے راضی نہیں۔ امین فہیم نے وجہ پوچھی تو بتایا گیا کہ آپ پرویز مشرف کے ساتھ رابطے میں رہے، اس لیے میاں صاحب کو آپ پر بھروسہ نہیں۔ امین فہیم نے کہا آپ خوب جانتے ہیں میں پرویز مشرف سے کس کے کہنے پر ملا اور کیوں ملا؟ مجھے تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے ہدایت کی تھی اور آپ اس حقیقت سے آگاہ ہیں۔ کیا میں نے کوئی ذاتی مفاد لیا؟ کیا مجھ پر کوئی مقدمہ تھا جو میں نے ختم کروایا؟ این آر او ہوا تو اس کا فائدہ بھی آپ ہی کو ہوا۔ لیکن قیادت جب یوٹرن لینے پر تُل چکی ہو تو دلائل کا پہاڑ بھی بےکار ثابت ہوتا ہے۔ اب راز کی یہ بات بلاول بھٹو ہی بتائیں کہ قیادت پہلے ایک آدمی کے ذمے ایک کام لگائے اور کام ہو جانے پر اسی آدمی کو مورد الزام ٹھہرا تے ہوئے منصب کے لیے نا اہل قرار دے ڈالے تو یہ ناک کی سیدھ میں اصولوں کا سفر ہوگا یا ڈی چوک سے آگے شاہراہ دستور پر لیا گیا ’یو ٹرن‘ کہلائے گا ؟

یہ بھی پڑھیں:   قطرہ قطرہ پگھلتی ’’پی ٹی آئی‘‘ - حسن نثار

آصف زرداری نے نواز شریف کو مخلوط حکومت میں شامل کرنا چاہا تو نواز شریف نے عدلیہ کی بحالی کی شرط رکھی۔ آصف زرداری نے اسے تسلیم کر لیا اور ایک مشترکہ پریس کانفرنس کر کے اس بات کا اعلان کیا گیا۔ لیکن پھر کیا ہوا؟ آصف زرداری اپنے وعدے سے مکر گئے۔ کسی نے انہیں وعدہ یاد دلایا تو صاحب نے جواب دیا: وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے۔ اب جناب بلاول ہی رہنمائی فرمائیں تو معلوم ہو کہ معلوم انسانی تاریخ میں کسی اور نے بھی اتنا خوفناک یوٹرن لیا تھا یا یہ اعزاز ان کے ابا حضور ہی کے حصے میں آیا تھا؟ کیا بلاول بھٹو کو معلوم ہے کہ مسلم لیگ ن اس مخلوط حکومت سے الگ کیوں ہوئی تھی؟ وہ اگر بھول چکے ہوں تو انہیں معلوم ہونا چاہیے، اس کی وجہ ان کے والد بزرگوار کا یہی یوٹرن تھا۔ خود محترمہ بےنظیر بھٹو پاکستان آئیں تو جسٹس کالونی کی دہلیز پر کھڑے ہو کہا کہ ہم اقتدار میں آ کر ججوں کو بحال کریں گے لیکن ان کے لہو کے صدقے اقتدار حاصل کرنے والے اس وعدے سے مکر گئے۔ بلاول ہی اب قوم کی رہنمائی فرمائیں کہ وہ یوٹرن نہیں تھا تو کیا تھا؟ پھر جب لاہور سے ایک لانگ مارچ چلا تو مرد حُر کا حرف انکار جھاگ کی طرح تحلیل ہو گیا اور لانگ مارچ ابھی جہلم کے پُل پر نہیں پہنچا تھا کہ ججوں کو بحال کر دیا گیا۔ اب کیا فرماتے ہیں بلاول بھٹو اوپر تلے دو یوٹرن لے لیے جائیں تو کیا اسے سیدھے راستے کی مسافت کہا جائے گا؟

ابھی کل ہی کی بات ہے، عمران خان الیکشن جیتے تو ن لیگ اور مولانا فضل الرحمن نے کہا اسمبلیوں کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ پیپلز پارٹی نے ایک فارمولا دیتے ہوئے کہا کہ انھیں اسمبلیوں میں جانا چاہیے۔ اس فارمولے کے تحت وزیر اعظم کے لیے ن لیگ نے امیدوار دینا تھا لیکن وزارت عظمی کی باری آئی تو پیپلز پارٹی نے شہباز شریف کو ووٹ دینے سے انکار کر دیا۔ کیا فرماتے ہیں بلاول بھٹو زرداری صاحب یہ ناک کی سیدھ کا سفر تھا یا اچانک ہی ایک یوٹرن لے لیا گیا تھا؟ اسمبلی میں عمران کو’ سیلیکٹڈ‘ وزیر اعظم کہا مگر چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں یوٹرن لیا اور سلیکٹڈ وزیراعظم کے پورچ میں گاڑی کھڑی کر دی۔

یہ بھی پڑھیں:   مایوس کن ردعمل - محمد عامر خاکوانی

نواز شریف کا دور اقتدار ختم ہونے کے قریب پہنچا تو اپوزیشن کا تاثر دینے کے لیے بلاول نے چار شرائط پیش کرتے ہوئے کہا یہ پوری نہ ہوئیں تو لانگ مارچ ہوگا۔ کیا وہ ہماری رہنمائی فرمائیں گے وہ شرائط کیا ہوئیں اور وہ لانگ مارچ کس یوٹرن سے واپس چلا گیا؟ خود ہی سب سے پہلے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کی بات کی اور خود ہی یوٹرن لیتے ہوئے سینیٹ میں اس کے خلاف قرارداد پیش کروادی۔

پیپلز پارٹی کا 2008 کا انتخابی منشور دیکھیے اور پھر پانچ سالوں کی کارکردگی پر نگاہ ڈالیے۔ کتنے ہی اقوال زریں تھے جو یوٹرن پر کچلے گئے۔ کہا قانون کی حکمرانی قائم کریں گے، پھر وزیر اعظم قربان کر دیا مگر سوئس حکام کو خط لکھنے کے لیے دیے گئے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ کیا۔ کہا افراط زر پر قابو پائیں گے اور پھر1947ء سے تب تک تاریخ کا دوسرا بدترین افراط زر انھی کے دور میں ہوا۔ کہا گیا جی ڈی پی بہتر کریں گے لیکن پاکستان کی تاریخ میں بد ترین شرح کا ریکارڈ قائم کر دیا گیا۔ جس وقت بھارت میں سات اعشاریہ آٹھ فیصد اور بنگلہ دیش میں چھ اعشاریہ آٹھ فیصد تھی، ہمارے ہاں محض دو اعشاریہ نو فیصد تھی۔ بجٹ خسارہ تاریخ میں سب سے زیادہ تھا۔ بس کر دیجیے صاحب، اس سے پہلے کہ ہاتھ کی لکیروں سے زائچے نکل آئیں۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.